حدیث نمبر: 10082
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ : قَالَ الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ : سَأَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ فِي الشِّعْبِ : " هَلْ رَأَيْتَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُهُ عَلَى جَرِّ الْجَبَلِ وَعَلَيْهِ عَسْكَرٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَهَوَيْتُ فَرَأَيْتُكَ فَعَدَلْتُ إِلَيْكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُقَاتِلُ مَعَهُ " ، قَالَ الْحَارِثُ : فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَجِدُهُ بَيْنَ نَفَرٍ سَبْعَةٍ صَرْعَى ، فَقُلْتُ لَهُ : ظَفِرَتْ يَمِينُكَ ! أَكُلَّ هَؤُلَاءِ قَتَلْتَ ؟ ! قَالَ : أَمَّا هَذَا لِأَرْطَاةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، وَهَذَا فَأَنَا قَتَلْتُهُمَا ، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَقَتَلَهُمْ مَنْ لَمْ أَرَهُ ، قُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ‌‌‌‌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حارث بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : ” غزوۂ احد کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھاٹی میں موجود تھے ، تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم نے عبدالرحمن بن عوف کو دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میں نے انہیں پہاڑ کے زیریں حصے میں دیکھا ہے ، مشرکین نے انہیں گھیرا ہوا تھا ، میں پہلے ان کی طرف بڑھنے لگا تھا ، پھر میں نے آپ کو دیکھ لیا ، تو میں آپ کی طرف آ گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فرشتے اس کے ساتھ لڑائی کر رہے ہیں ، سیدنا حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ، پھر واپس سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس گیا میں نے انہیں پایا کہ وہ سات دشمنوں کے درمیان موجود تھے ، جو پچھاڑے جا چکے تھے ، میں نے ان سے کہا: آپ کامیاب ہو گئے ہیں ، کیا ان سب کو آپ نے قتل کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جہاں تک ارطاۃ بن شرحبیل اور اس شخص کا تعلق ہے ، تو ان دونوں کو میں نے قتل کیا ہے ، لیکن جہاں تک باقی افراد کا تعلق ہے ، تو انہیں جس نے قتل کیا ہے ، میں نے اس کو نہیں دیکھا ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10082
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1792) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3385)»