المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8777
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَوْ أَنَّ عِلْمَ عُمَرَ وُضِعَ فِي كِفَّةِ مِيزَانٍ، وَوُضِعَ عَلْمُ أَهْلِ الْأَرْضِ فِي كِفَّةٍ لَرَجَحَ عِلْمُهُ بِعِلْمِهِمْ» قَالَ وَكِيعُ: قَالَ الْأَعْمَشُ: فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَذَكَرْتُهُ لَهُ، فَقَالَ: وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ، فَوَاللهِ لَقَدْ قَالَ عَبْدُ اللهِ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «إِنِّي لَأَحْسِبُ تِسْعَةَ أَعْشَارِ الْعِلْمِ ذَهَبَ يَوْمَ ذَهَبَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر عمر رضی اللہ عنہ کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور اہلِ زمین کا سارا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو ان کا علم ان سب کے علم پر بھاری رہے گا۔“ وکیع کہتے ہیں: اعمش نے بتایا: مجھے یہ بات عجیب لگی، تو میں ابراہیم کے پاس گیا اور یہ بات ان سے ذکر کی، تو انہوں نے کہا: تمہیں اس میں کیا عجیب لگا؟ اللہ کی قسم! سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے بھی بڑھ کر بات کہی ہے، فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ علم کا نو دہائی حصہ اسی دن چلا گیا جس دن عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے۔“