کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مسند میں سے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا خَلَفُ بْنُ مُوسَى بْنِ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَالْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: تَحَدَّثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَكْرَانَا الْحَدِيثُ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ بِأَتْبَاعِهَا مِنْ أُمَّتِهَا، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ الثُّلَّةُ مِنْ أُمَّتِهِ، وَإِذَا النَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، وَقَدْ أَنْبَأَكُمُ اللهُ عَنْ قَوْمِ لُوطٍ فَقَالَ {أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ} [هود: ٧٨] ، قَالَ: حَتَّى مَرَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، قُلْتُ: يَا رَبِّ، فَأَيْنَ أُمَّتِي؟ قَالَ: انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ، فَإِذَا الظِّرَابُ ظِرَابُ مَكَّةَ قَدْ سُدَّ مِنْ وُجُوهِ الرِّجَالِ، قَالَ: أَرَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ؟ قُلْتُ: رَضِيتُ رَبِّ، قَالَ: انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ مِنْ وُجُوهِ الرِّجَالِ، قَالَ: أَرَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ؟ قُلْتُ: رَضِيتُ رَبِّ، قَالَ: فَإِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ". فَأَتَى عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «اللهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ» ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ» ، ثُمَّ قَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِ اسْتَطَعْتُمْ بِأَبِي أَنْتُمْ وَأُمِّي، أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ فَكُونُوا، فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ الظِّرَابِ، فَإِنْ عَجَزْتُمْ وَقَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ الْأُفُقِ؛ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أُنَاسًا يَتَهَاوَشُونَ كَثِيرًا» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ يَتَّبِعُنِي مِنْ أُمَّتِي رُبْعَ الْجَنَّةِ» ، فَكَبَّرَ الْقَوْمُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، فَكَبَّرَ الْقَوْمُ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ} [الواقعة: ١٤] ، فَتَذَاكَرُوا بَيْنَهُمْ: مَنْ هَؤُلَاءِ السَّبْعُونَ الْأَلْفِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَوْمٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ فَمَاتُوا عَلَيْهِ، حَتَّى رُفِعَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں ہے: ”...اور ان کے ساتھ ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے ان میں سے بنا دے۔“ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے پہلے یہ دعا لے چکا۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، اگر تم ان ستر ہزار میں شامل ہو سکو تو ہو جاؤ، اور اگر تم اس سے قاصر رہو تو ٹیلوں والوں میں شامل ہو جاؤ، اور اگر اس سے بھی قاصر رہو تو افق والوں میں شامل ہو جاؤ؛ کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ لوگ بہت زیادہ دھکم پیل کرتے ہیں۔“ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ میری امت کے پیروکار جنت کا چوتھائی حصہ ہوں گے۔“ لوگوں نے تکبیر کہی۔ پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ وہ جنت والوں کا آدھا حصہ ہوں گے۔“ لوگوں نے تکبیر کہی۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ”ایک جماعت پہلوں میں سے اور تھوڑے سے پچھلوں میں سے“ [سورۃ الواقعہ: 14]۔ پھر لوگوں نے آپس میں گفتگو کی کہ یہ ستر ہزار کون ہوں گے؟ کچھ نے کہا: وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور اسی پر فوت ہوئے، یہاں تک کہ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ وہ لوگ ہیں جو نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ بدشگونی لیتے ہیں، اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَكْثَرُوا الْحَدِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، ثُمَّ غَدَوْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ بِأُمَمِهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثُّلَّةُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ، وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفَرُ، وَالنَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مَعَهُ كَبْكَبَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَعْجَبُونِي، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقِيلَ: هَذَا أَخُوكَ مُوسَى وَمَعَهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ، قُلْتُ: فَأَيْنَ أُمَّتِي، قِيلَ: انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الظِّرَابُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ، ثُمَّ قِيلَ لِي: انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ، فَقِيلَ لِي: أَرَضِيتَ؟ قُلْتُ: رَضِيتُ يَا رَبِّ، رَضِيتُ يَا رَبِّ، فَقِيلَ لِي: إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ". قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِدَاءٌ لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي، إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ أَلْفًا فَافْعَلُوا، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ؛ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ نَاسًا يَتَهَاوَشُونَ» ، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ فَقَالَ: ادْعُ لِي يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنَ السَّبْعِينَ، فَدَعَا لَهُ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: ادْعُ اللهَ يَا رَسُولَ اللهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ» . قَالَ: ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا: مَنْ هَؤُلَاءِ السَّبْعُونَ الْأَلْفِ؟ قَوْمٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ حَتَّى مَاتُوا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”...پھر مجھ سے کہا گیا: کیا تم راضی ہو؟ میں نے عرض کیا: میں راضی ہوں، اے رب! میں راضی ہوں، اے رب! تو مجھ سے کہا گیا: ان کے ساتھ ستر ہزار افراد بھی بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، اگر تم ان ستر ہزار میں سے ہو سکو تو ہو جاؤ، اور اگر تم قاصر رہو تو ٹیلوں والوں میں سے ہو جاؤ، اور اگر اس سے بھی قاصر رہو تو افق والوں میں سے ہو جاؤ، کیونکہ میں نے لوگوں کو بہت دھکم پیل کرتے دیکھا ہے۔“ اس پر عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے ان ستر ہزار میں سے بنا دے۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے پہلے یہ دعا لے چکا۔“ (راوی) کہتے ہیں: پھر ہم نے آپس میں گفتگو کی اور کہا: یہ ستر ہزار کون ہوں گے؟ (کچھ نے کہا:) وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے یہاں تک کہ فوت ہو گئے۔ یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے، نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، نہ بدشگونی لیتے ہیں، اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: تَحَدَّثْنَا عِنْدَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مَعْمَرٍ.
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم ایک رات نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ پھر (راوی نے) معمر کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَالْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ الْحَبَطِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ فِي بُسْتَانٍ مِنْ بَسَاتِينِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ يُقْرِئُ ابْنَيْهِ، فَمَرَّ بِهِ طَائِرَانِ غُرَابَانِ أَوْ حَمْلَانِ، لَهُمَا حَفِيفٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ: وَاللهِ مَا أَنَا بِأَشَدَّ عَلَى هَذَيْنِ حُزْنًا لَوْ مَاتَا إِلَّا كَحُزْنِي عَلَى هَذَيْنِ الطَّائِرَيْنِ لَوْ وَقَعَا مَيِّتَيْنِ، وَإِنِّي لَأَجِدُ لَهُمَا مَا يَجِدُ الْوَالِدُ لِوَلَدِهِ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يَسُودَ كُلَّ قَبِيلَةٍ مُنَافِقُوهَا» ؛ فَلِذَلِكَ اشْتَهَيْتُ أَنْ نَمُوتَ قَبْلَ ذَلِكَ الزَّمَانِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”...مجھے ان دونوں (بچوں) کی موت کا اتنا ہی غم ہوگا جتنا مجھے ان دونوں پرندوں کے مردہ گرنے کا غم ہو، حالانکہ میں ان کے لیے وہی محسوس کرتا ہوں جو باپ اپنی اولاد کے لیے محسوس کرتا ہے، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک ہر قبیلے پر اس کے منافق غالب نہ آ جائیں۔“ اسی لیے میری خواہش ہے کہ ہم اس زمانے سے پہلے ہی مر جائیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الْعَيْشِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الرَّحَبِيُّ، ثنا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَزُولُ قَدْمُ ابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ: عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَشَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ كَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ، وَمَاذَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن ابن آدم کے قدم اپنے رب کے سامنے سے اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے کس چیز میں گزاری، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اس نے کس چیز میں کھپائی، اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور اس نے اپنے علم کے مطابق کیا عمل کیا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيَّانِ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ إِسْلَامِهِمْ وَبَيْنَ أَنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يُعَاتِبُهُمُ اللهُ إِلَّا أَرْبَعُ سِنِينَ {وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ} [الحديد: ١٦] فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان کے اسلام لانے اور اس آیت کے نازل ہونے کے درمیان صرف چار سال کا فاصلہ تھا جس میں اللہ نے انہیں ملامت کی ہے: ”اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر مدت طویل ہو گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے، اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں“ [سورۃ الحدید: 16]۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِنِّي لَبِالْكُوفَةِ فِي دَارِي إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَلِجُ؟ فَقُلْتُ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، فَلُجَّ، فَلَمَّا دَخَلَ إِذَا هُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَيَّةُ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ؟ وَذَلِكَ فِي نَحْوِ الظَّهِيرَةِ، قَالَ: طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ، فَتَذَكَّرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُحَدِّثُهُ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَكُونُ فِتْنَةٌ، النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ، وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ الرَّاكِبِ، وَالرَّاكِبُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُجْرِي، قَتْلَاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ» ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَتَى ذَلِكَ؟ قَالَ: «ذَلِكَ أَيَّامَ الْهَرْجِ» ، قُلْتُ: وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ؟ قَالَ: «حِينَ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ» ، قُلْتُ: فَبِمَ تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ الزَّمَانَ؟ قَالَ: «اكْفُفْ نَفْسَكَ وَيَدَكَ، وَادْخُلْ دَارَكَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ دَارِي؟ قَالَ: «فَادْخُلْ بَيْتَكَ» ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي؟ قَالَ: " فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ فَاصْنَعْ هَكَذَا، وَقَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكُوعِ، وَقُلْ: رَبِّيَ اللهُ، حَتَّى تَمُوتَ كَذَلِكَ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”...تو میں نے سوچا کہ کس سے بات کروں۔“ وہ کہتے ہیں: پھر وہ (شخص) مجھے رسول اللہ ﷺ کی احادیث سنانے لگا اور میں بھی اسے سناتا رہا، پھر اس نے خود بیان کرنا شروع کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”ایک فتنہ آئے گی جس میں سویا ہوا شخص لیٹے ہوئے شخص سے بہتر ہوگا، اور لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے شخص سے بہتر ہوگا، اور بیٹھا ہوا شخص کھڑے شخص سے بہتر ہوگا، اور کھڑا شخص چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا سوار سے بہتر ہوگا، اور سوار دوڑنے والے سے بہتر ہوگا؛ اس میں مارے جانے والے سب جہنم میں ہوں گے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کب ہوگا؟ فرمایا: ”وہ ہرج کے دن ہوں گے۔“ میں نے عرض کیا: ہرج کے دن کب ہوں گے؟ فرمایا: ”جب آدمی اپنے ہم نشین پر بھروسا نہ کر سکے۔“ میں نے عرض کیا: اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: ”اپنے آپ کو اور اپنے ہاتھ کو روک لے، اور اپنے گھر میں داخل ہو جا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے؟ فرمایا: ”تو اپنے کمرے میں چلا جا۔“ میں نے عرض کیا: اگر کوئی میرے کمرے میں بھی گھس آئے؟ فرمایا: ”تو اپنی مسجد (نماز کی جگہ) میں چلا جا اور اس طرح کر،“ اور آپ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ کو کلائی پر رکھ کر بند کر لیا، ”اور کہہ: میرا رب اللہ ہے، یہاں تک کہ تو اسی حالت میں مر جائے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَمْشِي عَلَى الصِّرَاطِ وَهُوَ يَمْشِي مَرَّةً وَيَكْبُو مَرَّةً، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ، فَإِذَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا قَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ، أَعْطَانِي شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، وَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا. فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، وَرَبُّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَفْعَلُ، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ أُخْرَى هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْهَا فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، وَلَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَفْعَلُ؛ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ عَلَيْهِ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَفْعَلُ، وَهُوَ يَعْذِرُهُ؛ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَفْعَلَ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ اللهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَفْعَلَ، وَرَبُّهُ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَفْعَلُ، وَرَبُّهُ يَعْذِرُهُ؛ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ، عَلَيْهِ فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولَ: أَيْ رَبِّ، أَدْخِلْنِيهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَتَرْضَى أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا؟ فَيَقُولُ: أَتَسْتَهْزِئُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ ثُمَّ قَالَ: «أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ ضَحِكْتُ» ، قَالَ: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " مِنْ ضَحِكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيْثُ قَالَ: أَتَسْتَهْزِئُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: «لَا، إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ، وَلَكِنْي عَلَى مَا أَشَاءُ قَدْيرٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”...مجھے اس میں داخل کر دے۔ تو (اللہ) فرمائے گا: اے ابن آدم! کیا تو اس پر راضی ہے کہ میں تجھے دنیا اور اس جیسی ایک اور دنیا عطا کروں؟ وہ کہے گا: کیا تو میرے ساتھ مذاق کرتا ہے، حالانکہ تو رب العالمین ہے؟“ رسول اللہ ﷺ (یہ بیان کرتے ہوئے) ہنس پڑے، پھر فرمایا: ”کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے کہ میں کیوں ہنسا؟“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنسے؟ فرمایا: ”رب العالمین تبارک و تعالیٰ کے ہنسنے کی وجہ سے، جب اس (بندے) نے کہا: کیا تو میرے ساتھ مذاق کرتا ہے حالانکہ تو رب العالمین ہے؟ تو وہ فرمائے گا: نہیں، میں مذاق نہیں کرتا، بلکہ میں جو چاہوں اس پر قادر ہوں۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُعْرَضُ أَعْمَالُ بَنِي آدَمَ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ، وَفِي كُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ، فَيَرْحَمُ الْمُتَرَحِّمِينَ وَيَغْفِرُ للمُسْتَغْفِرِينَ، ثُمَّ يَذَرُ أَهْلَ الْحِقَدْ بِحِقْدِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنی آدم کے اعمال ہر پیر اور ہر جمعرات کے دن پیش کیے جاتے ہیں، تو اللہ رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے اور استغفار کرنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے، پھر کینہ رکھنے والوں کو ان کے کینے کے ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ تَغْبِطُونَ فِيهِ الرَّجُلَ بِخِفَّةِ الْحَاذِ كَمَا تَغْبِطُونَهُ الْيَوْمَ بِكَثْرَةِ الْمَالِ وَالْوَلَدِ، حَتَّى يَمُرَّ أَحَدُكُمْ بِقَبْرِ أَخِيهِ فَيَتَمَعَّكَ عَلَيْهِ كَمَا تَتَمَعَّكُ الدَّابَّةُ فِي مَرَاعِهَا، وَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ، مَا بِهِ شَوْقٌ إِلَى اللهِ، وَلَا عَمِلَ صَالِحًا قَدَّمَهُ، إِلَّا مِمَّا يَنْزِلُ بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ تم آدمی کو ہلکے پھلکے (کم مال والے) ہونے پر اسی طرح رشک کرو گے جیسے آج اسے مال و اولاد کی کثرت پر رشک کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی قبر کے پاس سے گزرے گا اور اس پر اس طرح لوٹ پوٹ ہوگا جیسے جانور اپنے چراگاہ میں لوٹتا ہے، اور کہے گا: کاش میں اس کی جگہ ہوتا! اسے اللہ کے شوق کی وجہ سے نہیں بلکہ اس مصیبت کی وجہ سے جو اس پر آن پڑی ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فَلَمْ يُتِمَّ صَلَاتَهُ؛ خُشُوعَهَا وَلَا رُكُوعَهَا، وَأَكْثَرَ الِالْتِفَاتَ لَمْ تُتَقَبَّلْ مِنْهُ، وَمَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنْ كَانَ عَلَى اللهِ كَرِيمًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”بندہ جب نماز پڑھے اور اس کا خشوع اور رکوع پورا نہ کرے، اور بار بار اِدھر اُدھر دیکھے، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی؛ اور جو اپنا کپڑا تکبر سے (زمین پر) گھسیٹے، اللہ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا، خواہ وہ اللہ کے نزدیک کتنا ہی معزز کیوں نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنِي مَعْنٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں جب تک ان میں رہا ان پر گواہ تھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُذَاعِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدْ أَصَابَهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ؛ فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتِ الَّذِي تَحْذَرُونَ كَانَتْ وَأَنْتُمْ عَلَى غَيْرِ غَفْلَةٍ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كُنْتُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا وَكَسَبْتُمُوهُ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ ﷺ ہمیں سورج اور چاند گرہن کے وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے، (اور فرماتے:) ”جب تم دیکھو کہ گرہن لگ گیا ہے تو فوراً نماز کی طرف لپکو، کیونکہ اگر وہی بات ہوئی جس سے تم ڈرتے ہو تو تم غفلت میں نہیں ہوگے، اور اگر ایسا نہ ہوا تو بھی تم نے بھلائی حاصل کر لی اور اسے کما لیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ أَبُو يَعْلَى التَّوَّزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ & عَنْهُ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا جبکہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے مجھے اشارے سے جواب دیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا كَانَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا كَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ يَهْدُونَ بِهَدْيِهِ، وَيَسْتَنُّونَ سُنَّتَهُ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَعْمَلُونَ مَا تُنْكِرُونَ، مَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، لَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی نبی گزرا اس کے کچھ خاص ساتھی (حواری) ضرور تھے جو اس کے طریقے پر چلتے اور اس کی سنت اپناتے تھے، پھر ان کے بعد ایسے ناخلف آئیں گے جو کہیں گے وہ کچھ جو کریں گے نہیں، اور وہ کریں گے جسے تم برا سمجھو گے؛ جو ان کے خلاف اپنے ہاتھ سے جہاد کرے وہ مومن ہے، جو اپنی زبان سے جہاد کرے وہ مومن ہے، اور جو اپنے دل سے جہاد کرے وہ مومن ہے، اس کے بعد ایمان کا رائی کے دانے برابر بھی کچھ باقی نہیں رہتا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا بَشِيرُ بْنُ سَلْمَانَ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَزَلَتْ بِهِ حَاجَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ، فَإِنْ أَنْزَلَهَا بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَوْشَكَ اللهُ لَهُ بِالْغِنَى، إِمَّا أَجْرٌ آجِلٌ، وَإِمَّا غِنًى عَاجِلٌ» .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس کو کوئی حاجت پیش آئے اور وہ اسے لوگوں کے سامنے پیش کرے، اس کی تنگ دستی دور نہیں ہوتی؛ اور جو اسے اللہ کے سامنے پیش کرے، اللہ عنقریب اسے غنی کر دیتا ہے، خواہ دیر سے ملنے والا اجر ہو یا فوری ملنے والی غنا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَا: ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ، وَلَا تَزْدَادُ مِنْهُمْ إِلَّا بُعْدًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت قریب آ چکی ہے، اور لوگ (دنیا سے) دور ہی ہوتے جا رہے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا أَبُو حَسَّانَ الرَّازِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ رُكَيْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَدَاوَوْا بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ؛ فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللهُ فِيهَا شِفَاءً؛ فَإِنَّهَا تَأْكُلُ مِنَ الشَّجَرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گائے کے دودھ سے علاج کرو، مجھے امید ہے کہ اللہ نے اس میں شفا رکھی ہے، کیونکہ وہ (گائے) درختوں (کے پتوں) سے کھاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُمَرُ أَبُو حَفْصٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَقُولُ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ فَيُكَبِّرُ، وَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَاجْعَلْهُ فِي الْأَعْلَيْنَ دَرَجَتَهُ، وَفِي الْمُصْطَفَيْنَ مَحَبَّتَهُ، وَفِي الْمُقَرَّبِينَ ذِكْرَهُ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمان اذان سنتے وقت اللہ اکبر کہے، اور گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور گواہی دے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، پھر یہ کہے: اے اللہ! محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما، اور انہیں بلند ترین درجے پر فائز فرما، اور چنیدہ لوگوں میں ان کی محبت رکھ، اور مقربین میں ان کا ذکر بلند رکھ - تو اس کے لیے قیامت کے دن شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَضِبَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب غصے میں ہوتے تو آپ ﷺ کے رخسار سرخ ہو جاتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَ الْقَاضِي، مَا لَمْ يَحِفْ عَمْدًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل قاضی کے ساتھ ہوتا ہے، جب تک وہ جان بوجھ کر ظلم نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُرَاهُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِالْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ؛ فَإِنَّ الْحَرَّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
ترجمہ
رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے، غالباً وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کا حکم دیا، (اور فرمایا:) ”کیونکہ گرمی جہنم کی بھاپ سے ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مَضْرَبَةَ، وَعَنْ غَيْرِهِ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ بِالْهَاجِرَةِ، فَلَمْ يُشْكِنَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سخت گرمی میں نماز پڑھنے کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے ہماری شکایت پر کوئی توجہ نہیں دی (یعنی ٹھنڈا کرنے میں تاخیر پر اصرار کیا)۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَخَوَّفَ أَحَدُكُمُ السُّلْطَانَ فَلْيَقُلِ: اللهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَأَتْبَاعِهِمْ، أَنْ يَفْرُطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو حکمران کا خوف ہو تو وہ یہ کہے: اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے رب، اور عرشِ عظیم کے رب! مجھے فلاں بن فلاں کے شر سے - یعنی جس سے ڈر ہو اس کا نام لے - اور جن و انس کے شر اور ان کے پیروکاروں کے شر سے پناہ دے کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی کرے؛ تیری پناہ بڑی عزت والی ہے، تیری ثنا بلند ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ الدِّيكَ صَرَخَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: اللهُمَّ الْعَنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلْعَنْهُ، وَلَا تَسُبَّهُ؛ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس مرغے نے بانگ دی تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ! اس پر لعنت کر۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اور اسے گالی نہ دو؛ کیونکہ وہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مِحْصَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ذَاكِرُ اللهِ فِي الْغَافِلِينَ بِمَنْزِلَةِ الصَّابِرِ فِي الْفَارِّينَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”غافلوں کے درمیان اللہ کو یاد کرنے والا، بھاگنے والوں کے درمیان ڈٹے رہنے والے (صابر) کے درجے میں ہے۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ الرُّمَّانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: نَزَلَتْ فِي نَفَرٍ مِنَ الْعَرَبِ كَانُوا يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ، فَأَسْلَمَ الْجِنِّيُّونَ، وَالنَّفَرُ مِنَ الْعَرَبِ لَا يَشْعُرُونَ، فِي قَوْلِهِ {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: ٥٧]
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: یہ آیت عربوں کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جو جنوں کے ایک گروہ کی عبادت کیا کرتے تھے، پھر وہ جن مسلمان ہو گئے جبکہ عربوں کے اس گروہ کو اس کا علم نہ ہوا، (اللہ کے اس فرمان میں:) ”یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں، خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں“ [سورۃ الاسراء: 57]۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يَخْرُجُ مِنْ عَيْنِهِ دُمُوعٌ، وَلَوْ كَانَ مِثْلَ رَأْسِ الذُّبَابِ، مِنْ خَشْيَةِ اللهِ إِلَّا حَرَّمَهُ اللهُ عَلَى النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مومن بندہ اللہ کے خوف سے روئے اور اس کی آنکھ سے آنسو نکلیں، خواہ مکھی کے سر برابر ہی ہوں، اللہ اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ النَّاسِ عَلَيَّ صَلَاةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ: «لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَشْتَرِطُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ کی زوجہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی - راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا مگر یہ کہ انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا: ”کسی عورت کا اس کی پھوپھی پر، اور نہ اس کی خالہ پر نکاح کیا جائے، اور نہ عورت یہ شرط رکھے کہ اس کی بہن کو طلاق دی جائے تاکہ وہ اس کے حصے کا سارا برتن الٹ دے (یعنی سارا حق خود لے لے)۔“