المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: تَنَازَعَ رَجُلَانِ فِي آيَةٍ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ عَبْدُ اللهِ مِنْ قِبَلِ أَخْتَانِهِ فَقَامَا إِلَيْهِ، وَقُمْتُ إِلَيْهِ مَعَهُمَا، فَقَالَا: إِنَّا تَنَازَعْنَا فِي آيَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ لِأَحَدِهِمَا: «اقْرَأْ» فَقَرَأَ، فَقَالَ: «مَنْ أَقْرَأَكَهَا؟» فَقَالَ: أَبُو عَمْرَةَ مَعْقِلُ بْنُ مُقَرِّنٍ، ثُمَّ قَالَ لِلْآخَرِ: «اقْرَأْهُ» فَقَرَأَ، فَقَالَ: «مَنْ أَقْرَأَكَهَا؟» فَقَالَ: عُمَرُ، فَجَاءَتَا عَيْنَاهُ بِأَرْبَعَةٍ فَبَكَى حَتَّى رَأَيْتُهُ أَخَذَ مِنْ دُمُوعِهِ بِكَفِّهِ، فَقَالَ بِهِ هَكَذَا، فَرَأَيْتُ أَثَرَيْنِ فِي الْحَصَا مِنْ دُمُوعِ عَبْدِ اللهِ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَا أَظَنُّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ حُزْنُ عُمَرَ يَوْمَ أُصِيبَ إِلَّا بَيْتُ سُوءٍ، إِنَّ عُمَرَ كَانَ أَعْلَمَنَا بِاللهِ وَأَقْرَأَنَا لِكِتَابِ اللهِ، وَأَفْقَهَنَا لِدِينِ اللهِ، وَاقْرَأْهَا كَمَا أَقْرَأَكَهَا عُمَرُ، فَوَاللهِ لَهِيَ أَبْيَنُ مِنْ طَرِيقِ السِّيلِحِينَ»… تو ہم اسی حال میں تھے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے سسرالی رشتہ داروں کی طرف سے آتے دکھائی دیے، تو وہ دونوں ان کی طرف کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوا، تو انہوں نے کہا: ہمارا ایک آیت میں اختلاف ہو گیا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک سے فرمایا: ”پڑھو“، تو اس نے پڑھا، فرمایا: ”تمہیں یہ کس نے پڑھائی؟“ اس نے کہا: ابوعمرہ معقل بن مقرن نے۔ پھر دوسرے سے فرمایا: ”پڑھو“، تو اس نے پڑھا، فرمایا: ”تمہیں یہ کس نے پڑھائی؟“ اس نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ نے، تو ان کی دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، وہ اس قدر روئے کہ میں نے دیکھا انہوں نے اپنے آنسو ہتھیلی میں لیے اور انہیں یوں زمین پر ڈالا، تو میں نے کنکریوں میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے آنسوؤں کے دو نشان دیکھے، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ مسلمانوں میں سے وہ گھرانا جسے عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن غم نہ پہنچا ہو، وہ برا گھرانا ہی ہو سکتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے بڑھ کر اللہ کو جاننے والے، اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری، اور دینِ الٰہی کی سب سے زیادہ سمجھ رکھنے والے تھے۔ اسی طرح پڑھو جیسے تمہیں عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ہے، اللہ کی قسم! یہ سیلحین کے راستے سے بھی زیادہ واضح ہے۔“