حدیث نمبر: 1491
«انتدب الله لمن خرج في سبيله لا يخرجه إلا إيمان بي وتصديق برسلي أن أرجعه بما نال من أجر أوغنيمة أو أدخله الجنة ولولا أن أشق على أمتي ما قعدت خلف سرية ولوددت أني أقتل في سبيل الله ثم أحيا ثم أقتل ثم أحيا ثم أقتل ثم أحيا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی ذمہ داری لے لی ہے جو اس کی راہ میں نکلے، جسے صرف مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق ہی گھر سے نکالے، کہ وہ اسے ثواب یا مالِ غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا یا پھر اسے جنت میں داخل کرے گا۔ اور اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی لشکر کے پیچھے نہ بیٹھتا، اور میری تو یہ تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1491
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن أبي هريرة.