❮
❯
حدیث نمبر: 8792
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، ثنا عَاصِمٌ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " لَقِيَ الشَّيْطَانُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَارَعَهُ فَتَعَرَهُ الْمُسْلِمُ وَأَرَمَّ بِإِبْهَامِهِ، فَقَالَ: دَعْنِي أُعَلِّمْكَ آيَةً لَا يَسْمَعُهَا أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا وَلَّى، فَأَرْسَلَهُ فَأَبَى أَنْ يُعَلِّمَهُ فَعَادَ فَصَارَعَهُ فَتَعَرَهُ الْمُسْلِمُ وَأَرَمَّ بِإِبْهَامِهِ، قَالَ: أَخْبِرْنِي بِهَا فَأَبَى أَنْ يُعَلِّمَهُ، فَلَمَّا عَادَ الثَّالِثَةَ، قَالَ: الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ: {اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: ٢٥٥] إِلَى آخِرِهَا " فَقِيلَ لِعَبْدِ اللهِ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: مَنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: «مَنْ عَسَى أَنْ يَكُونَ إِلَّا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِي اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شیطان محمد ﷺ کے ایک صحابی سے ملا اور اس سے کشتی لڑی، تو اس مسلمان نے اسے پچھاڑ دیا اور اپنے انگوٹھے سے اسے دبوچ لیا۔ شیطان نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایک ایسی آیت سکھاتا ہوں کہ ہم میں سے کوئی بھی اسے سنے تو بھاگ جائے۔ چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا تو شیطان نے سکھانے سے انکار کر دیا۔ پھر دوبارہ آیا اور اس سے کشتی لڑی، تو مسلمان نے پھر اسے پچھاڑ دیا اور اپنے انگوٹھے سے دبوچ لیا۔ اس نے کہا: مجھے وہ آیت بتاؤ، تو اس نے پھر سکھانے سے انکار کر دیا۔ جب تیسری بار لوٹا تو اس نے کہا: وہ آیت جو سورۃ البقرہ میں ہے: ”اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، سب کو قائم رکھنے والا ہے“ [سورۃ البقرہ: 255] آخر تک۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اے ابوعبدالرحمٰن! وہ شخص کون تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: ”وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سوا اور کون ہو سکتا ہے؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8792
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 165، حدیث 8824