کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
- ٥٠٧١٠٧٩ - "اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبيه ولا
تمسوه طيبا ولا تخمروا رأسه ولا تحنطوه فإن الله يبعثه يوم القيامة ملبيا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس (وفات پاجانے والے محرم) کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسے اسی کے دو کپڑوں (احرام کی چادروں) میں کفن پہناؤ، اسے کوئی خوشبو نہ لگاؤ، نہ ہی اس کا سر ڈھانپو اور نہ اسے حنوط (میت کو لگائی جانے والی خوشبو) لگاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اسی حالت میں اٹھائے گا کہ وہ تلبیہ (لبیک) پکار رہا ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1079
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن ابن عباس. الإرواء ٦٩٤, ١٠١٦.
«أغلقوا أبوابكم وخمروا آنيتكم وأطفئوا سرجكم وأوكئوا أسقيتكم فإن الشيطان لا يفتح بابا مغلقا ولا يكشف غطاء ولا يحل وكاء وإن الفويسقة تضرم البيت على أهله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اپنے (گھروں کے) دروازے بند کر دیا کرو، اپنے برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو، اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو اور اپنے مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو، کیونکہ شیطان نہ تو کوئی بند دروازہ کھولتا ہے، نہ ڈھکا ہوا برتن کھولتا ہے اور نہ ہی بندھی ہوئی گرہ کھولتا ہے، اور اس لیے بھی کہ چھوٹی شریر چیز (یعنی چوہیا) گھر والوں پر گھر کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1080
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م د ت] عن جابر. الإرواء ٣٩.
«أغيظ رجل على الله يوم القيامة وأخبثه وأغيظه عليه رجل كان يسمى ملك الأملاك لا ملك إلا الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ غیظ و غضب کا نشانہ بننے والا اور اس کی نگاہ میں سب سے خبیث اور برا وہ شخص ہوگا جو (دنیا میں) شہنشاہ (بادشاہوں کا بادشاہ) کہلاتا تھا۔ درحقیقت اللہ کے سوا کوئی بادشاہ نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1081
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي هريرة. الصحيحة ٩١٥.
«افترقت اليهود على إحدى وسبعين فرقة فواحدة في الجنة وسبعون في النار وافترقت النصارى على اثنتين وسبعين فرقة فإحدى وسبعون في النار وواحدة في الجنة والذي نفس محمد بيده لتفترقن أمتي على ثلاث وسبعين فرقة فواحدة في الجنة واثنتان وسبعون في النار»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہود اکہتر (71) فرقوں میں بٹ گئے، جن میں سے ایک جنت میں اور ستر (70) جہنم میں جائیں گے۔ نصاریٰ بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے، جن میں سے اکہتر (71) جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! میری امت ضرور تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی، جن میں سے ایک جنت میں اور بہتر (72) جہنم میں جائیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1082
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عوف بن مالك. الصحيحة ١٤٩٢.
«افترقت اليهود على إحدى وسبعين فرقة وتفرقت النصارى على اثنتين وسبعين فرقة وتفرقت أمتي على ثلاث وسبعين فرقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”یہود اکہتر (71) فرقوں میں بٹ گئے، نصاریٰ بہتر (72) فرقوں میں تقسیم ہو گئے، اور میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1083
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [٤] عن أبي هريرة. الصحيحة ٢٠٣.
«أفرض أمتي زيد بن ثابت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت میں علمِ فرائض (وراثت کے مسائل) کو سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت (رضی اللہ عنہ) ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1084
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أنس. الصحيحة ١٢٢٤.
«أفش السلام وأطعم الطعام وصل الأرحام وقم بالليل والناس نيام وادخل الجنة بسلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سلام کو رواج دو، (لوگوں کو) کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی (رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک) کرو، اور رات کے وقت جب لوگ سو رہے ہوں تو قیام (تہجد) کرو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1085
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم حب ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٥٦٩ والضعيفة ١٣٤٤.
«أفشوا السلام بينكم تحابوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آپس میں سلام کو عام کرو، تمہارے درمیان محبت پیدا ہو جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1086
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي موسى. فيض القدير.
«أفشوا السلام تسلموا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سلام کو عام کرو، تم سلامت رہو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1087
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [خد ع حب العقيلي] عن البراء. الإرواء ٧٦٩، الصحيحة ١٤٩٣: حب، أبو نعيم.
«أفشوا السلام كي تعلوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سلام کو عام کرو تاکہ تم سر بلند ہو جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1088
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي الدرداء. تخريج الترغيب ٣/٢٦٧.
«أفشوا السلام وأطعموا الطعام وكونوا إخوانا كما أمركم الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سلام کو عام کرو، (لوگوں کو) کھانا کھلاؤ، اور اللہ کے حکم کے مطابق آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1089
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن ابن عمر. الإرواء ٧٧٧، الصحيحة ١٥٠١: ن، حب، عد.
«أفضل الإسلام الحنيفية السمحة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے بہترین دین دینِ حنیف ہے جس میں وسعت اور آسانی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1090
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طس] عن ابن عباس. تمام المنة: حم في [الزهد] –عبد العزيز بن مروان مرسلا.
«أفضل الأعمال الإيمان بالله وحده ثم الجهاد ثم حجة برة تفضل سائر الأعمال كما بين مطلع الشمس إلى مغربها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل عمل صرف ایک اللہ پر ایمان لانا ہے، پھر جہاد کرنا، پھر حجِ مبرور (مقبول حج) ہے، جو باقی تمام اعمال پر اتنی ہی فضیلت رکھتا ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1091
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ماعز. تخريج الترغيب ٢/١٠٧.
"أفضل الأعمال الإيمان بالله وحده ثم الجهاد ثم حجة مبرورة تفضل سائر الأعمال كما بين مطلع الشمس إلى
مغربها"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے بہترین اعمال صرف ایک اللہ پر ایمان لانا، پھر جہاد کرنا، اور پھر مقبول حج ہے، جو دیگر تمام اعمال پر اس قدر فضیلت رکھتا ہے جتنا سورج نکلنے کی جگہ (مشرق) سے اس کے ڈوبنے کی جگہ (مغرب) کے درمیان فاصلہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1092
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب حم] عن ماعز. تخريج الترغيب ٢/١٠٧.
«أفضل الأعمال الصلاة في أول وقتها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل عمل نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1093
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ت ك] عن أم فروة.
«أفضل الأعمال الصلاة لوقتها وبر الوالدين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے بہترین اعمال نماز کو اس کے (مقررہ) وقت پر ادا کرنا اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1094
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن ابن مسعود. الروض ١١٠، الصحيحة ١٤٨٩.
«أفضل الأعمال الصلاة لوقتها وبر الوالدين والجهاد في سبيل الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے بہترین اعمال نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1095
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خط] عن أنس. الصحيحة ١٤٨٩: حم –رجل. ق –ابن مسعود.
«أفضل الأعمال أن تدخل على أخيك المؤمن سرورا أو تقضي عنه دينا أو تطعمه خبزا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے بہترین اعمال یہ ہیں کہ تم اپنے مومن بھائی کے دل میں خوشی داخل کرو (اسے خوش کرو)، یا اس کا قرض ادا کر دو، یا اسے روٹی (کھانا) کھلاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1096
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن أبي الدنيا في قضاء الحوائج هب] عن أبي هريرة [عد] عن ابن عمر. الصحيحة ١٤٩٤.
«أفضل الإيمان الصبر والسماحة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے بہترین ایمان صبر کرنا اور درگزر (فراخ دلی) سے کام لینا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1097
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [فر] عن معقل بن يسار [تخ] عن عمير الليثي. الإيمان لابن أبي شيبة ٤٣، الصحيحة ١٤٩٥: حم، هق - عمرو بن عبسة، حم - عبادة. ك - عمير الليثي.
«أفضل الأيام عند الله يوم الجمعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1098
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هب] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٥٠٢.
«أفضل الجهاد أن يجاهد الرجل نفسه وهواه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ انسان اپنے نفس اور اپنی خواہشات کے خلاف جہاد کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1099
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن النجار] عن أبي ذر. الصحيحة ١٤٩٦: أبو نعيم، الديلمي.
«أفضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ (یا حکمران) کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1100
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن أبي سعيد [حم هـ طب هب] عن أبي أمامة [حم ن هب] عن طارق بن شهاب. الروض ٩٠٩، الصحيحة ٤٩١: د، الحميدي، ك، - أبي سعيد. الروياني، ابن عدي –أبي أمامة. الضياء –طارق. العقيلي –جابر. ك - عمير بن قتادة.
«أفضل الحج العج والثج»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بہترین حج وہ ہے جس میں بلند آواز سے تلبیہ پکارا جائے (العج) اور قربانی کا خون بہایا جائے (الثج)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1101
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن ابن عمر [هـ ك هق] عن أبي بكر [ع] عن ابن مسعود. الصحيحة ١٥٠٠.
«أفضل الدعاء دعاء يوم عرفة وأفضل ما قلت أنا والنبيون من قبلي: لا إله إلا الله وحده لا شريك له»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے بہترین دعا عرفہ کے دن کی دعا ہے، اور سب سے بہترین کلام جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے کہا ہے وہ یہ ہے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1102
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [مالك] عن طلحة بن عبيد بن كريز مرسلا. الصحيحة ١٥٠٣.
«أفضل الدنانير: دينار ينفقه الرجل على عياله ودينار ينفقه الرجل على دابته في سبيل الله ودينار ينفقه الرجل على أصحابه في سبيل الله عز وجل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے بہترین دینار وہ ہے جو انسان اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اور وہ دینار جو انسان اللہ کے راستے میں اپنی سواری (کے جانور) پر خرچ کرے، اور وہ دینار جو انسان اللہ عزوجل کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1103
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت ن هـ] عن ثوبان.
«أفضل الذكر: لا إله إلا الله وأفضل الدعاء: الحمد لله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل ذکر «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ہے اور سب سے افضل دعا «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1104
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت ن هـ حب ك] عن جابر. تخريج الترغيب ٢/٢٢٩، المشكاة ٢٣٠٦، الصحيحة ١٤٩٧.
«أفضل الرقاب أغلاها ثمنا وأنفسها عند أهله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(آزاد کرنے کے لیے) سب سے بہترین غلام وہ ہے جس کی قیمت سب سے زیادہ ہو اور جو اپنے مالکوں کے نزدیک سب سے زیادہ عمدہ اور قیمتی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1105
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن هـ] عن أبي ذر [حم طب] عن أبي أمامة.
«أفضل الساعات جوف الليل الأخير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(قبولیت کے لیے) سب سے بہترین گھڑیاں رات کا آخری حصہ (پچھلا پہر) ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1106
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن عمرو بن عبسة. الصحيحة ٥٥١.
«أفضل الشهداء الذين يقاتلون في الصف الأول فلا يلفتون وجوههم حتى يقتلوا أولئك يتلبطون في الغرف العلى من الجنة يضحك إليهم ربك فإذا ضحك ربك إلى عبد في موطن فلا حساب عليه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل شہداء وہ ہیں جو (جہاد میں) پہلی صف میں لڑتے ہیں اور اپنے چہرے (دشمن سے) نہیں موڑتے یہاں تک کہ شہید کر دیے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کے بلند و بالا محلات میں مزے سے رہیں گے، تمہارا رب ان کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے، اور جب تمہارا رب کسی مقام پر کسی بندے کی طرف دیکھ کر مسکرا دے تو اس پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1107
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن نعيم بن همار. الترغيب ٢/١٩٣: أبو يعلى.
«أفضل الشهداء من سفك دمه وعقر جواده»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل شہید وہ ہے جس کا (اللہ کے راستے میں) خون بہا دیا جائے اور اس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1108
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٥٠٤: حم، د – عبد الله بن حبشي.
«أفضل الصدقات ظل فسطاط في سبيل الله عز وجل أو منحة خادم في سبيل الله أو طروقة فحل في سبيل الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بہترین صدقات میں سے اللہ عزوجل کے راستے میں کسی خیمے کا سایہ فراہم کرنا، یا اللہ کے راستے میں کوئی خادم ہدیہ کرنا، یا اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) کوئی جوان اونٹنی دینا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1109
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت] عن أبي أمامة [ت] عن عدي بن حاتم. تخريج الترغيب ٢/١٥٨: ك، ابن عساكر.
«أفضل الصدقة الصدقة على ذي الرحم الكاشح»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل صدقہ اس قریبی رشتہ دار پر خرچ کرنا ہے جو دل میں دشمنی اور کینہ چھپائے ہوئے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1110
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن أبي أيوب وحكيم بن حزام [خد د ت] عن أبي سعيد [طب ك] عن أم كلثوم بنت عقبة. الإرواء ٨٩٢، صحيح الترغيب ٢/١٥٨: ك، ابن عساكر.
«أفضل الصدقة أن تصدق وأنت صحيح شحيح تأمل الغنى وتخشى الفقر ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم قلت: لفلان كذا ولفلان كذا ألا وقد كان لفلان كذا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم اس حالت میں صدقہ کرو جب تم صحت مند اور مال کے حریص ہو، تمہیں مالداری کی امید ہو اور غریبی کا ڈر ہو، اور صدقہ کرنے میں اتنی تاخیر نہ کرو کہ جب جان حلق تک پہنچ جائے تو تم کہنے لگو کہ فلاں کے لیے اتنا مال دے دینا اور فلاں کے لیے اتنا دے دینا، حالانکہ وہ مال تو اب فلاں (یعنی وارثوں) کا ہو چکا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1111
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن] عن أبي هريرة. الإرواء ١٦٠٢.
«أفضل الصدقة جهد المقل وابدأ بمن تعول»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل صدقہ کم مال والے انسان کا اپنی محنت اور استطاعت بھر صدقہ کرنا ہے، اور صدقہ کرنے کی ابتدا ان لوگوں سے کرو جن کی کفالت تمہارے ذمے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1112
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن أبي هريرة. الصحيحة ٥٦٦، صحيح الترغيب ٨٧٤، الإرواء ٨٣٤، ٨٩٧.
«أفضل الصدقة سقي الماء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل صدقہ پانی پلانا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1113
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ن هـ حب ك] عن سعد بن عبادة [ع] عن ابن عباس. صحيح الترغيب ٩٥١، المشكاة ١٩١٢.
«أفضل الصدقة ما ترك غنى واليد العليا خير من اليد السفلى وابدأ بمن تعول» (تقول المرأة: إما أن تطعمني وإما أن تطلقني ويقول العبد: أطعمني واستعملني; ويقول الابن: أطعمني إلى من تدعني؟!)
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد مالداری باقی رہے (یعنی انسان خود کو محتاج نہ کر لے)، اور اوپر والا (دینے والا) ہاتھ نیچے والے (لینے والے) ہاتھ سے بہتر ہے، اور خرچ کی ابتدا ان لوگوں سے کرو جن کی پرورش تمہارے ذمے ہے۔ (کیونکہ بیوی کہتی ہے کہ یا مجھے کھانا دو یا طلاق دے دو، غلام کہتا ہے مجھے کھانا دو اور مجھ سے کام لو، اور بیٹا کہتا ہے مجھے کھانا دو، مجھے کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہے ہو؟)“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1114
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة. الإرواء ٨٣٤.
«أفضل الصدقة ما كان عن ظهر غنى واليد العليا خير من اليد السفلى وابدأ بمن تعول»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو مالداری (یعنی ضروریات پوری ہونے) کے بعد کیا جائے، اور اوپر والا (دینے والا) ہاتھ نیچے والے (لینے والے) ہاتھ سے بہتر ہے، اور صدقہ کی ابتدا ان لوگوں سے کرو جن کی کفالت تمہارے ذمے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1115
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن حكيم بن حزام. غاية المرام ٤٤٦، الإرواء ٤٤٩.
«أفضل الصلاة بعد المكتوبة الصلاة في جوف الليل وأفضل الصيام بعد شهر رمضان شهر الله المحرم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کے پچھلے پہر (تہجد) کی نماز ہے، اور ماہِ رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1116
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ٤] عن أبي هريرة [الروياني في مسنده طب] عن جندب. الإرواء ٤٤٩.
«أفضل الصلاة صلاة المرء في بيته إلا المكتوبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انسان کی سب سے بہترین نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں ادا کرے، سوائے فرض نماز کے (جو مسجد میں باجماعت ادا کرنی چاہیے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1117
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن طب] عن زيد بن ثابت. صحيح أبي داود ١٣٠١: ق، د، حم، أبو عوانة.
«أفضل الصلاة طول القنوت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”سب سے افضل نماز وہ ہے جس میں قیام (قنوت) لمبا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1118
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ت هـ] عن جابر [طب] عن أبي موسى وعمرو بن عبسة وعن عمير بن قتادة الليثي. الإرواء ٤٥٨، صحيح أبي داود ١١٩٦: حم، د، ن، الدارمي، عن عبد الله بن حبشي، والصحيحة ٥٥١.