حدیث نمبر: 8770
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: تَمَارَى رَجُلَانِ فِي آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ فَأَتَيَا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَقْرَأَنِيهَا أَبُو عَمْرَةَ، وَقَالَ الْآخَرُ: أَقْرَأَنِيهَا عُمَرُ، فَلَمَّا ذُكِرَ عُمَرُ بَكَى عَبْدُ اللهِ، وَهُوَ قَائِمٌ، وَمَسَحَ عَيْنَيْهِ، وَنَفَضَ يَدَهُ فِي الْحَصَا، ثُمَّ قَالَ: «لَهِيَ أَبْيَنُ مِنْ طَرِيقِ السِّيلِحِينَ» ، ثُمَّ قَالَ: «اقْرَأْهَا كَمَا أَقْرَأَكَهَا عُمَرُ، إِنَّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَدْخُلْهُمْ حُزْنٌ عَلَى عُمَرَ يَوْمَ أُصِيبَ لَأَهْلُ سُوءٍ، عُمَرُ كَانَ أَتْقَانَا، وَأَقْرَأَنَا لِكِتَابِ اللهِ»
ترجمہ

… ایک نے کہا: مجھے یہ ابوعمرہ نے پڑھائی ہے، اور دوسرے نے کہا: مجھے یہ عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ہے، تو جب عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے کھڑے رو پڑے، اپنی آنکھیں صاف کیں اور کنکریوں میں اپنا ہاتھ جھاڑا، پھر فرمایا: ”یہ سیلحین کے راستے سے بھی زیادہ واضح ہے۔“ پھر فرمایا: ”اسی طرح پڑھو جیسے تمہیں عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا ہے۔ مسلمانوں میں سے وہ گھرانا جسے عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن غم نہ پہنچا ہو، وہ برا گھرانا ہے، عمر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے متقی اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8770
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 160، حدیث 8802