حدیث نمبر: 8772
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَتَى عَبْدَ اللهِ رَجُلَانِ - وَكُنَّا عِنْدَهُ - فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، كَيْفَ نَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةِ؟ فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّ أَبَا حَكِيمٍ أَقْرَأَنِيهَا كَذَا، وَكَذَا، قَالَ: وَقَرَأَ الْآخَرُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَنْ أَقْرَأَكَهَا؟» فَقَالَ: عُمَرُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «اقْرَأْ كَمَا أَقْرَأَكَ عُمَرُ» ، ثُمَّ بَكَى عَبْدُ اللهِ حَتَّى رَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَحَدَّرُ فِي الْحَصَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ عُمَرَ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا عَلَى الْإِسْلَامِ يَدْخُلُ النَّاسُ فِيهِ، وَلَا يَخْرُجُونَ، وَإِنَّ الْحِصْنَ أَصْبَحَ قَدِ انْثَلَمَ فَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ مِنْهُ، وَلَا يَدْخُلُونَ»
ترجمہ

… یہ آیت ہم کیسے پڑھیں؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے پڑھ کر سنایا، تو اس شخص نے کہا: ابوحکیم نے تو مجھے اسے یوں یوں پڑھایا تھا۔ راوی کہتے ہیں: اور دوسرے نے اپنی طرح سے پڑھی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تمہیں یہ کس نے پڑھائی؟“ اس نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ نے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسی طرح پڑھو جیسے تمہیں عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ہے“، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس قدر روئے کہ میں نے دیکھا ان کے آنسو کنکریوں میں ٹپک رہے تھے، پھر فرمایا: ”بے شک عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے، لوگ اس میں داخل ہوتے تھے اور نکلتے نہیں تھے، اور اب وہ قلعہ ٹوٹ چکا ہے، اب لوگ اس سے نکلتے ہیں اور داخل نہیں ہوتے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8772
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 161، حدیث 8804