المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8776
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «وَاللهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ عِلْمَ عُمَرَ لَوْ وُضِعَ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ، وَوُضِعَ سَائِرُ أَحْيَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ لَرَجَحَ عَلَيْهِ عَلْمُ عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ» قَالَ سُلَيْمَانُ: فَذَكَرْتُهُ فَقَالَ: لَقَدْ قَالَ عَبْدُ اللهِ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: «إِنِّي لَأَظُنُّ عُمَرَ قَدْ ذَهَبَ بِتِسْعَةِ أَعْشَارِ الْعِلْمِ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میرا خیال ہے کہ اگر عمر رضی اللہ عنہ کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور زمین پر باقی تمام زندہ لوگوں کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو عمر رضی اللہ عنہ کا علم بھاری رہے گا۔“ سلیمان (اعمش) کہتے ہیں: میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے بھی بڑھ کر بات کہی ہے، فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ علم کا نو دہائی حصہ لے گئے۔“