المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي نَهْشَلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَضَلَ عُمَرُ النَّاسَ بِأَرْبَعٍ: بِذِكْرِهِ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ فَأَمَرَ بِقَتْلِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [الأنفال: ٦٨] وَبِذْكِرِهِ الْحِجَابَ، فَقَالَتْ زَيْنَبُ: وَإِنَّكَ لَتَغَارُ مِنَّا، وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} [الأحزاب: ٥٣] وَدَعْوَةِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» رَضِي اللهُ عَنْهُ، وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أَوَّلَ النَّاسِ بَايَعَهُابو وائل رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ کو لوگوں پر چار باتوں میں فضیلت حاصل ہوئی: بدر کے دن قیدیوں کے بارے میں ان کی رائے، انہوں نے ان کے قتل کا حکم دیا تھا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اگر اللہ کی طرف سے پہلے سے ایک بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا اس میں تمہیں بڑا عذاب پہنچتا“ [سورۃ الانفال: 68]۔ اور پردے کا ذکر کرنا، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: تم تو ہم پر غیرت کھاتے ہو حالانکہ وحی تو ہمارے گھروں میں نازل ہوتی ہے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور جب تم ان (ازواجِ مطہرات) سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو“ [سورۃ الاحزاب: 53]، اور نبی کریم ﷺ کی یہ دعا بھی: ”اے اللہ! عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو تقویت دے“، اور ان کی رائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ تھی کہ وہ سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے ان کی بیعت کی۔