المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " لَقِيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْجِنِّ فَصَارَعَهُ فَصَرَعَهُ الْإِنْسِيُّ، فَقَالَ لَهُ الْجِنِّيُّ: عَاوِدْنِي، فَعَاوَدَهُ فَصَرَعَهُ، فَقَالَ لَهُ الْإِنْسِيُّ: إِنِّي لَأَرَاكَ ضَئِيلًا شَحِيبًا كَأَنَّ ذُرَيِّعَتَيْكَ ذُرَيِّعَتَا كَلْبٍ، فَكَذَلِكَ أَنْتُمْ مَعْشَرَ الْجِنِّ - أَوْ أَنْتَ مِنْهُمْ كَذَلِكَ - قَالَ: لَا وَاللهِ إِنِّي مِنْهُمْ لَضَلِيعٌ، وَلَكِنْ عَاوِدْنِي الثَّالِثَةَ فَإِنْ صَرَعْتَنِي عَلَّمْتُكَ شَيْئًا يَنْفَعُكَ فَعَاوَدَهُ فَصَرَعَهُ، قَالَ: هَاتِ عَلِّمْنِي، قَالَ: هَلْ تَقْرَأُ آيَةَ الْكُرْسِيِّ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَهَا فِي بَيْتٍ إِلَّا خَرَجَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ لَهُ خَبَجٌ كَخَبَجِ الْحِمَارِ لَا يَدْخُلُهُ حَتَّى يُصْبِحَ " قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَنْ ذَاكَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: فَعَبَسَ عَبْدُ اللهِ، وَأَقْبَلَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: مَنْ يَكُونُ هُوَ إِلَّا عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص کی ایک جن سے ملاقات ہوئی تو اس نے اس سے کشتی لڑی، انسان نے جن کو پچھاڑ دیا۔ جن نے اس سے کہا: دوبارہ مقابلہ کرو، تو اس نے دوبارہ مقابلہ کیا اور اسے پھر پچھاڑ دیا۔ انسان نے اس سے کہا: میں تمہیں کمزور اور لاغر دیکھ رہا ہوں، گویا تمہارے دونوں بازو کتے کی دو ٹانگوں کی طرح ہیں، کیا تم جنات سب اسی طرح ہو — یا تم خود اسی طرح ہو؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں تو ان میں طاقتور شمار ہوتا ہوں، لیکن تیسری بار مجھ سے مقابلہ کرو، اگر تم نے مجھے پچھاڑ دیا تو میں تمہیں ایک ایسی چیز سکھاؤں گا جو تمہیں نفع دے گی۔ چنانچہ اس نے پھر مقابلہ کیا اور اسے پچھاڑ دیا۔ اس نے کہا: لاؤ مجھے سکھاؤ۔ اس نے کہا: کیا تم آیت الکرسی پڑھتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: تم جس گھر میں بھی اسے پڑھو گے، اس میں سے شیطان گدھے کی طرح آواز کے ساتھ ریح خارج کرتا ہوا نکل جائے گا، اور صبح تک اس میں داخل نہیں ہو گا۔ قوم میں سے ایک شخص نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! محمد ﷺ کے صحابہ میں سے وہ شخص کون تھا؟ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ناگواری آ گئی، اور اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: وہ عمر رضی اللہ عنہ کے سوا اور کون ہو سکتا ہے؟