«أنت أخونا ومولانا - قاله لزيد بن حارثة -»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ (آزاد کردہ غلام اور دوست) ہو۔ (یہ بات آپ ﷺ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمائی)۔“
”تم ہمارے بھائی اور ہمارے مولیٰ (آزاد کردہ غلام اور دوست) ہو۔ (یہ بات آپ ﷺ نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمائی)۔“
«أنت إمامهم واقتد بأضعفهم واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم ان کے امام ہو، لہٰذا ان میں سے سب سے کمزور شخص کی رعایت کرتے ہوئے نماز پڑھاؤ، اور ایسا مؤذن مقرر کرو جو اپنی اذان پر کوئی اجرت نہ لے۔“
”تم ان کے امام ہو، لہٰذا ان میں سے سب سے کمزور شخص کی رعایت کرتے ہوئے نماز پڑھاؤ، اور ایسا مؤذن مقرر کرو جو اپنی اذان پر کوئی اجرت نہ لے۔“
«أنت رفيق والله الطبيب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم (محض) دلجوئی اور نرمی کرنے والے ہو، اور حقیقی طبیب (شفاء دینے والا) تو اللہ ہی ہے۔“
”تم (محض) دلجوئی اور نرمی کرنے والے ہو، اور حقیقی طبیب (شفاء دینے والا) تو اللہ ہی ہے۔“
«أنت عتيق الله من النار» - قاله لأبي بكر -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم جہنم کی آگ سے اللہ کے آزاد کردہ ہو۔ (یہ بات آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمائی)۔“
”تم جہنم کی آگ سے اللہ کے آزاد کردہ ہو۔ (یہ بات آپ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمائی)۔“
«أنت مع من أحببت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم (قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم نے محبت کی۔“
”تم (قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم نے محبت کی۔“
«أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم مجھ سے وہی مقام رکھتے ہو جو ہارون (علیہ السلام) کو موسیٰ (علیہ السلام) سے حاصل تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“
”تم مجھ سے وہی مقام رکھتے ہو جو ہارون (علیہ السلام) کو موسیٰ (علیہ السلام) سے حاصل تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔“
«أنت مني وأنا منك» - قاله لعلي -
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ (یہ بات آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمائی)۔“
”تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ (یہ بات آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمائی)۔“
«أنت ومالك لوالدك إن أولادكم من أطيب كسبكم فكلوا من كسب أولادكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے، بے شک تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ ترین کمائی میں سے ہے، لہٰذا تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔“
”تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے، بے شک تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ ترین کمائی میں سے ہے، لہٰذا تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔“
«أنتم أعلم بأمر دنياكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم اپنے دنیاوی معاملات کو زیادہ بہتر جانتے ہو۔“
”تم اپنے دنیاوی معاملات کو زیادہ بہتر جانتے ہو۔“
«أنتم الغر المحجلون يوم القيامة من إسباغ الوضوء...... ... »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم قیامت کے دن مکمل اور اچھی طرح وضو کرنے کے باعث روشن چہروں اور چمکتے ہوئے اعضاء والے ہو گے۔“
”تم قیامت کے دن مکمل اور اچھی طرح وضو کرنے کے باعث روشن چہروں اور چمکتے ہوئے اعضاء والے ہو گے۔“
«أنتم شهداء الله في الأرض والملائكة شهداء الله في السماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو اور فرشتے آسمان میں اللہ کے گواہ ہیں۔“
”تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو اور فرشتے آسمان میں اللہ کے گواہ ہیں۔“
«انتدب الله لمن خرج في سبيله لا يخرجه إلا إيمان بي وتصديق برسلي أن أرجعه بما نال من أجر أوغنيمة أو أدخله الجنة ولولا أن أشق على أمتي ما قعدت خلف سرية ولوددت أني أقتل في سبيل الله ثم أحيا ثم أقتل ثم أحيا ثم أقتل ثم أحيا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی ذمہ داری لے لی ہے جو اس کی راہ میں نکلے، جسے صرف مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق ہی گھر سے نکالے، کہ وہ اسے ثواب یا مالِ غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا یا پھر اسے جنت میں داخل کرے گا۔ اور اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی لشکر کے پیچھے نہ بیٹھتا، اور میری تو یہ تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں۔“
”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی ذمہ داری لے لی ہے جو اس کی راہ میں نکلے، جسے صرف مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق ہی گھر سے نکالے، کہ وہ اسے ثواب یا مالِ غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا یا پھر اسے جنت میں داخل کرے گا۔ اور اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی لشکر کے پیچھے نہ بیٹھتا، اور میری تو یہ تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں۔“
«انتسب رجلان على عهد موسى فقال أحدهما: أنا فلان ابن فلان حتى عد تسعة فمن أنت لا أم لك؟ قال: أنا فلان ابن فلان ابن الإسلام فأوحى الله إلى موسى أن قل لهذين المنتسبين: أما أنت أيها المنتسب إلى تسعة في النار فأنت عاشرهم في النار، وأما أنت أيها المنتسب إلى اثنين في الجنة فأنت ثالثهما في الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں دو آدمیوں نے اپنا نسب بیان کیا، ان میں سے ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں، یہاں تک کہ اس نے (اپنے کافر آباء میں سے) نو کا نام گنوایا، پھر اس نے کہا: تو کون ہے؟ تیری ماں نہ رہے! دوسرے نے جواب دیا: میں فلاں بن فلاں ہوں اور میں اسلام کا بیٹا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی کہ نسب پر فخر کرنے والے ان دونوں اشخاص سے کہہ دو: اے وہ شخص جس نے جہنم میں جانے والے نو آباء کی طرف اپنی نسبت کی ہے! تو ان میں جہنم میں جانے والا دسواں ہے۔ اور اے وہ شخص جس نے جنت میں جانے والے دو افراد کی طرف اپنی نسبت کی ہے! تو ان کے ساتھ جنت میں جانے والا تیسرا ہے۔“
”موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں دو آدمیوں نے اپنا نسب بیان کیا، ان میں سے ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں، یہاں تک کہ اس نے (اپنے کافر آباء میں سے) نو کا نام گنوایا، پھر اس نے کہا: تو کون ہے؟ تیری ماں نہ رہے! دوسرے نے جواب دیا: میں فلاں بن فلاں ہوں اور میں اسلام کا بیٹا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی کہ نسب پر فخر کرنے والے ان دونوں اشخاص سے کہہ دو: اے وہ شخص جس نے جہنم میں جانے والے نو آباء کی طرف اپنی نسبت کی ہے! تو ان میں جہنم میں جانے والا دسواں ہے۔ اور اے وہ شخص جس نے جنت میں جانے والے دو افراد کی طرف اپنی نسبت کی ہے! تو ان کے ساتھ جنت میں جانے والا تیسرا ہے۔“
«انتعلوا وتخففوا وخالفوا أهل الكتاب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جوتے پہنا کرو، اور موزے (خفین) پہنا کرو، اور اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو۔“
”جوتے پہنا کرو، اور موزے (خفین) پہنا کرو، اور اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو۔“
«انزعوا بني عبد المطلب! فلولا أن تغلبكم الناس على سقايتكم لنزعت معكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بنو عبدالمطلب! (زمزم کا) پانی کھینچو، اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ پانی پلانے کی اس خدمت میں تم پر غالب آ جائیں گے (اور اسے سنت سمجھ کر تم سے یہ حق چھین لیں گے)، تو میں بھی تمہارے ساتھ مل کر پانی کھینچتا۔“
”اے بنو عبدالمطلب! (زمزم کا) پانی کھینچو، اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ پانی پلانے کی اس خدمت میں تم پر غالب آ جائیں گے (اور اسے سنت سمجھ کر تم سے یہ حق چھین لیں گے)، تو میں بھی تمہارے ساتھ مل کر پانی کھینچتا۔“
«أنزل القرآن على سبعة أحرف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن مجید سات حروف (قراءتوں) پر نازل کیا گیا ہے۔“
”قرآن مجید سات حروف (قراءتوں) پر نازل کیا گیا ہے۔“
«أنزل القرآن من سبعة أبواب على سبعة أحرف كلها شاف كاف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن مجید سات دروازوں سے سات حروف (قراءتوں) پر نازل کیا گیا ہے، اور وہ سب کے سب شفا دینے والے اور کفایت کرنے والے ہیں۔“
”قرآن مجید سات دروازوں سے سات حروف (قراءتوں) پر نازل کیا گیا ہے، اور وہ سب کے سب شفا دینے والے اور کفایت کرنے والے ہیں۔“
«أنزلت صحف إبراهيم أول ليلة من شهر رمضان وأنزلت التوراة لست مضت من رمضان وأنزل الإنجيل لثلاث عشرة مضت من رمضان وأنزل الزبور لثمان عشرة خلت من رمضان وأنزل القرآن لأربع وعشرين خلت من رمضان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفے رمضان کی پہلی رات کو نازل کیے گئے، تورات رمضان کی چھ تاریخ گزرنے پر نازل کی گئی، انجیل رمضان کی تیرہ تاریخ گزرنے پر نازل کی گئی، زبور رمضان کی اٹھارہ تاریخ گزرنے پر نازل کی گئی، اور قرآن مجید رمضان کی چوبیس تاریخ گزرنے پر نازل کیا گیا۔“
”ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفے رمضان کی پہلی رات کو نازل کیے گئے، تورات رمضان کی چھ تاریخ گزرنے پر نازل کی گئی، انجیل رمضان کی تیرہ تاریخ گزرنے پر نازل کی گئی، زبور رمضان کی اٹھارہ تاریخ گزرنے پر نازل کی گئی، اور قرآن مجید رمضان کی چوبیس تاریخ گزرنے پر نازل کیا گیا۔“
«أنزلت علي آنفا سورة {ِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ِنَّ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ} أتدرون ما الكوثر؟ فإنه نهر وعدنيه ربي عليه خير كثير هو حوضي ترد عليه أمتي يوم القيامة آنيته كعدد النجوم فيختلج العبد منهم فأقول: رب إنه من أمتي فيقول: ما تدري ما أحدث بعدك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھ پر ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک سورت نازل ہوئی ہے: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ [سورة الكوثر: 1-3] کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ وہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اس پر بہت زیادہ بھلائی ہے، وہ میرا حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت پانی پینے آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے۔ پھر ان میں سے ایک بندے کو کھینچ کر الگ کر دیا جائے گا، تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! بے شک یہ تو میری امت میں سے ہے۔ تو وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے کہ اس نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“
”مجھ پر ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک سورت نازل ہوئی ہے: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ [سورة الكوثر: 1-3] کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ وہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اس پر بہت زیادہ بھلائی ہے، وہ میرا حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت پانی پینے آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے۔ پھر ان میں سے ایک بندے کو کھینچ کر الگ کر دیا جائے گا، تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! بے شک یہ تو میری امت میں سے ہے۔ تو وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے کہ اس نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔“
"أنزل علي آيات لم ير مثلهن قط {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}
و {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} "
و {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھ پر کچھ ایسی آیات نازل کی گئی ہیں جن کی مثل کبھی نہیں دیکھی گئی، وہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] ہیں۔“
”مجھ پر کچھ ایسی آیات نازل کی گئی ہیں جن کی مثل کبھی نہیں دیکھی گئی، وہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] ہیں۔“
«انزل عنه فلا تصحبنا بملعون لا تدعوا على أنفسكم ولا تدعوا على أولادكم ولا تدعوا على أموالكم لا توافقوا من الله ساعة يسأل فيها عطاء فيستجيب لكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس (اونٹ) سے نیچے اتر آؤ اور کسی ملعون (لعنت کی گئی) چیز کے ساتھ ہمارے قافلے میں شامل نہ رہو۔ تم اپنے آپ کو بددعا نہ دیا کرو، اور نہ اپنی اولاد کو بددعا دیا کرو، اور نہ ہی اپنے اموال کو بددعا دیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بددعا اللہ کی طرف سے قبولیت کی اس گھڑی کے موافق ہو جائے جس میں جو بھی مانگا جائے وہ عطا کر دیا جاتا ہے، اور یوں تمہاری وہ بددعا قبول کر لی جائے۔“
”اس (اونٹ) سے نیچے اتر آؤ اور کسی ملعون (لعنت کی گئی) چیز کے ساتھ ہمارے قافلے میں شامل نہ رہو۔ تم اپنے آپ کو بددعا نہ دیا کرو، اور نہ اپنی اولاد کو بددعا دیا کرو، اور نہ ہی اپنے اموال کو بددعا دیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بددعا اللہ کی طرف سے قبولیت کی اس گھڑی کے موافق ہو جائے جس میں جو بھی مانگا جائے وہ عطا کر دیا جاتا ہے، اور یوں تمہاری وہ بددعا قبول کر لی جائے۔“
«انصر أخاك ظالما أو مظلوما إن يك ظالما فاردده عن ظلمه وإن يك مظلوما فانصره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ اگر وہ ظالم ہے تو اسے ظلم کرنے سے روک دو، اور اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی (حق دلانے میں) مدد کرو۔“
”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ اگر وہ ظالم ہے تو اسے ظلم کرنے سے روک دو، اور اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی (حق دلانے میں) مدد کرو۔“
«انصر أخاك ظالما أو مظلوما قيل: كيف أنصره ظالما؟ قال: تحجزه عن الظلم فإن ذلك نصره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ پوچھا گیا: میں ظالم ہونے کی صورت میں اس کی کیسی مدد کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسے ظلم کرنے سے روک دو، یہی (دراصل) اس کی مدد کرنا ہے۔“
”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ پوچھا گیا: میں ظالم ہونے کی صورت میں اس کی کیسی مدد کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اسے ظلم کرنے سے روک دو، یہی (دراصل) اس کی مدد کرنا ہے۔“
«انطلق أبا مسعود! لا ألفينك يوم القيامة تجيء على ظهرك بعير من إبل الصدقة له رغاء قد غللته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے ابومسعود! جاؤ (اور اپنا کام کرو)، میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں ہرگز نہ پاؤں کہ تم اپنی پیٹھ پر صدقے کے اونٹوں میں سے ایک بلبلاتا ہوا اونٹ اٹھائے ہوئے آؤ، جسے تم نے خیانت کر کے چرایا ہو۔“
”اے ابومسعود! جاؤ (اور اپنا کام کرو)، میں تمہیں قیامت کے دن اس حال میں ہرگز نہ پاؤں کہ تم اپنی پیٹھ پر صدقے کے اونٹوں میں سے ایک بلبلاتا ہوا اونٹ اٹھائے ہوئے آؤ، جسے تم نے خیانت کر کے چرایا ہو۔“
"انطلق ثلاثة رهط ممن كان قبلكم حتى أووا المبيت إلى غار فدخلوه فانحدرت عليهم صخرة من الجبل فسدت عليهم الغار فقالوا: إنه لا ينجيكم من هذه الصخرة إلا أن تدعوا الله بصالح أعمالكم; قال رجل منهم: اللهم كان لي أبوان شيخان كبيران وكنت لا أغبق قبلهما أهلا ولا مالا فنأى بي في طلب شيء يوما فلم
أرح عليهما حتى ناما فحلبت لهما غبوقهما فوجدتهما نائمين فكرهت أن أغبق قبلهما أهلا أو مالا فلبثت والقدح على يدي أنتظر استيقاظهما حتى برق الفجر فاستيقظا فشربا غبوقهما اللهم إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك ففرج عنا ما نحن فيه من هذه الصخرة؟ فانفرجت شيئا لا يستطيعون الخروج; وقال الآخر: اللهم كانت لي ابنة عم كانت أحب الناس إلى فأردتها على نفسها فامتنعت مني حتى ألمت بها سنة من السنين فجاءتني فأعطيتها عشرين ومائة دينار على أن تخلي بيني وبين نفسها ففعلت حتى إذا قدرت عليها قالت: لا أحل لك أن تفض الخاتم إلا بحقه فتحرجت من الوقوع عليها فانصرفت عنها وهي أحب الناس إلي وتركت الذهب الذي أعطيتها اللهم إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما نحن فيه فانفرجت الصخرة غير أنهم لا يستطيعون الخروج منها; وقال الثالث: اللهم استأجرت أجراء فأعطيتهم أجرهم غير رجل واحد ترك الذي له وذهب فثمرت أجره حتى كثرت منه الأموال فجاءني بعد حين فقال: يا عبد الله أدني أجري فقلت له: كل ما ترى من أجرك من الإبل والبقر والغنم والرقيق فقال: يا عبد الله لا تستهزئ بي فقلت: إني لا أستهزئ بك فأخذه كله فاستاقه فلم يترك منه شيئا اللهم فإن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما نحن فيه فانفرجت الصخرة فخرجوا يمشون"
أرح عليهما حتى ناما فحلبت لهما غبوقهما فوجدتهما نائمين فكرهت أن أغبق قبلهما أهلا أو مالا فلبثت والقدح على يدي أنتظر استيقاظهما حتى برق الفجر فاستيقظا فشربا غبوقهما اللهم إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك ففرج عنا ما نحن فيه من هذه الصخرة؟ فانفرجت شيئا لا يستطيعون الخروج; وقال الآخر: اللهم كانت لي ابنة عم كانت أحب الناس إلى فأردتها على نفسها فامتنعت مني حتى ألمت بها سنة من السنين فجاءتني فأعطيتها عشرين ومائة دينار على أن تخلي بيني وبين نفسها ففعلت حتى إذا قدرت عليها قالت: لا أحل لك أن تفض الخاتم إلا بحقه فتحرجت من الوقوع عليها فانصرفت عنها وهي أحب الناس إلي وتركت الذهب الذي أعطيتها اللهم إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما نحن فيه فانفرجت الصخرة غير أنهم لا يستطيعون الخروج منها; وقال الثالث: اللهم استأجرت أجراء فأعطيتهم أجرهم غير رجل واحد ترك الذي له وذهب فثمرت أجره حتى كثرت منه الأموال فجاءني بعد حين فقال: يا عبد الله أدني أجري فقلت له: كل ما ترى من أجرك من الإبل والبقر والغنم والرقيق فقال: يا عبد الله لا تستهزئ بي فقلت: إني لا أستهزئ بك فأخذه كله فاستاقه فلم يترك منه شيئا اللهم فإن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما نحن فيه فانفرجت الصخرة فخرجوا يمشون"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم سے پہلے لوگوں میں سے تین آدمی سفر پر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ رات گزارنے کے لیے انہوں نے ایک غار میں پناہ لی اور اس میں داخل ہو گئے۔ اچانک پہاڑ سے ایک چٹان گری اور اس نے ان پر غار کا منہ بند کر دیا۔ انہوں نے آپس میں کہا: تمہیں اس چٹان سے کوئی چیز نجات نہیں دلا سکتی سوائے اس کے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے اللہ سے دعا کرو۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے بوڑھے والدین تھے اور میں ان سے پہلے اپنے اہل و عیال اور غلاموں کو شام کا دودھ نہیں پلاتا تھا۔ ایک دن میں کسی چیز کی تلاش میں دور نکل گیا اور جب واپس لوٹا تو وہ سو چکے تھے۔ میں نے ان کے لیے شام کا دودھ دوہا مگر انہیں سویا ہوا پایا۔ میں نے یہ پسند نہ کیا کہ ان سے پہلے اپنے اہل و عیال یا مال (غلاموں) کو دودھ پلاؤں، چنانچہ میں دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ فجر روشن ہو گئی۔ پھر وہ جاگے اور اپنا دودھ پیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہم پر سے اس چٹان کی مصیبت کو ہٹا دے۔ چٹان تھوڑی سی کھسک گئی لیکن وہ نکل نہیں سکتے تھے۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جو مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے اس سے برائی کا ارادہ کیا لیکن اس نے مجھ سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ ایک سال قحط پڑا تو وہ میرے پاس آئی۔ میں نے اسے اس شرط پر ایک سو بیس دینار دیے کہ وہ میرے ساتھ خلوت میں آئے۔ اس نے ایسا کر لیا، یہاں تک کہ جب میں اس پر قابو پا چکا تو اس نے کہا: میں تمہارے لیے حلال نہیں کرتی کہ تم حق (نکاح) کے بغیر مہر توڑو۔ یہ سن کر میں اس سے رشتہ قائم کرنے سے رک گیا اور اس سے دور ہٹ گیا حالانکہ وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی، اور میں نے وہ سونا بھی چھوڑ دیا جو اسے دیا تھا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے۔ چٹان مزید کھسک گئی لیکن وہ اب بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ! میں نے کچھ مزدور رکھے اور انہیں ان کی مزدوری دے دی، سوائے ایک آدمی کے جو اپنا حق چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کے مال کو کاروبار میں لگا کر بڑھایا یہاں تک کہ اس سے بہت سا مال جمع ہو گیا۔ ایک عرصے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے بندے! میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے اس سے کہا: یہ اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام جو تم دیکھ رہے ہو، یہ سب تمہاری مزدوری ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے بندے! مجھ سے مذاق نہ کرو۔ میں نے کہا: میں تم سے مذاق نہیں کر رہا۔ تب اس نے وہ سب کچھ لے لیا اور ہانک کر لے گیا، اس میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہماری اس مشکل کو کشادہ کر دے۔ چٹان پوری طرح ہٹ گئی اور وہ سب پیدل چلتے ہوئے باہر نکل آئے۔“
”تم سے پہلے لوگوں میں سے تین آدمی سفر پر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ رات گزارنے کے لیے انہوں نے ایک غار میں پناہ لی اور اس میں داخل ہو گئے۔ اچانک پہاڑ سے ایک چٹان گری اور اس نے ان پر غار کا منہ بند کر دیا۔ انہوں نے آپس میں کہا: تمہیں اس چٹان سے کوئی چیز نجات نہیں دلا سکتی سوائے اس کے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے اللہ سے دعا کرو۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے بوڑھے والدین تھے اور میں ان سے پہلے اپنے اہل و عیال اور غلاموں کو شام کا دودھ نہیں پلاتا تھا۔ ایک دن میں کسی چیز کی تلاش میں دور نکل گیا اور جب واپس لوٹا تو وہ سو چکے تھے۔ میں نے ان کے لیے شام کا دودھ دوہا مگر انہیں سویا ہوا پایا۔ میں نے یہ پسند نہ کیا کہ ان سے پہلے اپنے اہل و عیال یا مال (غلاموں) کو دودھ پلاؤں، چنانچہ میں دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ فجر روشن ہو گئی۔ پھر وہ جاگے اور اپنا دودھ پیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہم پر سے اس چٹان کی مصیبت کو ہٹا دے۔ چٹان تھوڑی سی کھسک گئی لیکن وہ نکل نہیں سکتے تھے۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جو مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے اس سے برائی کا ارادہ کیا لیکن اس نے مجھ سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ ایک سال قحط پڑا تو وہ میرے پاس آئی۔ میں نے اسے اس شرط پر ایک سو بیس دینار دیے کہ وہ میرے ساتھ خلوت میں آئے۔ اس نے ایسا کر لیا، یہاں تک کہ جب میں اس پر قابو پا چکا تو اس نے کہا: میں تمہارے لیے حلال نہیں کرتی کہ تم حق (نکاح) کے بغیر مہر توڑو۔ یہ سن کر میں اس سے رشتہ قائم کرنے سے رک گیا اور اس سے دور ہٹ گیا حالانکہ وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی، اور میں نے وہ سونا بھی چھوڑ دیا جو اسے دیا تھا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے۔ چٹان مزید کھسک گئی لیکن وہ اب بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ! میں نے کچھ مزدور رکھے اور انہیں ان کی مزدوری دے دی، سوائے ایک آدمی کے جو اپنا حق چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کے مال کو کاروبار میں لگا کر بڑھایا یہاں تک کہ اس سے بہت سا مال جمع ہو گیا۔ ایک عرصے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے بندے! میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے اس سے کہا: یہ اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام جو تم دیکھ رہے ہو، یہ سب تمہاری مزدوری ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے بندے! مجھ سے مذاق نہ کرو۔ میں نے کہا: میں تم سے مذاق نہیں کر رہا۔ تب اس نے وہ سب کچھ لے لیا اور ہانک کر لے گیا، اس میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہماری اس مشکل کو کشادہ کر دے۔ چٹان پوری طرح ہٹ گئی اور وہ سب پیدل چلتے ہوئے باہر نکل آئے۔“
«انظر فإنك لست بخير من أحمر ولا أسود إلا أن تفضله بتقوى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دیکھو! تم کسی سرخ یا سیاہ فام سے ہرگز بہتر نہیں ہو، سوائے اس کے کہ تم تقویٰ کی بنیاد پر اس پر فضیلت لے جاؤ۔“
”دیکھو! تم کسی سرخ یا سیاہ فام سے ہرگز بہتر نہیں ہو، سوائے اس کے کہ تم تقویٰ کی بنیاد پر اس پر فضیلت لے جاؤ۔“
«انظرن من إخوانكن؟ فإنما الرضاعة من المجاعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(اے عورتو!) تم اچھی طرح دیکھ لیا کرو کہ تمہارے (رضاعی) بھائی کون ہیں؟ کیونکہ (معتبر) رضاعت تو وہی ہے جو بھوک مٹائے (یعنی جو بچپن کی مدتِ رضاعت میں ہو)۔“
”(اے عورتو!) تم اچھی طرح دیکھ لیا کرو کہ تمہارے (رضاعی) بھائی کون ہیں؟ کیونکہ (معتبر) رضاعت تو وہی ہے جو بھوک مٹائے (یعنی جو بچپن کی مدتِ رضاعت میں ہو)۔“
«انظروا إلى من هو أسفل منكم ولا تنظروا إلى من هو فوقكم فهو أجدر أن لا تزدروا نعمة الله عليكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیاوی معاملات میں ان لوگوں کی طرف دیکھو جو تم سے کم تر ہیں اور ان کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر (مالدار) ہیں، کیونکہ یہ بات زیادہ مناسب ہے کہ تم اپنے اوپر کی گئی اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔“
”دنیاوی معاملات میں ان لوگوں کی طرف دیکھو جو تم سے کم تر ہیں اور ان کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر (مالدار) ہیں، کیونکہ یہ بات زیادہ مناسب ہے کہ تم اپنے اوپر کی گئی اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔“
«انظروا قريشا فخذوا من قولهم وذروا فعلهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قریش کو دیکھو، پس ان کی بات لے لیا کرو اور ان کے (برے) افعال کو چھوڑ دیا کرو۔“
”قریش کو دیکھو، پس ان کی بات لے لیا کرو اور ان کے (برے) افعال کو چھوڑ دیا کرو۔“
«انظري أين أنت منه؟ فإنما هو جنتك ونارك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(اے عورت!) یہ دیکھتی رہو کہ تم اس (اپنے شوہر) کے حقوق کے معاملے میں کس مقام پر ہو، کیونکہ وہی تمہاری جنت اور تمہاری دوزخ ہے۔“
”(اے عورت!) یہ دیکھتی رہو کہ تم اس (اپنے شوہر) کے حقوق کے معاملے میں کس مقام پر ہو، کیونکہ وہی تمہاری جنت اور تمہاری دوزخ ہے۔“
«أنعت لك الكرسف فإنه يذهب الدم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں تمہیں روئی استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہوں، کیونکہ یہ (استحاضہ کا) خون جذب کر کے ختم کر دے گی۔“
”میں تمہیں روئی استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہوں، کیونکہ یہ (استحاضہ کا) خون جذب کر کے ختم کر دے گی۔“
«انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم ثم ادعهم إلى الإسلام وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله فيه فوالله لأن يهدي الله بك رجل واحدا خير لك من أن يكون لك حمر النعم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اطمینان کے ساتھ چلتے جاؤ یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترو، پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ ان پر اللہ کا کیا حق واجب ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“
”اطمینان کے ساتھ چلتے جاؤ یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترو، پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ ان پر اللہ کا کیا حق واجب ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“
«أنفق يا بلال! ولا تخش من ذي العرش إقلالا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اے بلال! خرچ کیا کرو، اور عرش والے (اللہ) سے اس بات کا خوف نہ رکھو کہ وہ کمی کر دے گا۔“
”اے بلال! خرچ کیا کرو، اور عرش والے (اللہ) سے اس بات کا خوف نہ رکھو کہ وہ کمی کر دے گا۔“
«أنفقي ولا تحصي فيحصي الله عليك ولا توعي فيوعي الله عليك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(اللہ کی راہ میں) خرچ کرتی رہو اور گن گن کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تمہیں گن کر دے گا، اور مال کو (بوریوں یا برتنوں میں) چھپا کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم سے (اپنی نعمتیں) روک لے گا۔“
”(اللہ کی راہ میں) خرچ کرتی رہو اور گن گن کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تمہیں گن کر دے گا، اور مال کو (بوریوں یا برتنوں میں) چھپا کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم سے (اپنی نعمتیں) روک لے گا۔“
«انكحوا فإني مكاثر بكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”نکاح کرو کیونکہ میں (قیامت کے دن دوسری امتوں پر) تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا۔“
”نکاح کرو کیونکہ میں (قیامت کے دن دوسری امتوں پر) تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا۔“
«إن آثاركم تكتب»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک تمہارے قدموں کے نشانات بھی لکھے جاتے ہیں۔“
”بے شک تمہارے قدموں کے نشانات بھی لکھے جاتے ہیں۔“
«إن آدم خلق من ثلاث تربات: سوداء وبيضاء وحمراء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک آدم (علیہ السلام) کو تین طرح کی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے: کالی، سفید اور سرخ۔“
”بے شک آدم (علیہ السلام) کو تین طرح کی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے: کالی، سفید اور سرخ۔“
«إن آل بني فلان ليسوا لي بأولياء إنما وليي الله وصالحوا المؤمنين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ فلاں قبیلے والے میرے دوست (یا سرپرست) نہیں ہیں، میرا دوست اور حمایتی تو صرف اللہ ہے اور نیک مومن ہیں۔“
”بلاشبہ فلاں قبیلے والے میرے دوست (یا سرپرست) نہیں ہیں، میرا دوست اور حمایتی تو صرف اللہ ہے اور نیک مومن ہیں۔“
«إن آل جعفر قد شغلوا بشأن ميتهم فاصنعوا لهم طعاما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آلِ جعفر اپنے میت کے غم میں مشغول ہو گئے ہیں، لہٰذا تم ان کے لیے کھانا تیار کرو۔“
”آلِ جعفر اپنے میت کے غم میں مشغول ہو گئے ہیں، لہٰذا تم ان کے لیے کھانا تیار کرو۔“
…