حدیث نمبر: 8775
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَحَمَّادٍ، قَالَا: سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ: سَمِعَهُمَا يَقُولَانِ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: «إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ حِصْنًا حَصِينًا لِلْإِسْلَامِ يُدْخَلُ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَا يُخْرَجُ مِنْهُ، فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ، انْثَلَمَ مِنَ الْحِصْنِ ثُلْمَةُ فَهُوَ يَخْرُجُ مِنْهُ، وَلَا يَدْخُلُ فِيهِ، وَكَانَ إِذَا سَلَكَ طَرِيقًا، وَجَدْنَاهُ سَهْلًا، فَإِذَا ذُكِرَ الصَّالِحُونَ فَحَيَّ هَلَا بِعُمَرَ، كَانَ فَصْلَ مَا بَيْنَ الزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ، وَاللهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَخْدُمُ مِثْلَهُ حَتَّى أَمُوتَ»
ترجمہ

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اسلام کے لیے ایک مضبوط قلعہ تھے، لوگ اسلام میں داخل ہوتے تھے اور اس سے نکلتے نہیں تھے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو قلعے میں شگاف پڑ گیا، اب لوگ اس سے نکلتے ہیں اور اس میں داخل نہیں ہوتے۔ وہ جب کسی راستے پر چلتے تو ہم اسے آسان پاتے۔ جب نیک لوگوں کا ذکر ہو تو عمر رضی اللہ عنہ کو ضرور یاد کرو۔ وہ زیادتی اور کمی کے فرق کو بہترین نکھارنے والے تھے۔ اللہ کی قسم! میری خواہش ہے کہ میں مرتے دم تک ان جیسے کسی کی خدمت کرتا رہوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8775
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 162، حدیث 8807