صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«انتسب رجلان على عهد موسى فقال أحدهما: أنا فلان ابن فلان حتى عد تسعة فمن أنت لا أم لك؟ قال: أنا فلان ابن فلان ابن الإسلام فأوحى الله إلى موسى أن قل لهذين المنتسبين: أما أنت أيها المنتسب إلى تسعة في النار فأنت عاشرهم في النار، وأما أنت أيها المنتسب إلى اثنين في الجنة فأنت ثالثهما في الجنة»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں دو آدمیوں نے اپنا نسب بیان کیا، ان میں سے ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں، یہاں تک کہ اس نے (اپنے کافر آباء میں سے) نو کا نام گنوایا، پھر اس نے کہا: تو کون ہے؟ تیری ماں نہ رہے! دوسرے نے جواب دیا: میں فلاں بن فلاں ہوں اور میں اسلام کا بیٹا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی کہ نسب پر فخر کرنے والے ان دونوں اشخاص سے کہہ دو: اے وہ شخص جس نے جہنم میں جانے والے نو آباء کی طرف اپنی نسبت کی ہے! تو ان میں جہنم میں جانے والا دسواں ہے۔ اور اے وہ شخص جس نے جنت میں جانے والے دو افراد کی طرف اپنی نسبت کی ہے! تو ان کے ساتھ جنت میں جانے والا تیسرا ہے۔“