المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8803
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُمَرُ سَارَ إِلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ سَبْعًا فَخَطَبَنَا، فَقَالَ: " إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ أَصَابَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ غُلَامُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَهُوَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَقَتَلَهُ فَبَكَى، وَبَكَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّا اجْتَمَعْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ فَأَمَّرْنَا خَيْرَنَا ذَا فُوقٍ "ترجمہ
شقیق بیان کرتے ہیں: جب عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سات دن کا سفر کر کے ہمارے پاس آئے اور ہمیں خطبہ دیا، فرمایا: ”امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کو مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابولؤلؤہ نے، جبکہ وہ نماز فجر میں تھے، زخمی کر کے شہید کر دیا۔“ یہ کہہ کر وہ خود بھی رو پڑے اور لوگ بھی رو پڑے، پھر فرمایا: ”ہم اصحاب محمد ﷺ جمع ہوئے اور اپنے میں سے بہترین اور صحیح شخص کو امیر بنایا۔“