مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ باب: واقعہ احد
وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ : أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْسٌ ، فَدَفَعَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ ، فَرَمَيْتُ بِهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى انْدَقَّتْ سِنَّتُهَا ، وَلَمْ أَزَلْ عَلَى مَقَامِي نُصْبَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَلْقَى السِّهَامَ بِوَجْهِي ، كُلَّمَا مَالَ سَهْمٌ مِنْهَا إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَيَّلْتُ رَأْسِي لِأَقِيَ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَا رَمْيٍ أَرْمِيهِ ، فَكَانَ آخِرُهَا سَهْمًا بَدَرَتْ مِنْهَا حَدَقَتِي بِكَفِّي ، فَسَعَيْتُ بِهَا فِي كَفِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي كَفِّي دَمَعَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّ قَتَادَةَ قَدْ أَوْجَهَ نَبِيَّكَ بِوَجْهِهِ ، فَاجْعَلْهَا أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ وَأَحَدَّهُمَا نَظَرًا " ، فَكَانَتْ أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ ، وَأَحَدَّهُمَا نَظَرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کمان تحفے کے طور پر دی گئی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد کے دن مجھے دیدی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کے ذریعے تیر اندازی کی ، یہاں تک کہ اس کا تار ٹوٹ گیا ، میں اپنی جگہ پر کھڑا رہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود رہا ، تاکہ اپنے چہرے کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تیروں سے بچا سکوں ، جب بھی کوئی تیر ایک طرف سے ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی طرف جاتا تھا ، تو میں اپنے سر کو اس طرف مائل کر دیتا تھا ، تاکہ تیراندازی کیے بغیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو بچا سکوں ، ان میں سے جو آخری تیر تھا ، وہ میری آنکھ پر لگا ، میں نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اس کو بچانے کی کوشش کی تھی ، میں اس کو ہتھیلی پر رکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھاگا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے میری ہتھیلی پر ملاحظہ فرمایا ، تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، آپ نے فرمایا : اے اللہ ! قتادہ نے اپنی ذات کے ذریعے تیرے نبی کو بچایا ہے ، تو اس کی آنکھوں کو سب سے زیادہ خوبصورت اور اس کی نظر کو سب سے زیادہ تیز کر دے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن کی آنکھیں سب سے زیادہ خوبصورت تھیں اور ان کی نظر سب سے زیادہ تیز تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔