مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ باب: واقعہ احد
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الَعْاصِ قَالَ : كَتَبَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : سَلَامٌ عَلَيْكَ ، أَمَّا بَعْدُ : فَقَدْ جَاءَنِي كِتَابُكَ بِذِكْرِ مَا جَمَعَتِ الرُّومُ مِنَ الْجُمُوعِ ، وَإِنَّا لَمْ يَنْصُرْنَا اللَّهُ مَعَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَثْرَةِ عُدَدٍ ، وَلَا بِكَثْرَةِ جُنُودٍ ، فَقَدْ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا مَعَنَا إِلَّا فُرَيْسَاتٌ ، وَإِنْ نَحْنُ إِلَّا نَتَعَاقَبُ الْإِبِلَ ، وَكُنَّا يَوْمَ أُحُدٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا مَعَنَا إِلَّا فَرَسٌ وَاحِدٌ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْكَبُهُ ، وَلَقَدْ كَانَ يَظْهَرُنَا ، وَيُعِينُنَا عَلَى مَنْ يُخَالِفُنَا . ¤ وَاعْلَمْ - يَا عَمْرُو - إِنَّ أَطْوَعَ النَّاسِ لِلَّهِ : أَشَدُّهُمْ بُغْضًا لِلْمَعَاصِي ، فَأَطِعِ اللَّهَ وَأْمُرْ أَصْحَابَكَ بِطَاعَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الشَّاذَكُونِيُّ ، وَالْوَاقِدِيُّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا : ” تم پر سلام ہو ! اما بعد ! تمہارا مکتوب میرے پاس آیا ، جس میں تم نے یہ ذکر کیا ہے کہ رومیوں نے اپنے لشکر جمع کر لئے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ہمراہ ہم لوگوں کی مدد ، تعداد کی کثرت کے ذریعے ، یا لشکروں کی کثرت کے ذریعے نہیں کی تھی ، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے تھے ، تو ہمارے ساتھ چند ایک گھوڑے ہوتے تھے اور اونٹوں پر بھی ہم باری ، باری سوار ہوا کرتے تھے ، غزوہ اُحد کے دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہمارے ساتھ صرف ایک گھوڑا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار تھے ، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمارے مخالفین پر ہمیں غالب کیا اور ہماری مدد کی ۔ اے عمرو ! تم یہ بات جان لو ! اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ فرمانبردار وہ شخص ہے ، جو گناہوں سے سب سے زیادہ بغض رکھتا ہو ، تو تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو ، اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس کی اطاعت کا حکم دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شاذ کونی ہے اور ایک راوی واقدی ہے ، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔