مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ باب: واقعہ احد
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : عَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ ، فَقَالَ : " مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ ؟ " فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ ، فَمَا حَقُّهُ ؟ قَالَ : فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ فَخَرَجَ وَاتَّبَعْتُهُ ، فَجَعَلَ لَا يَمُرُّ بِشَيْءٍ إِلَّا أَفْرَاهُ وَهَتَكَهُ ، حَتَّى أَتَى نِسْوَةً فِي سَفْحِ الْجَبَلِ وَمَعَهُنَّ هِنْدٌ وَهِيَ تَقُولُ . ¤ نَحْنُ بَنَاتُ طَارِقْ نَمْشِي عَلَى النَّمَارِقْ وَالْمِسْكُ فِي الْمَفَارِقْ ¤ إِنْ تُقْبِلُوا نُعَانِقْ أَوْ تُدْبِرُوا نُفَارِقْ ¤ فِرَاقَ غَيْرِ وَامِقْ ¤ قَالَ : فَحَمَلْتُ عَلَيْهَا فَنَادَتْ بِالصَّحْرَاءِ فَلَمْ يُجِبْهَا أَحَدٌ فَانْصَرَفْتُ عَنْهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : كُلَّ صَنِيعِكَ رَأَيْتُهُ فَأَعْجَبَنِي غَيْرَ أَنَّكَ لَمْ تَقْتُلِ الْمَرْأَةَ ، قَالَ : فَإِنَّهَا نَادَتْ فَلَمْ يُجِبْهَا أَحَدٌ ; فَكَرِهْتُ أَنْ أَضْرِبَ بِسَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةً لَا نَاصِرَ لَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے دن تلوار آگے کی ، اور ارشاد فرمایا : کون اس تلوار کو اس کے حق کے ہمراہ حاصل کرے گا ؟ تو سیدنا ابودجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس کے حق کے ہمراہ اسے لوں گا ، اس کا حق کیا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار انہیں دیدی ، وہ اسے لے کر روانہ ہوئے میں ان کے پیچھے گیا ، وہ جس بھی چیز کے پاس سے گزرتے تھے ، اسے چیر دیتے تھے اور پھاڑ دیتے تھے ، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے دامن میں موجود کچھ خواتین کے پاس آئے ، ان خواتین کے ساتھ ” ہند “ بھی موجود تھی ، جو یہ اشعار پڑھ رہی تھی : ” ہم طارق ( نامی ستارے ) کی بیٹیاں ہیں ( یعنی بلند مرتبہ کی مالک ہیں ) اور ہم قالینوں پر چلتی ہیں ، ہماری مانگ میں مشک لگی ہوتی ہے ، اگر تم پیش قدمی کرو گے تو ہم گلے لگائیں گی ، اور اگر تم پیٹھ پھیر لو گے تو ہم جدا ہوائیں گی ، ایسی جدائی جو کسی شک کے بغیر ہو ، ( یا ایسی جدائی جس کے بعد محبت نہ ہو سکے ) “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ان صاحب نے اس خاتون پر تلوار سونتی ، تو اس نے صحراء میں بلند آواز میں پکارا ، لیکن کسی نے اسے جواب نہیں دیا ، تو پھر ان صاحب نے وہ تلوار اس خاتون کو نہیں ماری ، میں نے ان سے کہا: آپ نے جو کچھ بھی کیا ، وہ مجھے اچھا لگا لیکن مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ آپ نے اس عورت کو قتل نہیں کیا ، انہوں نے فرمایا : اس عورت نے پکارا تھا ، لیکن کسی نے اسے جواب نہیں دیا ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں اللہ کے رسول کی تلوار کے ذریعے کسی ایسی عورت پر ضرب لگاؤں ، جس کا کوئی مددگار نہ ہو ۔