المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ النَّخَعِيُّ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ ثَمَانِيًا، قَالَ: «أَقُلْتَهَا مَرَّةُ وَاحِدَةُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «تُرِيدُ أَنْ تَبِينَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «هُوَ كَمَا قُلْتَ» ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ عَدَدَ النُّجُومِ، قَالَ: «أَقُلْتَهَا مَرَّةً وَاحِدَةً؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «تُرِيدُ أَنْ تَبِينَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «هُوَ كَمَا قُلْتَ» ، ثُمَّ قَالَ: «قَدْ بَيَّنَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الطَّلَاقَ، فَمَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ فَقَدْ بُيِّنَ لَهُ، وَمَنْ لَبَسَ عَلَى نَفْسِهِ جَعَلْنَا بِهِ لَبْسَهُ، وَاللهِ لَا تَلْبِسُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ نَتَحَمَّلُهُ عَنْكُمْ هُوَ كَمَا تَقُولُونَ» قَالَ: وَنَرَى قَوْلَ ابْنَ سِيرِينَ كَلِمَةً لَا أَحْفَظُهَا إِنَّهُ قَالَ: «لَوْ كَانَ عِنْدَهُ نِسَاءُ أَهْلِ الْأَرْضِ - ثُمَّ قَالَ هَذَا - ذَهَبْنَ كُلُّهُنَّ»علقمہ بن قیس نخعی بیان کرتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: کل رات میں نے اپنی بیوی کو آٹھ طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے یہ ایک ہی بار میں کہا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم چاہتے ہو کہ وہ تم سے جدا ہو جائے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے فرمایا: ”جیسا تم نے کہا ویسا ہی ہو گیا۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ایک اور آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا: کل رات میں نے اپنی بیوی کو ستاروں کی گنتی جتنی طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم نے یہ ایک ہی بار میں کہا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم چاہتے ہو کہ وہ تم سے جدا ہو جائے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ انہوں نے فرمایا: ”جیسا تم نے کہا ویسا ہی ہو گیا۔“ پھر فرمایا: ”اللہ عزوجل نے طلاق کو واضح کر دیا ہے، تو جس نے اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دی اس کے لیے حکم واضح کر دیا گیا، اور جس نے اپنے آپ پر ابہام ڈالا ہم نے اس پر وہی ابہام رکھ دیا۔ اللہ کی قسم! تم اپنے آپ پر ابہام نہیں ڈال سکتے کہ ہم اسے تمہاری طرف سے برداشت کریں، بلکہ جیسا تم کہو گے ویسا ہی ہو گا۔“ راوی کہتے ہیں: ہمارا خیال ہے کہ ابن سیرین نے ایک بات کہی تھی جو مجھے یاد نہیں، غالباً انہوں نے کہا: ”اگر اس کے پاس زمین بھر کی عورتیں ہوتیں - پھر یہ بات کہی - تو وہ سب چلی جاتیں۔“