حدیث نمبر: 9588
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ أَصْحَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، «أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا طُلِّقَتْ وَهُمْ يَحْسِبُونَ أَنَّ الْحَيْضَةَ قَدْ أَدْبَرَتْ عَنْهَا، وَلَمْ يَتَبَيَّنْ ذَلِكَ أَنَّهَا تَنْتَظِرُ سَنَةً، فَإِنْ لَمْ تَحِضْ فِيهَا اعْتَدَّتْ بَعْدَ السَّنَةِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ، فَإِنْ حَاضَتْ فِي الثَّلَاثَةِ الْأَشْهُرِ اعْتَدَّتْ بِالْحَيْضِ، وَإِنْ حَاضَتْ فَلَمْ يَتِمَّ حَيْضُهَا بَعْدَمَا اعْتَدَّتْ تِلْكَ الثَّلَاثَةَ الْأَشْهُرِ الَّتِي بَعْدَ السَّنَةِ» ، قَالَ: «لَا تَعْجَلْ عَلَيْهَا حَتَّى تَعْلَمَ أَتَمَّ حَيْضُهَا أَمْ لَا»
ترجمہ

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے روایت ہے کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ تھا کہ جب کوئی عورت طلاق دی جائے اور لوگوں کا خیال ہو کہ اس کا حیض ختم ہو چکا ہے مگر یہ واضح نہ ہو، تو وہ ایک سال انتظار کرے۔ اگر اس دوران اسے حیض نہ آئے تو سال کے بعد تین مہینے عدت گزارے۔ اگر ان تین مہینوں میں اسے حیض آ جائے تو وہ حیض کے مطابق عدت گزارے، اور اگر (اس کے بعد) حیض آئے مگر وہ حیض سال کے بعد والے ان تین مہینوں کی عدت گزارنے کے بعد مکمل نہ ہوا ہو (تو بھی احتیاط کرے)۔ انہوں نے فرمایا: ”اس کے بارے میں جلدی نہ کرو یہاں تک کہ معلوم ہو جائے کہ اس کا حیض مکمل ہوا ہے یا نہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9588
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 324، حدیث 9623