حدیث نمبر: 9589
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَيَتَزَوَّجُ ابْنَتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَتَزَوَّجَهَا فَوَلَدَتْ لَهُ فَقَدِمَ عَلَى عُمَرَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: «فَرِّقْ بَيْنَهُمَا» ، فَقَالَ: إِنَّهَا وَلَدَتْ لَهُ، فَقَالَ: «وَإِنْ وَلَدَتْ عَشَرَةً فَرِّقْ بَيْنَهُمَا»
ترجمہ

…ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی ہو: کیا وہ اس بیوی کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ چنانچہ اس نے اس سے نکاح کر لیا اور اس سے اولاد بھی ہو گئی۔ پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”دونوں کے درمیان جدائی کرا دو۔“ اس نے کہا: اس سے تو اس کی اولاد بھی ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”چاہے اس سے دس اولاد ہوں، دونوں کے درمیان جدائی کرا دو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9589
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 325، حدیث 9624