حَدَّثَنَا دَرَّانُ بْنُ سُفْيَانَ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تَحْمِلَ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ الْأَرْبَعِ، ثُمَّ تَطَوَّعْ أَوْ دَعْ»
ترجمہ
ابوعبیدہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”سنت یہ ہے کہ چارپائی کے چاروں کناروں سے اٹھایا جائے، پھر (اس کے بعد) چاہو تو مزید اٹھاؤ یا چھوڑ دو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ إِدْرِيسَ الْكُوفِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تَأْخُذَ بِجَوَانِبِ السَّرِيرِ الْأَرْبَعِ، ثُمَّ تَطَوَّعْ بَعْدُ أَوْ دَعْ»
ترجمہ
ابوعبیدہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”سنت یہ ہے کہ چارپائی کے چاروں کناروں کو تھاما جائے، پھر بعد میں چاہو تو مزید اٹھاؤ یا چھوڑ دو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا أَبِي، ثنا الرَّحِيلُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، مِثْلَهُ،
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ صُبَيْحٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ، قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ عَنْ غَاسِلِ الْمَيِّتِ أَيَغْتَسِلُ؟ قَالَ: «إِنْ كُنْتُمْ تُرِيدُونَ أَنَّ صَاحِبَكُمْ نَجِسٌ فَاغْتَسِلُوا مِنْهُ، وَإِلَّا فَإِنَّمَا يَكْفِيَكُمُ الْوُضُوءُ»
ترجمہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا میت کو غسل دینے والا (خود بھی) غسل کرے؟ انہوں نے فرمایا: ”اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارا (مسلمان) ساتھی ناپاک ہے تو اس (کو چھونے) کی وجہ سے غسل کر لو، ورنہ تمہارے لیے صرف وضو ہی کافی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَوْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَمْ يُوَقَّتْ لَنَا عَلَى الْجَنَازَةِ قَوْلٌ وَلَا قِرَاءَةٌ، كَبِّرْ مَا كَبَّرَ الْإِمَامُ، أَكْثِرْ مِنْ أَطْيَبِ الْكَلَامِ»
ترجمہ
علقمہ یا مسروق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نماز جنازہ میں ہمارے لیے کوئی خاص کلام یا قرأت مقرر نہیں کی گئی، جتنی بار امام تکبیر کہے تم بھی کہو، اور زیادہ سے زیادہ اچھی باتیں کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «لَأَنْ أَطَأَ عَلَى جَمْرَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَطَأَ عَلَى قَبْرِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ»
ترجمہ
سالم البراد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: ”میرے لیے دہکتے ہوئے انگارے پر پاؤں رکھنا اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھوں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ النَّخَعِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَمْ يُوَقَّتْ لَنَا فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ قِرَاءَةٌ، وَلَا قَوْلٌ، كَبِّرْ مَا كَبَّرَ الْإِمَامُ، وَأَكْثِرْ مِنْ طَيِّبِ الْقَوْلِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نماز جنازہ میں ہمارے لیے کوئی قرأت اور کوئی خاص کلام مقرر نہیں کی گئی، جتنی بار امام تکبیر کہے تم بھی کہو، اور اچھی بات زیادہ سے زیادہ کہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَا تَشْتَرُوا السَّمَكَ فِي الْمَاءِ فَإِنَّهُ غَرَرٌ»
ترجمہ
مسیب بن رافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پانی میں مچھلی نہ خریدو، کیونکہ یہ دھوکے کی بیع ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «الرِّبَا بِضْعٌ، وَسَبْعُونَ بَابًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سود کے ستر سے کچھ اوپر دروازے (طریقے) ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «الصَّفْقَةُ فِي الصَّفْقَتَيْنِ رِبًا»
ترجمہ
عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”ایک بیع میں دو بیع (کی شرط ملانا) سود ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، {فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] ، قَالَ: «طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ»
ترجمہ
عبدالرحمن بن یزید سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے آیت ”تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دو“ [سورۃ الطلاق: 1] کی تفسیر میں فرمایا: ”یعنی حالتِ طہر میں، جماع کیے بغیر۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، " {فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] قَالَ: «طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا لِلسُّنَّةِ ثَلَاثًا طَلَّقَهَا فِي طُهْرٍ وَاحِدَةً، ثُمَّ عَلَيْهَا حَيْضَةٌ بَعْدَ آخِرِ تَطْلِيقَةٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے آیت ”تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دو“ [سورۃ الطلاق: 1] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”یعنی حالتِ طہر میں، جماع کیے بغیر۔ جب کوئی سنت کے مطابق تین طلاقیں دینا چاہے تو ایک طہر میں ایک طلاق دے، پھر آخری طلاق کے بعد اسے ایک حیض آنا چاہیے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَ لِلسُّنَّةِ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا مِنْ غَيْرِ جِمَاعٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جو سنت کے مطابق طلاق دینا چاہے جیسا اللہ عزوجل نے حکم دیا ہے، وہ اسے حالتِ طہر میں، جماع کیے بغیر طلاق دے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] ، قَالَ: " الطَّلَاقُ لِلْعِدَّةِ: أَنْ تُطَلِّقَهَا طَاهِرًا، ثُمَّ تَدَعَهَا حَتَّى تَقْضِيَ عِدَّتَهَا أَوْ تُرَاجِعَهَا إِنْ شِئْتَ " قَالَ شُعْبَةُ: وَأَهْلُ الْكُوفَةِ يَقُولُونَ: «عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ»
ترجمہ
ابواحوص رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت (کے وقت) میں طلاق دو“ [سورۃ الطلاق: 1] کے بارے میں فرمایا: ”عدت کے لیے طلاق یہ ہے کہ تم اسے حالتِ طہر میں طلاق دو، پھر اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ اپنی عدت پوری کر لے، یا چاہو تو رجوع کر لو۔“ شعبہ کہتے ہیں: ”اور اہل کوفہ کہتے ہیں: بغیر جماع کے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ فِي قَوْلِهِ: {فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] ، قَالَ: «مَنْ أَرَادَ الطَّلَاقَ الَّذِي هُوَ الطَّلَاقُ فَلْيُمْهِلْ حَتَّى إِذَا طَهُرَتِ الْمَرْأَةُ مِنَ الْحَيْضِ فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا فِي غَيْرِ جِمَاعٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے آیت ”تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دو“ کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جو (صحیح معنوں میں) طلاق دینا چاہے وہ مہلت دے، یہاں تک کہ جب عورت حیض سے پاک ہو جائے تو اسے حالتِ طہر میں، جماع کیے بغیر طلاق دے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي قَوْلِهِ: {فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] ، قَالَ: " مَنْ أَرَادَ الطَّلَاقَ الَّذِي هُوَ الطَّلَاقُ فَلْيُمْهِلِ الْمَرْأَةَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ فِي غَيْرِ جِمَاعٍ قَالَ لَهَا: اعْتَدِّي، فَإِنْ نَدِمَ وَتَتَبَّعَهَا نَفْسَهُ أَشْهَدَ رَجُلَيْنِ عَلَى رَجْعَتِهَا وَإِلَّا تَرَكَهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، وَلَا يُطَلِّقْهَا ثَلَاثًا وَهِي حَامِلٌ، فَيُنَدِّمْهُ اللهُ، فَيُنْفِقْ عَلَيْهَا حَمْلَهَا وَرَضَاعَهَا "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے آیت ”تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دو“ کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جو (صحیح معنوں میں) طلاق دینا چاہے وہ عورت کو مہلت دے، یہاں تک کہ جب وہ حیض سے پاک ہو (اور اس حالت میں) جماع نہ کیا ہو تو اس سے کہے: عدت شمار کرو۔ پھر اگر وہ نادم ہو اور اس کا دل اسے چاہے تو دو آدمیوں کو اپنے رجوع پر گواہ بنا لے، ورنہ اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو جائے۔ اور اسے حاملہ ہونے کی حالت میں تین طلاقیں نہ دے، ورنہ اللہ اسے نادم کر دے گا، اور اس (حالت) میں اسے اس کے حمل اور دودھ پلانے کا خرچہ دینا پڑے گا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَزَوْجُهَا إِلَى عُمَرَ فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ زَوْجِي طَلَّقَنِي فَانْقَطَعَ عَنِّي الدَّمُ مُنْذُ ثَلَاثِ حِيَضٍ، فَأَتَانِي وَقَدْ وَضَعْتُ مَائِي، وَرَدَدْتُ بَابِي، وَخَلَعْتُ ثِيَابِي، فَقَالَ: قَدْ رَاجَعْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ، فَقَالَ عُمَرُ لِابْنِ مَسْعُودٍ: مَا تَرَى فِيهَا؟ قَالَ: «أَرَى أَنَّهَا امْرَأَتُهُ مَا دُونَ أَنْ تَحِلَّ لَهَا الصَّلَاةُ» ، قَالَ عُمَرُ: «وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ»
ترجمہ
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے امیرالمؤمنین! میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی، پھر تین حیض سے میرا خون بند ہو گیا، تو وہ میرے پاس آئے جبکہ میں نے (غسل کے لیے) اپنا پانی رکھ دیا تھا، اپنا دروازہ بند کر لیا تھا اور اپنے کپڑے اتار دیے تھے، تو انہوں نے کہا: میں نے تجھ سے رجوع کر لیا، میں نے تجھ سے رجوع کر لیا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”میری رائے یہ ہے کہ وہ (اب بھی) اس کی بیوی ہے، جب تک کہ اس کے لیے نماز حلال نہ ہو جائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میری بھی یہی رائے ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: كَانَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَجَاءَ رَجُلٌ وَامْرَأَتُهُ فَقَالَ: طَلَّقْتُهَا ثُمَّ رَاجَعْتُهَا، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَحْمِلْنِي الَّذِي كَانَ مِنْكَ أَنْ أُحَدِّثَ الْأَمْرَ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ عُمَرُ: حَدِّثِينِي، فَقَالَتْ: طَلَّقَنِي، ثُمَّ تَرَكَنِي حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي آخِرِ ثَلَاثِ حِيَضٍ، وَانْقَطَعَ عَنِّي الدَّمُ، وَضَعْتُ غُسْلِي، وَرَدَدْتُ بَابِي، وَنَزَعْتُ ثِيَابِي، فَقَرَعَ الْبَابَ، قَالَ: قَدْ رَجَعْتُكِ قَدْ رَجَعْتُكِ فَتَرَكْتُ غُسْلِي، وَلَبِسْتُ ثِيَابِي، فَقَالَ عُمَرُ: مَا تَقُولُ فِيهَا يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ؟ فَقُلْتُ: «أُرَاهُ أَحَقُّ بِهَا مَا دُونَ أَنْ تَحِلَّ لَهَا الصَّلَاةُ» ، فَقَالَ عُمَرُ: «نِعْمَ مَا رَأَيْتَ، وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ایک آدمی اور اس کی بیوی آئے، اس نے کہا: میں نے اسے طلاق دی تھی، پھر رجوع کر لیا۔ عورت نے کہا: جو کچھ آپ کی طرف سے ہوا اس نے مجھے پورا واقعہ صحیح طرح بیان کرنے سے نہیں روکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے بتاؤ۔ اس نے کہا: اس نے مجھے طلاق دی، پھر مجھے چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب میں تیسرے حیض کے آخر میں تھی اور میرا خون بند ہو گیا تو میں نے اپنا غسل (کا پانی) رکھ دیا تھا، اپنا دروازہ بند کر لیا تھا اور اپنے کپڑے اتار دیے تھے کہ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا: میں نے تجھ سے رجوع کر لیا، میں نے تجھ سے رجوع کر لیا۔ تو میں نے اپنا غسل چھوڑ دیا اور اپنے کپڑے پہن لیے۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے ابن ام عبد! تم اس بارے میں کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: ”میری رائے میں وہ (شوہر) اس کا زیادہ حقدار ہے، جب تک کہ اس کے لیے نماز حلال نہ ہو جائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے بہت اچھی رائے دی، میری بھی یہی رائے ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ، مِثْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَلْقَمَةَ
ترجمہ
ابراہیم سیدنا عمر اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے اسی جیسی روایت بیان کرتے ہیں، البتہ اس میں علقمہ کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى أَبِي يَسْأَلُهُ عَنْهَا، فَقَالَ أَبِي: «كَيْفَ يُفْتِي مُنَافِقٌ؟» فَقَالَ عُثْمَانُ: نُعِيذُكَ بِاللهِ أَنْ تَكُونَ مُنَافِقًا، وَنَعُوذُ بِاللهِ أَنْ نُسَمِّيَكَ مُنَافِقًا، وَنُعِيذُكَ بِاللهِ أَنْ يَكُونَ مِثْلُ هَذَا فِي الْإِسْلَامِ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُبَيِّنْهُ، قَالَ: «فَإِنِّي أَرَى أَنَّهُ أَحَقُّ بِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ، وَتَحِلُّ لَهَا الصَّلَاةُ» قَالَ: فَلَا أَعْلَمُ عُثْمَانَ إِلَّا أَخَذَ ذَلِكَ
ترجمہ
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے میرے والد (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ) کی طرف (کسی کو) بھیجا کہ ان سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھے۔ میرے والد نے کہا: ”ایک منافق کیسے فتویٰ دے سکتا ہے؟“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ آپ منافق ہوں، اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم آپ کو منافق کہیں، اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ایسا شخص اسلام میں ہو اور اس کے فتوے کو واضح کیے بغیر مر جائے۔ میرے والد نے فرمایا: ”میری رائے یہ ہے کہ وہ (شوہر) اس کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ وہ تیسرے حیض سے غسل کر لے اور اس کے لیے نماز حلال ہو جائے۔“ راوی کہتے ہیں: مجھے علم ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسی رائے کو اپنایا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً، فَحَاضَتْ ثَلَاثَ حِيَضْ، فَلَمَّا قَعَدَتْ لِتَغْتَسِلَ جَاءَ زَوْجُهَا فَرَاجَعَهَا، فَقَالَتْ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، فَارْتَفَعَا إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ «فَاسْتَحْلَفَهَا بِاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ رَاجَعَكِ وَقَدْ حَلَّتْ لَكِ الصَّلَاةُ؟ فَلَمْ تَحْلِفْ، فَرَجَعَهَا إِلَيْهِ»
ترجمہ
ابوالبختری بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، پھر اسے تین حیض آئے۔ جب وہ غسل کے لیے بیٹھی تو اس کا شوہر آیا اور اس سے رجوع کر لیا۔ اس نے کہا: تمہیں یہ حق نہیں ہے۔ وہ دونوں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے اس عورت سے اس ذات کی قسم لی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ کیا اس کا شوہر اس وقت رجوع کر چکا تھا جب اس کے لیے نماز حلال ہو چکی تھی؟ تو اس نے قسم نہ اٹھائی، چنانچہ انہوں نے اسے (اس کے شوہر کے) حوالے کر دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، «فِي» الَّتِي تُطَلَّقُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يُدْخَلَ بِهَا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ "
قَالَ: وَأَمَّا الثَّوْرِيُّ فَذَكَرَهُ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِذَا طَلَّقَ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا كَانَ يَرَاهَا بِمَنْزِلَةِ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا»
قَالَ: وَأَمَّا الثَّوْرِيُّ فَذَكَرَهُ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِذَا طَلَّقَ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا كَانَ يَرَاهَا بِمَنْزِلَةِ الَّتِي قَدْ دَخَلَ بِهَا»
ترجمہ
ابووائل سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس عورت کے بارے میں روایت کرتے ہیں جسے مباشرت سے پہلے تین طلاقیں دی جائیں: ”وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کر لے۔“
ثوری نے اسے عاصم کے واسطے سے زر سے، اور زر نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یوں بیان کیا: انہوں نے فرمایا: ”جب کوئی مباشرت سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اسے اسی طرح شمار کرتے تھے جیسے مباشرت کے بعد کی گئی عورت۔“
ثوری نے اسے عاصم کے واسطے سے زر سے، اور زر نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یوں بیان کیا: انہوں نے فرمایا: ”جب کوئی مباشرت سے پہلے تین طلاقیں دے دے تو وہ اسے اسی طرح شمار کرتے تھے جیسے مباشرت کے بعد کی گئی عورت۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، قَالَ: «كَانَ عَبْدُ اللهِ يَجْعَلُهَا بِمَنْزِلَةِ الَمْدَخُولِ بِهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جو اپنی بیوی کو مباشرت سے پہلے تین طلاقیں دے دے، (راوی) بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اسے مباشرت کے بعد کی گئی عورت جیسا شمار کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ أَصْحَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، «أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا طُلِّقَتْ وَهُمْ يَحْسِبُونَ أَنَّ الْحَيْضَةَ قَدْ أَدْبَرَتْ عَنْهَا، وَلَمْ يَتَبَيَّنْ ذَلِكَ أَنَّهَا تَنْتَظِرُ سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تَحِضْ فِيهَا اعْتَدَّتْ بَعْدَ السَّنَةِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ، فَإِنْ حَاضَتْ فِي الثَّلَاثَةِ الْأَشْهُرِ اعْتَدَّتْ بِالْحَيْضِ، وَإِنْ حَاضَتْ فَلَمْ يَتِمَّ حَيْضُهَا بَعْدَمَا اعْتَدَّتْ تِلْكَ الثَّلَاثَةَ الْأَشْهُرِ الَّتِي بَعْدَ السَّنَةِ» ، قَالَ: «لَا تَعْجَلْ عَلَيْهَا حَتَّى تَعْلَمَ أَتَمَّ حَيْضُهَا أَمْ لَا»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے روایت ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ تھا کہ جب کوئی عورت طلاق دی جائے اور لوگوں کا خیال ہو کہ اس کا حیض ختم ہو چکا ہے مگر یہ واضح نہ ہو، تو وہ ایک سال انتظار کرے۔ اگر اس دوران اسے حیض نہ آئے تو سال کے بعد تین مہینے عدت گزارے۔ اگر ان تین مہینوں میں اسے حیض آ جائے تو وہ حیض کے مطابق عدت گزارے، اور اگر (اس کے بعد) حیض آئے مگر وہ حیض سال کے بعد والے ان تین مہینوں کی عدت گزارنے کے بعد مکمل نہ ہوا ہو (تو بھی احتیاط کرے)۔ انہوں نے فرمایا: ”اس کے بارے میں جلدی نہ کرو یہاں تک کہ معلوم ہو جائے کہ اس کا حیض مکمل ہوا ہے یا نہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَيَتَزَوَّجُ ابْنَتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَتَزَوَّجَهَا فَوَلَدَتْ لَهُ فَقَدِمَ عَلَى عُمَرَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: «فَرِّقْ بَيْنَهُمَا» ، فَقَالَ: إِنَّهَا وَلَدَتْ لَهُ، فَقَالَ: «وَإِنْ وَلَدَتْ عَشَرَةً فَرِّقْ بَيْنَهُمَا»
ترجمہ
ابوعمرو شیبانی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی ہو: کیا وہ اس بیوی کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ چنانچہ اس نے اس سے نکاح کر لیا اور اس سے اولاد بھی ہو گئی۔ پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”دونوں کے درمیان جدائی کرا دو۔“ اس نے کہا: اس سے تو اس کی اولاد بھی ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”چاہے اس سے دس اولاد ہوں، دونوں کے درمیان جدائی کرا دو۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ فِي الْمَوْهُوبَةِ: «إِنْ قَبِلُوهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَهِي أَحَقُّ بِهَا، وَإِنْ لَمْ يَقْبَلُوهَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ»
ترجمہ
مسروق سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے 'موہوبہ' (وہ عورت جسے شوہر اس کے گھر والوں کے حوالے کر دے) کے بارے میں فرمایا: ”اگر وہ (گھر والے) اسے قبول کر لیں تو یہ ایک طلاق شمار ہو گی اور وہ عورت اس کی زیادہ حقدار ہے، اور اگر وہ اسے قبول نہ کریں تو یہ کچھ بھی نہیں (یعنی طلاق واقع نہیں ہوئی)۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِنْ قَبِلُوهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ»
ترجمہ
مسروق سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”اگر وہ اسے قبول کر لیں تو یہ ایک طلاقِ بائن شمار ہو گی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيِّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ وَثَّابٍ، يُحَدِّثُ: عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: أَمْرُكِ بِيَدِكِ، أَوِ اسْتَفْلِحِي بِأَمْرِكِ، أَوْ وَهَبَهَا لِأَهْلِهَا فَقَبِلُوهَا، فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ "
ترجمہ
مسروق سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی سے کہے: تیرا معاملہ تیرے اپنے ہاتھ میں ہے، یا کہے: اپنے معاملے میں خود فیصلہ کر لے، یا اسے اس کے گھر والوں کے حوالے کر دے اور وہ اسے قبول کر لیں، تو یہ ایک طلاقِ بائن شمار ہو گی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ النَّخَعِيُّ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ ثَمَانِيًا، قَالَ: «أَقُلْتَهَا مَرَّةُ وَاحِدَةُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «تُرِيدُ أَنْ تَبِينَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «هُوَ كَمَا قُلْتَ» ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ عَدَدَ النُّجُومِ، قَالَ: «أَقُلْتَهَا مَرَّةً وَاحِدَةً؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «تُرِيدُ أَنْ تَبِينَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «هُوَ كَمَا قُلْتَ» ، ثُمَّ قَالَ: «قَدْ بَيَّنَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الطَّلَاقَ، فَمَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ فَقَدْ بُيِّنَ لَهُ، وَمَنْ لَبَسَ عَلَى نَفْسِهِ جَعَلْنَا بِهِ لَبْسَهُ، وَاللهِ لَا تَلْبِسُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ نَتَحَمَّلُهُ عَنْكُمْ هُوَ كَمَا تَقُولُونَ» قَالَ: وَنَرَى قَوْلَ ابْنَ سِيرِينَ كَلِمَةً لَا أَحْفَظُهَا إِنَّهُ قَالَ: «لَوْ كَانَ عِنْدَهُ نِسَاءُ أَهْلِ الْأَرْضِ - ثُمَّ قَالَ هَذَا - ذَهَبْنَ كُلُّهُنَّ»
ترجمہ
علقمہ بن قیس نخعی بیان کرتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: کل رات میں نے اپنی بیوی کو آٹھ طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے یہ ایک ہی بار میں کہا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم چاہتے ہو کہ وہ تم سے جدا ہو جائے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے فرمایا: ”جیسا تم نے کہا ویسا ہی ہو گیا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ایک اور آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: کل رات میں نے اپنی بیوی کو ستاروں کی گنتی جتنی طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے یہ ایک ہی بار میں کہا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم چاہتے ہو کہ وہ تم سے جدا ہو جائے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے فرمایا: ”جیسا تم نے کہا ویسا ہی ہو گیا۔“ پھر فرمایا: ”اللہ عزوجل نے طلاق کو واضح کر دیا ہے، تو جس نے اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دی اس کے لیے حکم واضح کر دیا گیا، اور جس نے اپنے آپ پر ابہام ڈالا ہم نے اس پر وہی ابہام رکھ دیا۔ اللہ کی قسم! تم اپنے آپ پر ابہام نہیں ڈال سکتے کہ ہم اسے تمہاری طرف سے برداشت کریں، بلکہ جیسا تم کہو گے ویسا ہی ہو گا۔“ راوی کہتے ہیں: ہمارا خیال ہے کہ ابن سیرین نے ایک بات کہی تھی جو مجھے یاد نہیں، غالباً انہوں نے کہا: ”اگر اس کے پاس زمین بھر کی عورتیں ہوتیں - پھر یہ بات کہی - تو وہ سب چلی جاتیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، ثنا عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَمَانِيًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «وَاحِدَةً قُلْتَهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «تُرِيدُ أَنْ تَبِينَ مِنْكَ امْرَأَتُكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «هُوَ كَمَا قُلْتَ» ، ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي عَدَدَ النُّجُومِ، فَقَالَ: «مَرَّةً وَاحِدَةً قُلْتَهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَتُرِيدُ أَنْ تَبِينَ مِنْكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَذَكَرَ عَبْدُ اللهِ عِنْدَ ذَلِكَ نِسَاءَ أَهْلِ الْأَرْضِ بِشَيْءٍ لَا أَحْفَظُهُ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: «قَدْ بَيَّنَ اللهُ لَكُمْ كَيْفَ الطَّلَاقُ، فَمَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ فَقَدْ بُيِّنَ لَهُ، وَمَنْ لَبَسَ جَعَلْنَا بِهِ لَبْسَهُ، وَاللهِ لَا تَلْبِسُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَنَتَحَمَّلُهُ عَنْكُمْ، هُوَ كَمَا تَقُولُونَ»
ترجمہ
علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی کو آٹھ طلاقیں دے دیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا تم نے یہ ایک ہی بار میں کہا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری بیوی تم سے جدا ہو جائے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے فرمایا: ”جیسا تم نے کہا ویسا ہی ہو گیا۔“ پھر ایک اور آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی کو ستاروں کی گنتی جتنی طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے یہ ایک ہی بار میں کہا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے پوچھا: ”تو کیا تم چاہتے ہو کہ وہ تم سے جدا ہو جائے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ راوی کہتے ہیں: اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے زمین کی عورتوں کے بارے میں کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ نے تمہارے لیے طلاق کا طریقہ واضح کر دیا ہے، تو جس نے اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دی اس کے لیے حکم واضح کر دیا گیا، اور جس نے ابہام ڈالا ہم نے اس پر وہی ابہام رکھ دیا۔ اللہ کی قسم! تم اپنے آپ پر ابہام نہیں ڈال سکتے کہ ہم اسے تمہاری طرف سے برداشت کریں، بلکہ جیسا تم کہو گے ویسا ہی ہو گا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: جَاءَ ابْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي تِسْعًا وَتِسْعِينَ، وَإِنِّي سَأَلْتُ فَقِيلَ: قَدْ بَانَتْ مِنِّي، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «لَقَدْ أَحَبُّوا أَنْ تُفِرَّقَ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا» ، قَالَ: فَمَا تَقُولُ رَحِمَكَ اللهُ؟ فَظَنَّ أَنَّهُ سَيُرَخِّصُ لَهُ، فَقَالَ: «ثَلَاثٌ تُبِينُهَا مِنْكَ، وَسَائِرُهُنَّ عُدْوَانٌ»
ترجمہ
علقمہ بیان کرتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی کو ننانوے طلاقیں دے دیں، اور میں نے پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ مجھ سے جدا ہو چکی ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جن لوگوں نے یہ بتایا انہوں نے چاہا کہ تمہارے اور اس کے درمیان جدائی ہو جائے۔“ اس نے کہا: تو آپ کیا فرماتے ہیں، اللہ آپ پر رحم کرے؟ (راوی کہتے ہیں) اس نے گمان کیا کہ وہ اسے کوئی رخصت دیں گے، تو انہوں نے فرمایا: ”تین طلاقیں تجھ سے اسے جدا کر دیتی ہیں، اور باقی سب زیادتی ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللهِ، فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي تِسْعِينَ، وَإِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا، وَإِنَّ نَاسًا يُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنِي وَبَيْنَ أَهْلِي، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّمَا يَكْفِيكَ ثَلَاثٌ، وَسَائِرُهُنَّ عُدْوَانٌ»
ترجمہ
علقمہ بیان کرتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی کو نوے طلاقیں دے دیں، اور اس سے میرا ایک بچہ بھی ہے، اور کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ میرے اور میرے گھر والوں کے درمیان جدائی کرا دیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں تو صرف تین (طلاقیں ہی کافی) ہیں، اور باقی سب زیادتی ہیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا»
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَأَمَّا الثَّوْرِيُّ فَذَكَرَهُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنْ كَانَ نَوَى طَلَاقًا، وَإِلَّا فَهِيَ يَمِينٌ»
قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَأَمَّا الثَّوْرِيُّ فَذَكَرَهُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنْ كَانَ نَوَى طَلَاقًا، وَإِلَّا فَهِيَ يَمِينٌ»
ترجمہ
مجاہد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”حرام (کہنے) میں قسم کا حکم ہے، جس کا کفارہ دیا جائے گا۔“
عبدالرزاق کہتے ہیں: ثوری نے اسے اشعث، حکم اور ابراہیم کے واسطے سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یوں روایت کیا: انہوں نے فرمایا: ”اگر کہنے والے نے طلاق کی نیت کی ہو تو وہ طلاق ہے، ورنہ یہ قسم ہے۔“
عبدالرزاق کہتے ہیں: ثوری نے اسے اشعث، حکم اور ابراہیم کے واسطے سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یوں روایت کیا: انہوں نے فرمایا: ”اگر کہنے والے نے طلاق کی نیت کی ہو تو وہ طلاق ہے، ورنہ یہ قسم ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «فِي الْحَرَامِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ»
ترجمہ
مجاہد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”حرام (کہنے) میں قسم کا کفارہ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جُوَيْبِرٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ، أَنَّ عُمَرَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَا: «فِي الْحَرَامِ كَفَّارَةُ يَمِينٍ»
ترجمہ
ضحاک بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”حرام (کہنے) میں قسم کا کفارہ ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جَرِيحٍ قَالَ: بَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ: أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: إِنْ طَلَّقَ مَا لَمْ يَنْكِحْ فَهُوَ جَائِزٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَخْطَأَ فِي هَذَا، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ، ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} [الأحزاب: ٤٩] ، " وَلَمْ يَقُلْ: إِذَا طَلَّقْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ، ثُمَّ نَكَحْتُمُوهُنَّ "
ترجمہ
ابن جریج بیان کرتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر کوئی نکاح سے پہلے ہی طلاق دے دے تو وہ نافذ ہو جاتی ہے۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”انہوں نے اس میں غلطی کی ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو، پھر انہیں چھونے سے پہلے طلاق دے دو“ [سورۃ الاحزاب: 49]، اور یہ نہیں فرمایا: جب تم مومن عورتوں کو طلاق دو، پھر ان سے نکاح کرو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ، وَامْرَأَةٌ فِي تَحْرِيمٍ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ قَدْ بَيَّنَ فَمَنْ أَتَى الْأَمْرَ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقَدْ بُيِّنَ، وَمَنْ خَالَفَ فَوَاللهِ مَا نُطِيقُ خِلَافَكُمْ»
ترجمہ
نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا کہ ان کے پاس ایک مرد اور عورت (حرام قرار دینے کے) کسی مسئلے میں آئے، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ نے (حکم) واضح کر دیا ہے، تو جو معاملے کو اس کے صحیح رخ سے کرے اس کے لیے (حکم) واضح ہو چکا، اور جو مخالفت کرے تو اللہ کی قسم! ہم تمہاری مخالفت کی طاقت نہیں رکھتے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ وَبَرَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ، قَالَ: آلَى مِنِ امْرَأَتِهِ عَشَرَةَ أَيَّامٍ، فَسَأَلَ عَنْهَا ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «إِنْ مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَهُوَ إِيلَاءٌ»
ترجمہ
ایک شخص بیان کرتے ہیں کہ اس نے اپنی بیوی سے دس دن کے لیے قسم کھائی، پھر اس کے بارے میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا، انہوں نے فرمایا: ”اگر چار مہینے گزر جائیں تو یہ ایلاء ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: آلَى النُّعْمَانُ مِنِ امْرَأَتِهِ وَكَانَ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَضَرَبَ فَخِذَهُ، وَقَالَ: «إِذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَاعْتَرِفْ بِتَطْلِيقَةٍ»
ترجمہ
ابوقلابہ بیان کرتے ہیں: نعمان نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا، اور وہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو انہوں نے اس کی ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ”جب چار مہینے گزر جائیں تو (خود) ایک طلاق کا اقرار کر لو۔“
…