کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، «إِنَّ مَثَلَ الْمُحَقَّرَاتِ مِنَ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفْرٌ نَزَلُوا بِأَرْضٍ قَفْرٍ، مَعَهُمْ طَعَامٌ لَا يُصْلِحُهُمْ إِلَّا النَّارُ، فَتَفَرَّقُوا فَجَعَلَ هَذَا يَأْتِي بِالرَّوْثَةِ، وَيَجِيءُ هَذَا بِالْعَظْمِ، وَيَجِيءُ هَذَا بِالْعُودِ، حَتَّى جَمَعُوا مِنْ ذَلِكَ مَا أَصْلَحُوا بِهِ طَعَامَهُمْ، فَكَذَلِكَ صَاحِبُ الْمُحَقَّرَاتِ يَكْذِبُ الْكَذِبَةَ، وَيُذْنِبُ الذَّنْبَ وَيَجْمَعُ مِنْ ذَلِكَ مَا لَعَلَهُ أَنْ يَكُبَّهُ اللهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”حقیر سمجھے جانے والے گناہوں کی مثال ایسے مسافروں کی طرح ہے جو ایک ویران زمین میں اترے، ان کے پاس کھانا تھا جو صرف آگ ہی سے تیار ہو سکتا تھا، تو وہ منتشر ہو گئے، کوئی گوبر کا ٹکڑا لے آیا، کوئی ہڈی لے آیا، اور کوئی لکڑی لے آیا، یہاں تک کہ انہوں نے اتنا جمع کر لیا جس سے انہوں نے اپنا کھانا تیار کر لیا۔ اسی طرح حقیر سمجھے جانے والے گناہوں کا مرتکب ایک جھوٹ بولتا ہے اور ایک گناہ کرتا ہے، اور اسی طرح جمع کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ممکن ہے اللہ اسے اوندھے منہ دوزخ کی آگ میں ڈال دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8764
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 159، حدیث 8796
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ رَجُلٍ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَأْذَنَّا عَلَى عَبْدِ اللهِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَذِنَ لَنَا وَأَلْقَى عَلَى امْرَأَتِهِ قَطِيفَةً، وَقَالَ: «إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَحْبِسَكُمْ»
ترجمہ
ایک راوی بیان کرتے ہیں: ہم نے نمازِ فجر کے بعد سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اجازت چاہی، تو انہوں نے ہمیں اجازت دی اور اپنی بیوی پر ایک چادر ڈال دی، اور فرمایا: ”مجھے یہ ناپسند تھا کہ میں تمہیں دروازے پر روکے رکھوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8765
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 159، حدیث 8797
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " رَجُلَانِ يَضْحَكُ اللهُ إِلَيْهِمَا: رَجُلٌ تَحْتَهُ فَرَسٌ مِنْ أَمْثَلِ خَيْلِ أَصْحَابِهِ، فَلَقِيَهُمِ الْعَدُوُّ فَانْهَزَمُوا، وَثَبَتَ الْآخَرُ إِنْ قُتِلَ قُتِلَ شَهِيدًا فَذَلِكَ يَضْحَكُ اللهُ إِلَيْهِ، وَرَجُلٌ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لَا يَعْلَمُ بِهِ أَحَدٌ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، وَصَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَمِدَ اللهَ، وَاسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ فَيَضْحَكُ اللهُ إِلَيْهِ، يَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي لَا يَرَاهُ أَحَدٌ غَيْرِي "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دو آدمی ایسے ہیں جن پر اللہ خوش ہوتا ہے: ایک وہ آدمی جس کے نیچے اپنے ساتھیوں کے بہترین گھوڑوں میں سے ایک گھوڑا ہو، پھر دشمن سے مقابلہ ہو اور سب بھاگ جائیں مگر وہ ڈٹا رہے، اگر وہ قتل ہو جائے تو شہید ہو کر مرے گا، تو اس پر اللہ خوش ہوتا ہے۔ اور دوسرا وہ آدمی جو رات کو تہجد کے لیے اٹھے، کوئی اسے نہ جانتا ہو، وہ کامل وضو کرے، محمد ﷺ پر درود بھیجے، اللہ کی حمد کرے اور تلاوت شروع کرے، تو اللہ اس پر خوش ہوتا ہے، اور فرماتا ہے: میرے بندے کو دیکھو، اسے میرے سوا کوئی نہیں دیکھ رہا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8766
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 159، حدیث 8798
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " ثَلَاثٌ أَحْلِفُ عَلَيْهِنَّ، وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا لَبَرَرْتُ: لَا يَجْعَلُ اللهُ مِنْ لَهُ سَهْمٍ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ، وَلَا يَتَوَلَّى اللهَ عَبْدٌ فِي الدُّنْيَا فَوَلَّاهُ غَيْرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا جَاءَ مَعَهُمْ، وَالرَّابِعَةُ الَّتِي لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا لَبَرَرْتُ لَا يَسْتُرُ اللهُ عَلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللهُ فِي الْآخِرَةِ "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں، اور چوتھی بات پر اگر میں قسم کھاؤں تو بھی سچا ہی ہوں گا: اللہ اسلام میں حصہ رکھنے والے کو حصہ نہ رکھنے والے کی طرح نہیں کرے گا، اور جو بندہ دنیا میں اللہ کو اپنا ولی بناتا ہے اسے قیامت کے دن اللہ کے سوا کوئی اور ولی نہیں بنایا جائے گا، اور جو آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے وہ ان کے ساتھ ہی اٹھایا آئے گا۔ اور چوتھی بات جس پر اگر میں قسم کھاؤں تو بھی سچا ہوں گا: اللہ دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرتا ہے تو آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی کرے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8767
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 159، حدیث 8799
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " ثَلَاثٌ أَحْلِفُ عَلَيْهِنَّ، وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا رَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ، وَلَبَرَرْتُ: أَنْ لَا يَجْعَلَ اللهُ ذَا سَهْمٍ فِي السَّلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ، وَلَا يَتَوَلَّى اللهَ عَبْدٌ مُسْلِمٌ فَيُوَلِّيَهُ سِوَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا بَعَثَهُ اللهُ مَعَهُمْ، وَأَسْهُمُ الْإِسْلَامِ ثَلَاثَةٌ: الصَّلَاةُ، وَالزَّكَاةُ، وَالصِّيَامُ، وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا لَرَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ: لَا يَسْتُرُ اللهُ عَلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تین باتوں پر میں قسم کھاتا ہوں، اور چوتھی بات پر اگر میں قسم کھاؤں تو مجھے امید ہے کہ گناہ گار نہیں ہوں گا اور سچا ہی ہوں گا: اللہ اسلام میں حصہ رکھنے والے کو حصہ نہ رکھنے والے کی طرح نہیں کرے گا، اور جو مسلمان بندہ اللہ کو اپنا ولی بناتا ہے اسے قیامت کے دن اللہ کے سوا کوئی اور ولی نہیں بنایا جائے گا، اور جو آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اللہ اسے ان کے ساتھ ہی اٹھائے گا۔“ اور اسلام کے حصے تین ہیں: نماز، زکوٰۃ اور روزہ۔ ”اور چوتھی بات، جس پر اگر میں قسم کھاؤں تو مجھے امید ہے کہ گناہ گار نہیں ہوں گا: اللہ دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرتا ہے تو آخرت میں بھی اس کی پردہ پوشی کرے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8768
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 160، حدیث 8800
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، وَقَدِ اكْتَنَفَهُ رَجُلَانِ، فَلَمَّا سَلَّمَ سَأَلَاهُ عَنْ آيَةٍ، فَقَالَ لِأَحَدِهِمَا: «مَنْ أَقْرَأَكَ؟» قَالَ: عُمَرُ، فَقَالَ لِلْآخَرِ: «مَنْ أَقْرَأَكَ؟» قَالَ: أَبُو حَكِيمٍ - قَالَ: أَوْ أَبُو عَمْرَةَ - فَقَالَ: «اقْرَأْ كَمَا أَقْرَأَكَ عُمَرُ» ، ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ الْحَصَا دُمُوعُهُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ كَانَ لِلْإِسْلَامِ حِصْنًا حَصِينًا يَدْخُلُونَ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا يَخْرُجُونَ، فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ، انْثَلَمَ الْحِصْنُ»
ترجمہ
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: میں اور ایک اور شخص سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، اور دو آدمی ان کے دائیں بائیں تھے۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو ان دونوں نے ان سے ایک آیت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے ایک سے پوچھا: ”تمہیں کس نے پڑھائی؟“ اس نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ نے۔ پھر دوسرے سے پوچھا: ”تمہیں کس نے پڑھائی؟“ اس نے کہا: ابوحکیم نے — یا فرمایا: ابوعمرہ نے — تو انہوں نے فرمایا: ”اسی طرح پڑھو جیسے تمہیں عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ہے۔“ پھر وہ اس قدر روئے کہ ان کے آنسوؤں سے کنکریاں تر ہو گئیں، پھر فرمایا: ”بے شک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے، لوگ اسلام میں داخل ہوتے تھے اور نکلتے نہیں تھے، پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو وہ قلعہ ٹوٹ گیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8769
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 160، حدیث 8801
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: تَمَارَى رَجُلَانِ فِي آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَأَتَيَا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَقْرَأَنِيهَا أَبُو عَمْرَةَ، وَقَالَ الْآخَرُ: أَقْرَأَنِيهَا عُمَرُ، فَلَمَّا ذُكِرَ عُمَرُ بَكَى عَبْدُ اللهِ، وَهُوَ قَائِمٌ، وَمَسَحَ عَيْنَيْهِ، وَنَفَضَ يَدَهُ فِي الْحَصَا، ثُمَّ قَالَ: «لَهِيَ أَبْيَنُ مِنْ طَرِيقِ السِّيلِحِينَ» ، ثُمَّ قَالَ: «اقْرَأْهَا كَمَا أَقْرَأَكَهَا عُمَرُ، إِنَّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَدْخُلْهُمْ حُزْنٌ عَلَى عُمَرَ يَوْمَ أُصِيبَ لَأَهْلُ سُوءٍ، عُمَرُ كَانَ أَتْقَانَا، وَأَقْرَأَنَا لِكِتَابِ اللهِ»
ترجمہ
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: دو آدمیوں کا قرآن کی ایک آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا تو وہ دونوں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ایک نے کہا: مجھے یہ ابوعمرہ نے پڑھائی ہے، اور دوسرے نے کہا: مجھے یہ عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ہے، تو جب عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے کھڑے رو پڑے، اپنی آنکھیں صاف کیں اور کنکریوں میں اپنا ہاتھ جھاڑا، پھر فرمایا: ”یہ سیلحین کے راستے سے بھی زیادہ واضح ہے۔“ پھر فرمایا: ”اسی طرح پڑھو جیسے تمہیں عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ہے۔ مسلمانوں میں سے وہ گھرانا جسے عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن غم نہ پہنچا ہو، وہ برا گھرانا ہے، عمر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے متقی اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری تھے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8770
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 160، حدیث 8802
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: تَنَازَعَ رَجُلَانِ فِي آيَةٍ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ عَبْدُ اللهِ مِنْ قِبَلِ أَخْتَانِهِ فَقَامَا إِلَيْهِ، وَقُمْتُ إِلَيْهِ مَعَهُمَا، فَقَالَا: إِنَّا تَنَازَعْنَا فِي آيَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ لِأَحَدِهِمَا: «اقْرَأْ» فَقَرَأَ، فَقَالَ: «مَنْ أَقْرَأَكَهَا؟» فَقَالَ: أَبُو عَمْرَةَ مَعْقِلُ بْنُ مُقَرِّنٍ، ثُمَّ قَالَ لِلْآخَرِ: «اقْرَأْهُ» فَقَرَأَ، فَقَالَ: «مَنْ أَقْرَأَكَهَا؟» فَقَالَ: عُمَرُ، فَجَاءَتَا عَيْنَاهُ بِأَرْبَعَةٍ فَبَكَى حَتَّى رَأَيْتُهُ أَخَذَ مِنْ دُمُوعِهِ بِكَفِّهِ، فَقَالَ بِهِ هَكَذَا، فَرَأَيْتُ أَثَرَيْنِ فِي الْحَصَا مِنْ دُمُوعِ عَبْدِ اللهِ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَا أَظَنُّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ حُزْنُ عُمَرَ يَوْمَ أُصِيبَ إِلَّا بَيْتُ سُوءٍ، إِنَّ عُمَرَ كَانَ أَعْلَمَنَا بِاللهِ وَأَقْرَأَنَا لِكِتَابِ اللهِ، وَأَفْقَهَنَا لِدِينِ اللهِ، وَاقْرَأْهَا كَمَا أَقْرَأَكَهَا عُمَرُ، فَوَاللهِ لَهِيَ أَبْيَنُ مِنْ طَرِيقِ السِّيلِحِينَ»
ترجمہ
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: دو آدمیوں کا ایک آیت میں اختلاف ہو گیا، ہم اسی حال میں تھے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے سسرالی رشتہ داروں کی طرف سے آتے دکھائی دیے، تو وہ دونوں ان کی طرف کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوا، تو انہوں نے کہا: ہمارا ایک آیت میں اختلاف ہو گیا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک سے فرمایا: ”پڑھو“، تو اس نے پڑھا، فرمایا: ”تمہیں یہ کس نے پڑھائی؟“ اس نے کہا: ابوعمرہ معقل بن مقرن نے۔ پھر دوسرے سے فرمایا: ”پڑھو“، تو اس نے پڑھا، فرمایا: ”تمہیں یہ کس نے پڑھائی؟“ اس نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ نے، تو ان کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، وہ اس قدر روئے کہ میں نے دیکھا انہوں نے اپنے آنسو ہتھیلی میں لیے اور انہیں یوں زمین پر ڈالا، تو میں نے کنکریوں میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے آنسوؤں کے دو نشان دیکھے، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ مسلمانوں میں سے وہ گھرانا جسے عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن غم نہ پہنچا ہو، وہ برا گھرانا ہی ہو سکتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے بڑھ کر اللہ کو جاننے والے، اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری، اور دینِ الٰہی کی سب سے زیادہ سمجھ رکھنے والے تھے۔ اسی طرح پڑھو جیسے تمہیں عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ہے، اللہ کی قسم! یہ سیلحین کے راستے سے بھی زیادہ واضح ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8771
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 161، حدیث 8803
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَتَى عَبْدَ اللهِ رَجُلَانِ - وَكُنَّا عِنْدَهُ - فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَيْفَ نَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةِ؟ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّ أَبَا حَكِيمٍ أَقْرَأَنِيهَا كَذَا، وَكَذَا، قَالَ: وَقَرَأَ الْآخَرُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَنْ أَقْرَأَكَهَا؟» فَقَالَ: عُمَرُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «اقْرَأْ كَمَا أَقْرَأَكَ عُمَرُ» ، ثُمَّ بَكَى عَبْدُ اللهِ حَتَّى رَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَحَدَّرُ فِي الْحَصَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ عُمَرَ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا عَلَى الْإِسْلَامِ يَدْخُلُ النَّاسُ فِيهِ، وَلَا يَخْرُجُونَ، وَإِنَّ الْحِصْنَ أَصْبَحَ قَدِ انْثَلَمَ فَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ مِنْهُ، وَلَا يَدْخُلُونَ»
ترجمہ
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس دو آدمی آئے - ہم اس وقت ان کے پاس تھے - تو ایک نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! یہ آیت ہم کیسے پڑھیں؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے پڑھ کر سنایا، تو اس شخص نے کہا: ابوحکیم نے تو مجھے اسے یوں یوں پڑھایا تھا۔ راوی کہتے ہیں: اور دوسرے نے اپنی طرح سے پڑھی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تمہیں یہ کس نے پڑھائی؟“ اس نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ نے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسی طرح پڑھو جیسے تمہیں عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ہے“، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس قدر روئے کہ میں نے دیکھا ان کے آنسو کنکریوں میں ٹپک رہے تھے، پھر فرمایا: ”بے شک عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے، لوگ اس میں داخل ہوتے تھے اور نکلتے نہیں تھے، اور اب وہ قلعہ ٹوٹ چکا ہے، اب لوگ اس سے نکلتے ہیں اور داخل نہیں ہوتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8772
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 161، حدیث 8804
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ مَسْعُودٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي، فَانْتَظَرْنَاهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، فَجَاءَهُ رَجُلَانِ قَدِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَقَرَأَهُ أَحَدُهُمَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «أَحْسَنْتَ، مَنْ أَقْرَأَكَ؟» قَالَ: أَقْرَأَنِي أَبُو حَكِيمٍ الْمُزَنِيُّ، وَاسْتَقْرَأَ الْآخَرَ فَقَالَ: «مَنْ أَقْرَأَكَ؟» فَقَالَ: أَقْرَأَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَبَكَى عَبْدُ اللهِ حَتَّى خَضَّبَتْ دُمُوعُهُ الْحَصَا، ثُمَّ قَالَ: «اقْرَأْ كَمَا أَقْرَأَكَ عُمَرُ» ، ثُمَّ دَوَّرَ دَارَةً بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ عُمَرَ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا لِلْإِسْلَامِ يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ، وَلَا يَخْرُجُونَ مِنْهُ، فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ انْثَلَمَ الْحِصْنُ، فَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ مِنْهُ، وَلَا يَدْخُلُونَ»
ترجمہ
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہیں نماز پڑھتے پایا، ہم نے انتظار کیا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہوئے، تو دو آدمی ان کے پاس آئے جو ایک آیت میں اختلاف رکھتے تھے، ان میں سے ایک نے پڑھی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ٹھیک پڑھا، تمہیں کس نے پڑھائی؟“ اس نے کہا: مجھے ابوحکیم مزنی نے پڑھائی ہے۔ پھر دوسرے سے پڑھوایا، فرمایا: ”تمہیں کس نے پڑھائی؟“ اس نے کہا: مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ہے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رو پڑے یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں سے کنکریاں رنگین ہو گئیں، پھر فرمایا: ”اسی طرح پڑھو جیسے تمہیں عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ہے“، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک دائرہ بنایا، پھر فرمایا: ”بے شک عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے، لوگ اس میں داخل ہوتے تھے اور اس سے نکلتے نہیں تھے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو قلعہ ٹوٹ گیا، اب لوگ اس سے نکلتے ہیں اور اس میں داخل نہیں ہوتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8773
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 162، حدیث 8805
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّ إِسْلَامَ عُمَرَ كَانَ فَتْحًا، وَإِنَّ هِجْرَتَهُ كَانَتْ نَصْرًا، وَإِنَّ إِمَارَتَهُ كَانَتْ رَحْمَةً، وَاللهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ ظَاهِرِينَ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بے شک عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا فتح تھا، ان کی ہجرت نصرت تھی، اور ان کی امارت رحمت تھی۔ اللہ کی قسم! ہم کعبہ کے پاس اعلانیہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8774
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 162، حدیث 8806
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَحَمَّادٍ، قَالَا: سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ: سَمِعَهُمَا يَقُولَانِ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: «إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا لِلْإِسْلَامِ يُدْخَلُ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا يُخْرَجُ مِنْهُ، فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ، انْثَلَمَ مِنَ الْحِصْنِ ثُلْمَةُ فَهُوَ يَخْرُجُ مِنْهُ، وَلَا يَدْخُلُ فِيهِ، وَكَانَ إِذَا سَلَكَ طَرِيقًا، وَجَدْنَاهُ سَهْلًا، فَإِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بِعُمَرَ، كَانَ فَصْلَ مَا بَيْنَ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ، وَاللهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَخْدُمُ مِثْلَهُ حَتَّى أَمُوتَ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے، لوگ اسلام میں داخل ہوتے تھے اور اس سے نکلتے نہیں تھے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو قلعے میں شگاف پڑ گیا، اب لوگ اس سے نکلتے ہیں اور اس میں داخل نہیں ہوتے۔ وہ جب کسی راستے پر چلتے تو ہم اسے آسان پاتے۔ جب نیک لوگوں کا ذکر ہو تو عمر رضی اللہ عنہ کو ضرور یاد کرو۔ وہ زیادتی اور کمی کے فرق کو بہترین نکھارنے والے تھے۔ اللہ کی قسم! میری خواہش ہے کہ میں مرتے دم تک ان جیسے کسی کی خدمت کرتا رہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8775
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 162، حدیث 8807
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «وَاللهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ عِلْمَ عُمَرَ لَوْ وُضِعَ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ، وَوُضِعَ سَائِرُ أَحْيَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ لَرَجَحَ عَلَيْهِ عَلْمُ عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ» قَالَ سُلَيْمَانُ: فَذَكَرْتُهُ فَقَالَ: لَقَدْ قَالَ عَبْدُ اللهِ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: «إِنِّي لَأَظُنُّ عُمَرَ قَدْ ذَهَبَ بِتِسْعَةِ أَعْشَارِ الْعِلْمِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ اگر عمر رضی اللہ عنہ کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور زمین پر باقی تمام زندہ لوگوں کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو عمر رضی اللہ عنہ کا علم بھاری رہے گا۔“ سلیمان (اعمش) کہتے ہیں: میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے بھی بڑھ کر بات کہی ہے، فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ علم کا نو دہائی حصہ لے گئے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8776
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 162، حدیث 8808
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَوْ أَنَّ عِلْمَ عُمَرَ وُضِعَ فِي كِفَّةِ مِيزَانٍ، وَوُضِعَ عَلْمُ أَهْلِ الْأَرْضِ فِي كِفَّةٍ لَرَجَحَ عِلْمُهُ بِعِلْمِهِمْ» قَالَ وَكِيعُ: قَالَ الْأَعْمَشُ: فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَذَكَرْتُهُ لَهُ، فَقَالَ: وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ، فَوَاللهِ لَقَدْ قَالَ عَبْدُ اللهِ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «إِنِّي لَأَحْسِبُ تِسْعَةَ أَعْشَارِ الْعِلْمِ ذَهَبَ يَوْمَ ذَهَبَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر عمر رضی اللہ عنہ کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور اہلِ زمین کا سارا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو ان کا علم ان سب کے علم پر بھاری رہے گا۔“ وکیع کہتے ہیں: اعمش نے بتایا: مجھے یہ بات عجیب لگی، تو میں ابراہیم کے پاس گیا اور یہ بات ان سے ذکر کی، تو انہوں نے کہا: تمہیں اس میں کیا عجیب لگا؟ اللہ کی قسم! سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے بھی بڑھ کر بات کہی ہے، فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ علم کا نو دہائی حصہ اسی دن چلا گیا جس دن عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8777
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 163، حدیث 8809
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا مَنْصُورٌ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنِّي لَأَحْسِبُ عُمَرَ قَدْ رُفِعَ مَعَهُ يَوْمَ مَاتَ تِسْعَةُ أَعْشَارِ الْعِلْمِ، وَإِنِّي لَأَحْسِبُ عَلْمَ عُمَرَ لَوْ وُضِعَ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ، وَعَلْمُ مَنْ بَعْدَهُ لَرَجَحَ عَلَيْهِ عَلْمُ عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میرا خیال ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ جس دن فوت ہوئے، علم کا نو دہائی حصہ ان کے ساتھ اٹھ گیا، اور میرا خیال ہے کہ اگر عمر رضی اللہ عنہ کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور ان کے بعد آنے والوں کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو عمر رضی اللہ عنہ کا علم بھاری رہے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8778
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 163، حدیث 8810
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ هُوَ؟، قَالَ: «فِي الْجَنَّةِ هُوَ» ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: «ذَاكَ الْأَوَّاهُ عِنْدَ كُلِّ خَيْرٍ يُبْغَى» ، قَالَ: تُوُفِّيَ عُمَرُ فَأَيْنَ هُوَ؟ " قَالَ: فَإِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بِعُمَرَ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، وہ کہاں ہیں؟ فرمایا: ”وہ جنت میں ہیں۔“ کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، وہ کہاں ہیں؟ فرمایا: ”وہ بہت آہ و زاری کرنے والے تھے، ہر خیر کے طالب تھے۔“ کہا: عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، وہ کہاں ہیں؟ فرمایا: ”جب نیک لوگوں کا ذکر ہو تو عمر رضی اللہ عنہ کو ضرور یاد کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8779
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 163، حدیث 8811
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بِعُمَرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب نیک لوگوں کا ذکر ہو تو عمر رضی اللہ عنہ کو ضرور یاد کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8780
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 164، حدیث 8812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بِعُمَرَ، إِنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ نَصْرًا، وَإِنَّ إِمَارَتَهُ كَانَتْ فَتْحًا، وَايْمُ اللهِ مَا أَعْلَمُ عَلَى الْأَرْضِ شَيْئًا إِلَّا، وَقَدْ وَجَدَ فَقْدَ عُمَرَ حَتَّى الْعِضَاهَ، وَايْمُ اللهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ وَيُرْشِدُهُ، وَايْمُ اللهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ الشَّيْطَانَ يَفْرَقُ مِنْهُ أَنْ يُحْدِثَ فِي الْإِسْلَامِ حَدَثًا فَيَرُدَّ عَلَيْهِ عُمَرُ، وَايْمُ اللهِ لَوْ أَعْلَمُ كَلْبًا يُحِبُّ عُمَرَ لَأَحْبَبْتُهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب نیک لوگوں کا ذکر ہو تو عمر رضی اللہ عنہ کو ضرور یاد کرو۔ بے شک ان کا اسلام لانا نصرت تھا، اور ان کی امارت فتح تھی۔ اللہ کی قسم! میں زمین پر کوئی ایسی چیز نہیں جانتا جس نے عمر رضی اللہ عنہ کی کمی محسوس نہ کی ہو، یہاں تک کہ کانٹے دار درخت بھی۔ اور اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا جو انہیں سیدھی راہ پر رکھتا اور ہدایت دیتا تھا۔ اور اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ شیطان اس بات سے ڈرتا تھا کہ اسلام میں کوئی نئی بات پیدا کرے کہ کہیں عمر رضی اللہ عنہ اسے رد نہ کر دیں۔ اور اللہ کی قسم! اگر مجھے پتا چلے کہ کوئی کتا بھی عمر رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے تو میں اس سے بھی محبت کروں گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8781
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 164، حدیث 8813
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَقَدْ أَحْبَبْتُ عُمَرَ حَتَّى لَقَدْ خِفْتُ اللهَ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّ كَلْبًا يُحِبُّ عُمَرَ لَأَحْبَبْتُهُ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ خَادِمًا لِعُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، وَلَقَدْ وَجَدَ فَقْدَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْعِضَاهَ، وَإِنَّ هِجْرَتَهُ كَانَتْ نَصْرًا، وَإِنَّ سُلْطَانَهُ كَانَ رَحْمَةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس قدر محبت کی کہ مجھے اللہ کا خوف محسوس ہوا۔ اگر مجھے پتا چلے کہ کوئی کتا بھی عمر رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا ہے تو میں اس سے بھی محبت کروں گا، اور میری خواہش تھی کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کا خادم ہوتا۔ ان کی کمی ہر چیز نے محسوس کی، یہاں تک کہ کانٹے دار درختوں نے بھی۔ ان کی ہجرت نصرت تھی، اور ان کی حکمرانی رحمت تھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8782
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 164، حدیث 8814
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَوْ أَنَّ عُمَرَ، أَحَبَّ كَلْبًا كَانَ أَحَبَّ الْكِلَابِ إِلَيَّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر عمر رضی اللہ عنہ کسی کتے سے محبت کرتے تو وہ مجھے تمام کتوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8783
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 164، حدیث 8815
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَقَدْ خَشِيتُ اللهَ فِي حِبِّي عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مجھے عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی محبت میں اللہ کا خوف محسوس ہوا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8784
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 164، حدیث 8816
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بِعُمَرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب نیک لوگوں کا ذکر ہو تو عمر رضی اللہ عنہ کو ضرور یاد کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8785
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 165، حدیث 8817
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ، يَقُولُ: «إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بِعُمَرَ، وَدِدْتُ أَنِّي خَادِمٌ لِمِثْلِ عُمَرَ حَتَّى أَمُوتَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”جب نیک لوگوں کا ذکر ہو تو عمر رضی اللہ عنہ کو ضرور یاد کرو، میری خواہش ہے کہ میں مرتے دم تک عمر رضی اللہ عنہ جیسے کسی کی خدمت کرتا رہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8786
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 165، حدیث 8818
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بِعُمَرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب نیک لوگوں کا ذکر ہو تو عمر رضی اللہ عنہ کو ضرور یاد کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8787
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 165، حدیث 8819
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرُ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنْ كَانَ إِسْلَامُ عُمَرَ لَفَتْحًا، وَإِمَارَتُهُ لَرَحَمَةً، وَاللهِ مَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نُصَلِّيَ بِالْبَيْتِ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ، فَلَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ قَابَلَهُمْ حَتَّى دَعَوْنَا فَصَلَّيْنَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا فتح تھا، اور ان کی امارت رحمت تھی۔ اللہ کی قسم! ہم بیت اللہ کے پاس نماز نہیں پڑھ سکتے تھے یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو انہوں نے مشرکوں کا سامنا کیا یہاں تک کہ ہم اللہ کو پکارتے ہوئے نماز پڑھ سکے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8788
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 165، حدیث 8820
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب سے عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ہے ہم برابر باعزت رہے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8789
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 165، حدیث 8821
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب سے عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ہے ہم برابر باعزت رہے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8790
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 165، حدیث 8822
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب سے عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ہے ہم برابر باعزت رہے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8791
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 165، حدیث 8823
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، ثنا عَاصِمٌ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " لَقِيَ الشَّيْطَانُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَارَعَهُ فَتَعَرَهُ الْمُسْلِمُ وَأَرَمَّ بِإِبْهَامِهِ، فَقَالَ: دَعْنِي أُعَلِّمْكَ آيَةً لَا يَسْمَعُهَا أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا وَلَّى، فَأَرْسَلَهُ فَأَبَى أَنْ يُعَلِّمَهُ فَعَادَ فَصَارَعَهُ فَتَعَرَهُ الْمُسْلِمُ وَأَرَمَّ بِإِبْهَامِهِ، قَالَ: أَخْبِرْنِي بِهَا فَأَبَى أَنْ يُعَلِّمَهُ، فَلَمَّا عَادَ الثَّالِثَةَ، قَالَ: الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ: {اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: ٢٥٥] إِلَى آخِرِهَا " فَقِيلَ لِعَبْدِ اللهِ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مَنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: «مَنْ عَسَى أَنْ يَكُونَ إِلَّا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِي اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شیطان محمد ﷺ کے ایک صحابی سے ملا اور اس سے کشتی لڑی، تو اس مسلمان نے اسے پچھاڑ دیا اور اپنے انگوٹھے سے اسے دبوچ لیا۔ شیطان نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایک ایسی آیت سکھاتا ہوں کہ ہم میں سے کوئی بھی اسے سنے تو بھاگ جائے۔ چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا تو شیطان نے سکھانے سے انکار کر دیا۔ پھر دوبارہ آیا اور اس سے کشتی لڑی، تو مسلمان نے پھر اسے پچھاڑ دیا اور اپنے انگوٹھے سے دبوچ لیا۔ اس نے کہا: مجھے وہ آیت بتاؤ، تو اس نے پھر سکھانے سے انکار کر دیا۔ جب تیسری بار لوٹا تو اس نے کہا: وہ آیت جو سورۃ البقرہ میں ہے: اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ [سورۃ البقرہ: 255] آخر تک۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اے ابوعبدالرحمٰن! وہ شخص کون تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سوا اور کون ہو سکتا ہے؟“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8792
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 165، حدیث 8824
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنِّي لَأَحْسِبُ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنْ حِسِّ عُمَرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میرا خیال ہے کہ شیطان عمر رضی اللہ عنہ کی آہٹ سے بھاگ جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8793
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 166، حدیث 8825
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " لَقِيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْجِنِّ فَصَارَعَهُ فَصَرَعَهُ الْإِنْسِيُّ، فَقَالَ لَهُ الْجِنِّيُّ: عَاوِدْنِي، فَعَاوَدَهُ فَصَرَعَهُ، فَقَالَ لَهُ الْإِنْسِيُّ: إِنِّي لَأَرَاكَ ضَئِيلًا شَحِيبًا كَأَنَّ ذُرَيِّعَتَيْكَ ذُرَيِّعَتَا كَلْبٍ، فَكَذَلِكَ أَنْتُمْ مَعْشَرَ الْجِنِّ - أَوْ أَنْتَ مِنْهُمْ كَذَلِكَ - قَالَ: لَا وَاللهِ إِنِّي مِنْهُمْ لَضَلِيعٌ، وَلَكِنْ عَاوِدْنِي الثَّالِثَةَ فَإِنْ صَرَعْتَنِي عَلَّمْتُكَ شَيْئًا يَنْفَعُكَ فَعَاوَدَهُ فَصَرَعَهُ، قَالَ: هَاتِ عَلِّمْنِي، قَالَ: هَلْ تَقْرَأُ آيَةَ الْكُرْسِيِّ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَهَا فِي بَيْتٍ إِلَّا خَرَجَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ لَهُ خَبَجٌ كَخَبَجِ الْحِمَارِ لَا يَدْخُلُهُ حَتَّى يُصْبِحَ " قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَنْ ذَاكَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: فَعَبَسَ عَبْدُ اللهِ، وَأَقْبَلَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: مَنْ يَكُونُ هُوَ إِلَّا عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص کی ایک جن سے ملاقات ہوئی تو اس نے اس سے کشتی لڑی، انسان نے جن کو پچھاڑ دیا۔ جن نے اس سے کہا: دوبارہ مقابلہ کرو، تو اس نے دوبارہ مقابلہ کیا اور اسے پھر پچھاڑ دیا۔ انسان نے اس سے کہا: میں تمہیں کمزور اور لاغر دیکھ رہا ہوں، گویا تمہارے دونوں بازو کتے کی دو ٹانگوں کی طرح ہیں، کیا تم جنات سب اسی طرح ہو — یا تم خود اسی طرح ہو؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں تو ان میں طاقتور شمار ہوتا ہوں، لیکن تیسری بار مجھ سے مقابلہ کرو، اگر تم نے مجھے پچھاڑ دیا تو میں تمہیں ایک ایسی چیز سکھاؤں گا جو تمہیں نفع دے گی۔ چنانچہ اس نے پھر مقابلہ کیا اور اسے پچھاڑ دیا۔ اس نے کہا: لاؤ مجھے سکھاؤ۔ اس نے کہا: کیا تم آیت الکرسی پڑھتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: تم جس گھر میں بھی اسے پڑھو گے، اس میں سے شیطان گدھے کی طرح آواز کے ساتھ ریح خارج کرتا ہوا نکل جائے گا، اور صبح تک اس میں داخل نہیں ہو گا۔ قوم میں سے ایک شخص نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! محمد ﷺ کے صحابہ میں سے وہ شخص کون تھا؟ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ناگواری آ گئی، اور اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: وہ عمر رضی اللہ عنہ کے سوا اور کون ہو سکتا ہے؟
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8794
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 166، حدیث 8826
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہمیں یہ بعید معلوم نہیں ہوتا تھا کہ سکینت عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر بولتی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8795
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 167، حدیث 8827
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي نَهْشَلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَضَلَ عُمَرُ النَّاسَ بِأَرْبَعٍ: بِذِكْرِهِ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: ٦٨] وَبِذْكِرِهِ الْحِجَابَ، فَقَالَتْ زَيْنَبُ: وَإِنَّكَ لَتَغَارُ مِنَّا، وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الأحزاب: ٥٣] وَدَعْوَةِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» رَضِي اللهُ عَنْهُ، وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أَوَّلَ النَّاسِ بَايَعَهُ
ترجمہ
ابو وائل رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ کو لوگوں پر چار باتوں میں فضیلت حاصل ہوئی: بدر کے دن قیدیوں کے بارے میں ان کی رائے، انہوں نے ان کے قتل کا حکم دیا تھا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اگر اللہ کی طرف سے پہلے سے ایک بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا اس میں تمہیں بڑا عذاب پہنچتا“ [سورۃ الانفال: 68]۔ اور پردے کا ذکر کرنا، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: تم تو ہم پر غیرت کھاتے ہو حالانکہ وحی تو ہمارے گھروں میں نازل ہوتی ہے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور جب تم ان (ازواجِ مطہرات) سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو“ [سورۃ الاحزاب: 53]، اور نبی کریم ﷺ کی یہ دعا بھی: ”اے اللہ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو تقویت دے“، اور ان کی رائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ تھی کہ وہ سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے ان کی بیعت کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8796
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 167، حدیث 8828
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " أَفْرَسُ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: صَاحِبَةُ مُوسَى الَّتِي قَالَتْ: {يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ} [القصص: ٢٦] ، قَالَ: وَمَا رَأَيْتِ مِنْ قُوَّتِهِ؟ قَالَتْ: جَاءَ إِلَى الْبِئْرِ وَعَلَيْهِ صَخْرَةٌ لَا يُقِلُّهَا كَذَا، وَكَذَا فَرَفَعَهَا، قَالَ: مَا رَأَيْتِ مِنْ أَمَانَتِهِ؟ قَالَتْ: كُنْتُ أَمْشِي أَمَامَهُ فَجَعَلَنِي خَلْفَهُ، وَصَاحِبُ يُوسُفَ حَيْثُ قَالَ: {أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا} [يوسف: ٢١] ، وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ اسْتَخْلَفَ عُمَرَ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سب سے زیادہ فراست والے تین لوگ ہیں: سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے سسر کی صاحبزادی، جس نے کہا: ”اے میرے باپ! اسے نوکر رکھ لیجیے، بے شک بہترین وہ ہے جسے آپ نوکر رکھیں جو طاقتور اور امانت دار ہو“ [سورۃ القصص: 26]، اس کے باپ نے پوچھا: تم نے اس کی قوت کا کیا مشاہدہ کیا؟ اس نے کہا: وہ کنویں پر آیا جس پر اتنی بڑی چٹان تھی کہ اسے عام طور پر کئی آدمی مل کر بھی نہیں اٹھا سکتے تھے، مگر اس نے اسے اکیلے اٹھا لیا۔ باپ نے پوچھا: تم نے اس کی امانت داری کا کیا مشاہدہ کیا؟ اس نے کہا: میں اس کے آگے چل رہی تھی تو اس نے مجھے اپنے پیچھے کر لیا۔ اور دوسرے سیدنا یوسف علیہ السلام کے مصری مالک، جس نے کہا: ”اسے عزت سے رکھو، شاید یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں“ [سورۃ یوسف: 21]۔ اور تیسرے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، جب انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8797
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 167، حدیث 8829
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا الْأَحْوَصُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا نَاسٌ، مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ قَالُوا: قَالَ عَبْدُ اللهِ: مِنْ أَفْرَسِ ثَلَاثَةٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کچھ ساتھی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ فراست والے تین لوگ ہیں“، پھر اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8798
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 167، حدیث 8830
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنِّي لَأَحْسِبُ بَيْنَ عَيْنَيْ عُمَرَ مَلَكُ يُسَدِّدُهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میرا خیال ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ ہے جو انہیں سیدھی راہ پر رکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8799
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 168، حدیث 8831
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا، وَكَأَنَّ مَلَكًا بَيْنَ عَيْنَيْهِ يُسَدِّدُ»
ترجمہ
ابووائل بیان کرتے ہیں: ”میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو جب بھی دیکھا تو ایسا لگا گویا ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ ہے جو انہیں سیدھی راہ پر رکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8800
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 168، حدیث 8832
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِلَّا وَيُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جب بھی دیکھا، مجھے یہی خیال ہوا کہ گویا ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان کوئی فرشتہ ہے جو انہیں درست راہ پر رکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8801
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 168، حدیث 8833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِنَّ عُمَرَ كَرِهَ الصَّلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ» ، وَأَنَا أَكْرَهُ مَا كَرِهَ عُمَرُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”عمر رضی اللہ عنہ عصر کے بعد نماز پڑھنے کو ناپسند کرتے تھے، اور میں بھی اسی چیز کو ناپسند کرتا ہوں جسے عمر رضی اللہ عنہ ناپسند کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8802
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 168، حدیث 8834
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُمَرُ سَارَ إِلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ سَبْعًا فَخَطَبَنَا، فَقَالَ: " إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ أَصَابَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ غُلَامُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَهُوَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَقَتَلَهُ فَبَكَى، وَبَكَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّا اجْتَمَعْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ فَأَمَّرْنَا خَيْرَنَا ذَا فُوقٍ "
ترجمہ
شقیق بیان کرتے ہیں: جب عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سات دن کا سفر کر کے ہمارے پاس آئے اور ہمیں خطبہ دیا، فرمایا: ”امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کو مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابولؤلؤہ نے، جبکہ وہ نماز فجر میں تھے، زخمی کر کے شہید کر دیا۔“ یہ کہہ کر وہ خود بھی رو پڑے اور لوگ بھی رو پڑے، پھر فرمایا: ”ہم اصحاب محمد ﷺ جمع ہوئے اور اپنے میں سے بہترین اور صحیح شخص کو امیر بنایا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8803
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 168، حدیث 8835