المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى أَبِي يَسْأَلُهُ عَنْهَا، فَقَالَ أَبِي: «كَيْفَ يُفْتِي مُنَافِقٌ؟» فَقَالَ عُثْمَانُ: نُعِيذُكَ بِاللهِ أَنْ تَكُونَ مُنَافِقًا، وَنَعُوذُ بِاللهِ أَنْ نُسَمِّيَكَ مُنَافِقًا، وَنُعِيذُكَ بِاللهِ أَنْ يَكُونَ مِثْلُ هَذَا فِي الْإِسْلَامِ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُبَيِّنْهُ، قَالَ: «فَإِنِّي أَرَى أَنَّهُ أَحَقُّ بِهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ مِنَ الْحَيْضَةِ الثَّالِثَةِ، وَتَحِلُّ لَهَا الصَّلَاةُ» قَالَ: فَلَا أَعْلَمُ عُثْمَانَ إِلَّا أَخَذَ ذَلِكَابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے میرے والد (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ) کی طرف (کسی کو) بھیجا کہ ان سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھے۔ میرے والد نے کہا: ”ایک منافق کیسے فتویٰ دے سکتا ہے؟“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ آپ منافق ہوں، اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم آپ کو منافق کہیں، اور ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ایسا شخص اسلام میں ہو اور اس کے فتوے کو واضح کیے بغیر مر جائے۔ میرے والد نے فرمایا: ”میری رائے یہ ہے کہ وہ (شوہر) اس کا زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ وہ تیسرے حیض سے غسل کر لے اور اس کے لیے نماز حلال ہو جائے۔“ راوی کہتے ہیں: مجھے علم ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسی رائے کو اپنایا۔