صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"انطلق ثلاثة رهط ممن كان قبلكم حتى أووا المبيت إلى غار فدخلوه فانحدرت عليهم صخرة من الجبل فسدت عليهم الغار فقالوا: إنه لا ينجيكم من هذه الصخرة إلا أن تدعوا الله بصالح أعمالكم; قال رجل منهم: اللهم كان لي أبوان شيخان كبيران وكنت لا أغبق قبلهما أهلا ولا مالا فنأى بي في طلب شيء يوما فلم
أرح عليهما حتى ناما فحلبت لهما غبوقهما فوجدتهما نائمين فكرهت أن أغبق قبلهما أهلا أو مالا فلبثت والقدح على يدي أنتظر استيقاظهما حتى برق الفجر فاستيقظا فشربا غبوقهما اللهم إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك ففرج عنا ما نحن فيه من هذه الصخرة؟ فانفرجت شيئا لا يستطيعون الخروج; وقال الآخر: اللهم كانت لي ابنة عم كانت أحب الناس إلى فأردتها على نفسها فامتنعت مني حتى ألمت بها سنة من السنين فجاءتني فأعطيتها عشرين ومائة دينار على أن تخلي بيني وبين نفسها ففعلت حتى إذا قدرت عليها قالت: لا أحل لك أن تفض الخاتم إلا بحقه فتحرجت من الوقوع عليها فانصرفت عنها وهي أحب الناس إلي وتركت الذهب الذي أعطيتها اللهم إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما نحن فيه فانفرجت الصخرة غير أنهم لا يستطيعون الخروج منها; وقال الثالث: اللهم استأجرت أجراء فأعطيتهم أجرهم غير رجل واحد ترك الذي له وذهب فثمرت أجره حتى كثرت منه الأموال فجاءني بعد حين فقال: يا عبد الله أدني أجري فقلت له: كل ما ترى من أجرك من الإبل والبقر والغنم والرقيق فقال: يا عبد الله لا تستهزئ بي فقلت: إني لا أستهزئ بك فأخذه كله فاستاقه فلم يترك منه شيئا اللهم فإن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما نحن فيه فانفرجت الصخرة فخرجوا يمشون"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم سے پہلے لوگوں میں سے تین آدمی سفر پر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ رات گزارنے کے لیے انہوں نے ایک غار میں پناہ لی اور اس میں داخل ہو گئے۔ اچانک پہاڑ سے ایک چٹان گری اور اس نے ان پر غار کا منہ بند کر دیا۔ انہوں نے آپس میں کہا: تمہیں اس چٹان سے کوئی چیز نجات نہیں دلا سکتی سوائے اس کے کہ تم اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے اللہ سے دعا کرو۔ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے بوڑھے والدین تھے اور میں ان سے پہلے اپنے اہل و عیال اور غلاموں کو شام کا دودھ نہیں پلاتا تھا۔ ایک دن میں کسی چیز کی تلاش میں دور نکل گیا اور جب واپس لوٹا تو وہ سو چکے تھے۔ میں نے ان کے لیے شام کا دودھ دوہا مگر انہیں سویا ہوا پایا۔ میں نے یہ پسند نہ کیا کہ ان سے پہلے اپنے اہل و عیال یا مال (غلاموں) کو دودھ پلاؤں، چنانچہ میں دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لیے ان کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ فجر روشن ہو گئی۔ پھر وہ جاگے اور اپنا دودھ پیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو ہم پر سے اس چٹان کی مصیبت کو ہٹا دے۔ چٹان تھوڑی سی کھسک گئی لیکن وہ نکل نہیں سکتے تھے۔ دوسرے نے کہا: اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جو مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب تھی۔ میں نے اس سے برائی کا ارادہ کیا لیکن اس نے مجھ سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ ایک سال قحط پڑا تو وہ میرے پاس آئی۔ میں نے اسے اس شرط پر ایک سو بیس دینار دیے کہ وہ میرے ساتھ خلوت میں آئے۔ اس نے ایسا کر لیا، یہاں تک کہ جب میں اس پر قابو پا چکا تو اس نے کہا: میں تمہارے لیے حلال نہیں کرتی کہ تم حق (نکاح) کے بغیر مہر توڑو۔ یہ سن کر میں اس سے رشتہ قائم کرنے سے رک گیا اور اس سے دور ہٹ گیا حالانکہ وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی، اور میں نے وہ سونا بھی چھوڑ دیا جو اسے دیا تھا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے۔ چٹان مزید کھسک گئی لیکن وہ اب بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ! میں نے کچھ مزدور رکھے اور انہیں ان کی مزدوری دے دی، سوائے ایک آدمی کے جو اپنا حق چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کے مال کو کاروبار میں لگا کر بڑھایا یہاں تک کہ اس سے بہت سا مال جمع ہو گیا۔ ایک عرصے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے بندے! میری مزدوری مجھے دے دو۔ میں نے اس سے کہا: یہ اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام جو تم دیکھ رہے ہو، یہ سب تمہاری مزدوری ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے بندے! مجھ سے مذاق نہ کرو۔ میں نے کہا: میں تم سے مذاق نہیں کر رہا۔ تب اس نے وہ سب کچھ لے لیا اور ہانک کر لے گیا، اس میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا تو ہماری اس مشکل کو کشادہ کر دے۔ چٹان پوری طرح ہٹ گئی اور وہ سب پیدل چلتے ہوئے باہر نکل آئے۔“