حدیث نمبر: 8797
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " أَفْرَسُ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: صَاحِبَةُ مُوسَى الَّتِي قَالَتْ: {يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ} [القصص: ٢٦] ، قَالَ: وَمَا رَأَيْتِ مِنْ قُوَّتِهِ؟ قَالَتْ: جَاءَ إِلَى الْبِئْرِ وَعَلَيْهِ صَخْرَةٌ لَا يُقِلُّهَا كَذَا، وَكَذَا فَرَفَعَهَا، قَالَ: مَا رَأَيْتِ مِنْ أَمَانَتِهِ؟ قَالَتْ: كُنْتُ أَمْشِي أَمَامَهُ فَجَعَلَنِي خَلْفَهُ، وَصَاحِبُ يُوسُفَ حَيْثُ قَالَ: {أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا} [يوسف: ٢١] ، وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ اسْتَخْلَفَ عُمَرَ "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سب سے زیادہ فراست والے تین لوگ ہیں: سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے سسر کی صاحبزادی، جس نے کہا: ”اے میرے باپ! اسے نوکر رکھ لیجیے، بے شک بہترین وہ ہے جسے آپ نوکر رکھیں جو طاقتور اور امانت دار ہو“ [سورۃ القصص: 26]، اس کے باپ نے پوچھا: تم نے اس کی قوت کا کیا مشاہدہ کیا؟ اس نے کہا: وہ کنویں پر آیا جس پر اتنی بڑی چٹان تھی کہ اسے عام طور پر کئی آدمی مل کر بھی نہیں اٹھا سکتے تھے، مگر اس نے اسے اکیلے اٹھا لیا۔ باپ نے پوچھا: تم نے اس کی امانت داری کا کیا مشاہدہ کیا؟ اس نے کہا: میں اس کے آگے چل رہی تھی تو اس نے مجھے اپنے پیچھے کر لیا۔ اور دوسرے سیدنا یوسف علیہ السلام کے مصری مالک، جس نے کہا: ”اسے عزت سے رکھو، شاید یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں“ [سورۃ یوسف: 21]۔ اور تیسرے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، جب انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8797
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 167، حدیث 8829