حدیث نمبر: 8773
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَتَيْنَا ابْنَ مَسْعُودٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي، فَانْتَظَرْنَاهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، فَجَاءَهُ رَجُلَانِ قَدِ اخْتَلَفَا فِي آيَةٍ فَقَرَأَهُ أَحَدُهُمَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «أَحْسَنْتَ، مَنْ أَقْرَأَكَ؟» قَالَ: أَقْرَأَنِي أَبُو حَكِيمٍ الْمُزَنِيُّ، وَاسْتَقْرَأَ الْآخَرَ فَقَالَ: «مَنْ أَقْرَأَكَ؟» فَقَالَ: أَقْرَأَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَبَكَى عَبْدُ اللهِ حَتَّى خَضَّبَتْ دُمُوعُهُ الْحَصَا، ثُمَّ قَالَ: «اقْرَأْ كَمَا أَقْرَأَكَ عُمَرُ» ، ثُمَّ دَوَّرَ دَارَةً بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ عُمَرَ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا لِلْإِسْلَامِ يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ، وَلَا يَخْرُجُونَ مِنْهُ، فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ انْثَلَمَ الْحِصْنُ، فَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ مِنْهُ، وَلَا يَدْخُلُونَ»
ترجمہ

زید بن وہب بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہیں نماز پڑھتے پایا، ہم نے انتظار کیا یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہوئے، تو دو آدمی ان کے پاس آئے جو ایک آیت میں اختلاف رکھتے تھے، ان میں سے ایک نے پڑھی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ٹھیک پڑھا، تمہیں کس نے پڑھائی؟“ اس نے کہا: مجھے ابوحکیم مزنی نے پڑھائی ہے۔ پھر دوسرے سے پڑھوایا، فرمایا: ”تمہیں کس نے پڑھائی؟“ اس نے کہا: مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ہے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رو پڑے یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں سے کنکریاں رنگین ہو گئیں، پھر فرمایا: ”اسی طرح پڑھو جیسے تمہیں عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ہے“، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک دائرہ بنایا، پھر فرمایا: ”بے شک عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے، لوگ اس میں داخل ہوتے تھے اور اس سے نکلتے نہیں تھے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو قلعہ ٹوٹ گیا، اب لوگ اس سے نکلتے ہیں اور اس میں داخل نہیں ہوتے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8773
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 162، حدیث 8805