کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ [ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ ] وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ " وَلَا مَنَّانٌ " ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( والدین کا ) نافرمان شخص باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص اور تقدیر کو جھٹلانے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اور نہ ہی احسان جتلانے والا شخص ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عتبہ دمشقی ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11856
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2182) اخرجه احمد فى المسند (441/4)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ مَسْخٌ أَلَا وَذَاكَ فِي الْمُكَذِّبِينَ فِي الْقَدَرِ وَالزِّنْدِيقِيَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” عنقریب اس امت میں مسخ ( کئے جانے کا عذاب ) نازل ہو گا ، خبردار ! وہ تقدیر کو جھٹلانے والوں اور زندیقوں کے لئے ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے جس پر ضعیف ہونا غالب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11857
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (108/2)»
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ قُعُودًا إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ : إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَحْدَثَ حَدَثًا ، فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَلَا تَقْرَأَنَّ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي مَسْخٌ وَقَذْفٌ وَهُوَ فِي أَهْلِ الزَّنْدَقَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: فلاں شخص نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، اس نے اہل شام سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں یہ بات بتائی ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ اس نے نیا مؤقف اختیار کر لیا ہے ، اگر یہ بات ٹھیک ہے ، تو پھر تم اُسے میری طرف سے سلام نہ کہنا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب میری امت میں مسخ کئے جانے اور پتھر مارے جانے ( کا عذاب نازل ہو گا ) اور وہ ( عذاب ) زندیقوں میں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11858
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6208)»
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ [ السَّاعِدِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] قَالَ : " مَا كَانَتْ زَنْدَقَةٌ إِلَّا بَيْنَ يَدَيِ التَّكْذِيبِ بِالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی زندیقیت ہو ، اُس سے پہلے تقدیر کو جھٹلانا ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اعین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11859
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطيراني فى المعجم الكبير (5944)»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي : الِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ ، وَحَيْفُ السُّلْطَانِ ، وَتَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَكَذَّبَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ بَقِيَّةُ الْأَئِمَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے اپنی امت کے بارے تین چیزوں کے حوالے سے اندیشہ ہے ، ستاروں کی وجہ سے بارش کے نزول کا خواہش مند ہونا ، سلطان ( یعنی حکمرانوں ) کا ظلم ، اور تقدیر کو جھٹلانا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم اسدی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام أحمد نے اسے جھوٹا کہا: ہے ، باقی ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11860
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (112) اخرجه البزار فى المسند (2181) اخرجه أبو يعلى فى المسند (7470 و 7462) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1583) اخرجه احمد فى المسند (89/5)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسًا : تَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ وَتَصْدِيقٌ بِالنُّجُومِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مُقْتَصِرًا عَلَى اثْنَتَيْنِ مِنَ الْخَمْسِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں پانچ چیزوں کے حوالے سے اندیشہ ہے ، تقدیر کو جھٹلانا ، ستاروں کی تصدیق کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اسی طرح نقل کی ہے کہ اس میں پانچ چیزوں میں سے دو چیزوں کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن عدی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11861
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4135)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي فِي آخِرِ زَمَانِهَا النُّجُومُ ، وَتَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ ، وَحَيْفُ السُّلْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ یہ ہے کہ آخری زمانے میں ستاروں ( کے اثر انداز ہونے ) تقدیر کو جھٹلانے اور حکمران کا ظلم ( اُن میں ہو گا ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ کمزور ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11862
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَاكُ أُمَّتِي فِي ثَلَاثٍ : فِي الْعَصَبِيَّةِ ، وَالْقَدَرِيَّةِ ، وَالرِّوَايَةِ مِنْ غَيْرِ ثَبْتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، فِيهِ هَارُونُ بْنُ هَارُونَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کی ہلاکت تین چیزوں کی وجہ سے ہو گی ، عصبیت ، تقدیر کا انکار کرنا اور غیر مستند لوگوں سے روایت کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن بارون ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11863
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (191) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11142)»
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي ثَلَاثًا : زَلَّةُ عَالِمٍ ، وَجِدَالُ مُنَافِقٍ بِالْقُرْآنِ ، وَالتَّكْذِيبُ بِالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں تین چیزوں کا اندیشہ ہے ، عالم کی لغزش ، منافق کا قرآن کی بنیاد پر بحث کرنا اور تقدیر کا انکار کیا جانا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11864
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : ذُكِرَ الْقَدَرُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أُمَّتِي لَا تَزَالُ مُتَمَسِّكَةً بِدِينِهَا مَا لَمْ يُكَذِّبُوا بِالْقَدَرِ ، فَإِذَا كَذَّبُوا بِالْقَدَرِ فَعِنْدَ ذَلِكَ هَلَاكُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو الْبَكَرَاتِ تَابِعِيٌّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تقدیر کا ذکر کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت مسلسل دین کو مضبوطی سے تھامے رکھے گی ، جب تک وہ لوگ تقدیر کو نہیں جھٹلائیں گے ، جب وہ تقدیر کو جھٹلا دیں گے ، تو ایسے وقت میں اُن کی ہلاکت ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابوبکرات نامی راوی تابعی ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11865
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يَكُنْ شْرَكٌ مُنْذُ أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ إِلَّا كَانَ بَدْؤُهُ التَّكْذِيبَ بِالْقَدَرِ ، وَمَا أَشْرَكَتْ أُمَّةٌ إِلَّا بِتَكْذِيبٍ بِالْقَدَرِ ، وَإِنَّكُمْ سَتُبْتَلَوْنَ بِهِ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَكُونُوا أَنْتُمْ سَائِلِينَ ، وَلَا تُمَكِّنُوهُمْ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَيُدْخِلُوا عَلَيْكُمُ الشُّبُهَاتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ ، ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ أَحْمَدُ ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو آسمان سے زمین کی طرف نازل کیا ہے ، اس کے بعد شرک صرف اس وقت ہوا ، جب اس سے پہلے تقدیر انکار کیا گیا ، اور کسی بھی امت نے تقدیر کی تکذیب کے ذریعے ہی شرک کیا ، اے امت ! تم لوگ بھی اس کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا ہو گے ، جب تم ایسے لوگوں سے ملو ، تو تم سوال کرنے والے ہونا ، تم انہیں سوالات اُٹھانے کا موقع نہ دینا ، ورنہ وہ تم پر شبہات وارد کر دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلم بن سالم ہے ، جسے جمہور ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے جیسے امام أحمد ، امام ابن مبارک اور ان کے بعد والے ائمہ ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11866
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَلَكَتْ أُمَّةٌ قَطُّ إِلَّا بِالْأَنْوَاءِ ، وَمَا كَانَ بَدْءُ إِشْرَاكِهَا إِلَّا التَّكْذِيبَ بِالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَا هَلَكَتْ أُمَّةٌ قَطُّ حَتَّى تُشْرِكَ بِاللَّهِ ، وَلَا أَشْرَكَتْ أُمَّةٌ بِاللَّهِ حَتَّى يَكُونَ أَوَّلُ شِرْكِهَا التَّكْذِيبَ بِالْقَدَرِ " . ¤ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ النَّصْرِيُّ مَنْ بَنِي نَصْرٍ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُعْتَبَرُ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی بھی امت ستاروں پر یقین رکھنے کی وجہ سے ہی ہلاکت کا شکار ہوئی اور اس کے شرک میں مبتلا ہونے کا آغاز ، ہمیشہ تقدیر کو جھٹلانے کے ذریعے ہوا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” کوئی بھی امت اس وقت تک ہلاکت کا شکار نہیں ہوئی ، جب تک اس نے اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا ، اور کسی بھی اُمت نے اللہ کا شریک اُس وقت تک نہیں ٹھہرایا ، جب تک ان کے شرک کے آغاز میں تقدیر کو جھٹلانا نہیں آیا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن یزید نصری ہے ، جس کا تعلق بن بنو نصر سے ہے ، جسے ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : اس پر اعتبار کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11867
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1059)»
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ إِلَّا وَفِي أُمَّتِهِ قَدَرِيَّةٌ وَمُرْجِئَةٌ يُشَوِّشُونَ عَلَيْهِ أَمْرَ أُمَّتِهِ ، أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ لَعَنَ الْقَدَرِيَّةَ وَالْمُرْجِئَةَ عَلَى لِسَانِ سَبْعِينَ نَبِيًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ حُصَيْنٍ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا تو اس کی امت میں قدریہ فرقے کے لوگ مرجئہ فرقے کے لوگ ہوتے ہیں ، جو اس کی امت کے معاملے کو تشویش کا شکار کرتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ نے ستر انبیاء کرام کی زبانی قدریہ لوگوں اور مرجئہ لوگوں ( کے فرقے ) پر لعنت کی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ کمزور ہے اور ایک راوی یزید بن حصین ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11868
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (117/20)»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ رَجُلًا قَدِمَ عَلَيْنَا يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ ، قَالَ : دُلُّونِي عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ عَمِيَ قَالَ : مَا تَصْنَعُ بِهِ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَئِنِ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ لَأَعُضَّنَّ أَنْفَهُ حَتَّى أَقْطَعَهُ ، وَلَئِنْ وَقَعَتْ عُنُقُهُ فِي يَدَيَّ لَأَدُقَنَّهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كَأَنِّي بِنِسَاءِ بَنِي فِهْرٍ يَطُفْنَ بِالْخَزْرَجِ ، تَصْطَفِقُ أَلْيَاتُهُنَّ مُشْرِكَاتٍ ، هَذَا أَوَّلُ شِرْكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَنْتَهِيَنَّ بِهِمْ سَوْرَاتُهُمْ حَتَّى يُخْرِجُوا اللَّهَ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ خَيْرًا كَمَا أَخْرَجُوهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ شَرًّا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَفِيهِمَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَكِّيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَفِي إِحْدَاهُمَا رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَسَمَّاهُ فِي الْأُخْرَى الْعَلَاءَ بْنَ الْحَجَّاجِ ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ وَقَالَ فِي الْمُسْنَدِ : إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُبَيْدٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبید ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ” سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ کہا: گیا : ایک شخص ہمارے پاس آیا ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : مجھے اس شخص کے پاس لے کر جاؤ ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ اس وقت نابینا ہو چکے تھے ، ایک شخص نے دریافت کیا : اے ابن عباس ! آپ اس کے ساتھ کیا کریں گے ؟ انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر میں نے اس پر ق ابوپا لیا ، تو میں اس کی ناک کو کاٹ دوں گا اور اگر اس کی گردن تک میرا ہاتھ پہنچ گیا ، تو میں اس کی گردن کو توڑ دوں گا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے نظر آ رہا ہے کہ بنوفہر کی خواتین ، خزرج کا طواف کریں گی ، اور ان کے جسم شرک کرتے ہوئے حرکت کریں گے ، یہ اس امت میں پہلا شرک ہو گا اور اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، ان لوگوں کی رائے کی خرابی انہیں روک دے گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے نکال دیں گے کہ اس نے بھلائی کو پیدا کیا ہے ، جس طرح انہوں نے پہلے اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے نکال دیا ہو گا کہ اس نے برائی کو مقدر کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو حوالوں کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبید مکی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ان دونوں روایات میں سے ایک کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، دوسری سند میں انہوں نے اس کا نام علاء بن حجاج بیان کیا ہے جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ” مسند “ میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : محمد بن عبید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11869
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3055 و 3056)»
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَذَكَرْنَا الْقَدَرَ ، فَغَضِبَ ابْنُ عَبَّاسٍ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ : لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ فِي الْقَوْمِ أَحَدًا مِنْهُمْ لَأَخَذْتُهُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ ثُمَّ قَبَضَهُ إِلَّا جَعَلَ بَعْدَهُ فَتْرَةً ، وَمَلَأَ مِنْ تِلْكَ الْفَتْرَةِ جَهَنَّمَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَدَقَةَ بْنِ سَابِقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَزَادَ " وَهُمُ الْقَدَرِيَّةُ " . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : میں ایک حلقے میں موجود تھا ، جس میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے ، ہم نے تقدیر کا ذکر کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما شدید غصے میں آ گئے اور بولے : اگر مجھے پتہ چل جائے کہ لوگوں میں ، اُن میں سے کوئی ایک فرد ہے ( جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں ) تو میں اُسے پکڑ لوں گا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب بھی اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث کیا اور پھر اسے اُٹھا لیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس نبی کے بعد ایک زمانہ ایسا رکھا ، جس میں کوئی نبی نہیں آیا ، اور اس زمانے کے لوگ جہنم میں جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صدقہ بن سابق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اور وہ لوگ قدریہ ہیں ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11870
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا كَانَتْ بَعْدَهُ وَقْفَةٌ تُمْلَأُ بِهَا جَهَنَّمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب بھی اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث کیا ، تو اس نبی کے بعد ایک وقفہ آیا اور یہ وہ لوگ ہیں ، جن کے ذریعے جہنم کو بھرا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد اعمیٰ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11871
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12742)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّكَ تَبْقَى بَعْدِي حَتَّى تُدْرِكَ قَوْمًا يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ اللَّهِ الذُّنُوبَ عَلَى عِبَادِهِ ، اسْتَقُوا كَلَامَهُمْ ذَلِكَ مِنَ النَّصْرَانِيَّةِ ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَابْرَأْ إِلَى اللَّهِ مِنْهُمْ " ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِنْهُمْ كَمَا أَمَرَ نَبِيُّكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” ہو سکتا ہے کہ تم میرے بعد زندہ رہو ، یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم کے زمانے تک پہنچ جاؤ ، جو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر کو جھٹلاتے ہوں گے ، کہ گناہوں کی نسبت وہ بندوں کی طرف کرتے ہوں گے ، انہوں نے یہ کلام عیسائیوں سے لیا ہو گا ، جب اس طرح کی صورت حال ہو ، تو تم اللہ تعالیٰ کے سامنے اُن لوگوں سے لاتعلق ہونے کا اظہار کرنا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں ہاتھ بلند کر کے یہ کہتے تھے : ” اے اللہ ! میں ان لوگوں سے لاتعلق ہونے کا اظہار کرتا ہوں ، جس طرح تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زیاد بن سمعان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11872
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11179)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقَدَرِيَّةُ وَالْمُرْجِئَةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، فَإِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هَارُونَ بْنِ مُوسَى الْفَرْوِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قدریہ فرقے کے لوگ اور مرجئہ فرقے کے لوگ ، اس امت کے مجوسی ہیں ، اگر وہ بیمار ہو جائیں ، تو تم ان کی عیادت نہ کرو ، اگر وہ مر جائیں ، تو تم اُن کے جنازے میں شریک نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہارون بن موسیٰ فروی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11873
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قدریہ فرقے کے لوگ اس امت کے مجوسی ہیں ، اگر وہ بیمار ہو جائیں ، تو تم ان کی عیادت نہ کرو اور اگر وہ مر جائیں ، تو تم ان کے جنازے میں شریک نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن منظور ہے ، جسے أحمد بن صالح اور دیگر حضرات نے صالح قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (2515)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ أَهْلَ الْقَدَرِ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِقَدَرٍ وَيُصَدِّقُونَ بِقَدَرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے قدریہ فرقے کے لوگوں پر لعنت کی ہے ، جو تقدیر ( کے کچھ حصے ) کو جھٹلاتے ہیں اور تقدیر ( کے کچھ حصے ) کی تصدیق کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11875
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1688) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2883)»
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ : الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللَّهِ ، وَالْمُسْتَحِلُّ لِمَحَارِمِ اللَّهِ ، وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللَّهُ ، وَتَارِكُ السُّنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چھ لوگ ہیں ، جن پر میں نے اور ہر ” مستجاب الدعوات نبی “ نے لعنت کی ہے ، اللہ کی کتاب میں اضافہ کرنے والا شخص ، اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا شخص ، اللہ تعالیٰ کی حرام قرار دی جانے والی چیزوں کو حلال قرار دینے والا شخص ، اور میری عترت کے حوالے سے اُس چیز کو حلال قرار دینے والا شخص ، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ، اور سنت کو ترک کرنے والا شخص ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11876
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6404)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَذَّبَ بِالْقَدَرِ فَقَدْ كَذَّبَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَصَّاصُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تقدیر کو جھٹلاتا ہے ، وہ اس چیز کو جھٹلاتا ہے جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسین قصاص ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11877
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ : ذُكِرَتِ الْقَدَرِيَّةُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ [ عَبْدُ اللَّهِ ] بْنُ عُمَرَ : لُعِنَتِ الْقَدَرِيَّةُ عَلَى لِسَانِ سَبْعِينَ نَبِيًّا وَ [ مُحَمَّدٍ ] نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَجَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ نَادَى مُنَادٍ يُسْمِعُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ : أَيْنَ خُصَمَاءُ اللَّهِ ؟ فَيَقُومُ الْقَدَرِيَّةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى [ فِي الْكَبِيرِ ] بِاخْتِصَارٍ مِنْ رِوَايَةِ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عَمْرٍو ، وَبَقِيَّةُ مُدَلِّسٍ وَحَبِيبٌ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے قدریہ فرقے کا ذکر کیا گیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ” ستر انبیاء کرام علیہم السلام اور ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی قدریہ فرقے کے لوگوں پر لعنت کی گئی ہے ، جب قیامت کا دن ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا اور پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا ، جسے سب پہلے والے اور بعد والے لوگ سنیں گے ، وہ کہے گا : اللہ تعالیٰ کے مقابل لوگ کہاں ہیں ؟ تو قدریہ فرقے کے لوگ اُٹھ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جو بقیہ بن ولید نے حبیب بن عمرو سے روایت نقل کی ہے بقیہ نامی راوی مدلس ہے اور حبیب نامی راوی مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11878
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ نَادَى مُنَادٍ : أَلَا لِيَقُمْ خُصَمَاءُ اللَّهِ وَهُمُ الْقَدَرِيَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ بَقِيَّةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَحَبِيبُ بْنُ عَمْرٍو مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب قیامت کا دن ہو گا ، تو منادی یہ کہے گا : خبردار ! اللہ تعالیٰ کے مقابل فریق کے لوگ کھڑے ہو جائیں ، اور وہ قدریہ فرقے کے لوگ ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں بقیہ کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور وہ مدلس ہے اور اس میں ایک راوی حبیب بن عمرو ہے ، جو مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11879
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي آخِرِ الزَّمَانِ تَأْتِي الْمَرْأَةُ فَتَجِدُ زَوْجَهَا قَدْ مُسِخَ قِرْدًا لِأَنَّهُ لَا يُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَشَّارُ بْنُ قِيرَاطٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخری زمانے میں کوئی عورت آئے گی اور اپنے شوہر کو پائے گی کہ اسے مسخ کر کے بندر بنا دیا گیا ہو گا ، اس کی وجہ یہ ہو گی کہ وہ شخص تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشار بن قیراط ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11880
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ سَرْجٍ وَكَانَ خَارِجِيًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اچھی اور بری ( ہر قسم کی ) تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا ، میں اُس سے لاتعلق ہوں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح بن سرج ہے اور وہ خارجی تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11881
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَكَمِ الثَّقَفِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا ، جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابوحکم ثقفی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11882
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5900)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرْبَعَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : عَاقٌّ ، وَمَنَّانٌ ، وَمُدْمِنُ خَمْرٍ ، وَمُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چار قسم کے لوگ ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا ( والدین کا ) نافرمان ، احسان جتانے والا شخص ، باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص ، اور تقدیر کو جھٹلانے والا شخص ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11883
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7938)»
وَفِي رِوَايَةٍ " ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُمْ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا " فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِي الْآخَرِ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے اور وہ متروک ہے اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11884
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7547)»
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِنْفَانِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ لَا تَنَالُهُمَا شَفَاعَتِي : الْمُرْجِئَةُ وَالْقَدَرِيَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس اُمت کے دو گروہوں کو میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی ، مرجئہ اور قدریہ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11885
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1785)»
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا تَنَالُهُمَا شَفَاعَتِي : الْمُرْجِئَةُ وَالْقَدَرِيَّةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَحْرُ بْنُ كَنِيزٍ السَّقَّاءُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری اُمت کے دو قسم کے گروہوں کو میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی ، مرجئہ اور قدریہ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بحر بن کنیز سقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11886
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ : الْمُرْجِئَةُ وَالْقَدَرِيَّةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قَرِيرُ بْنُ سَهْلٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے دو قسم کے گروہوں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے ، مرجئہ اور قدریہ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قریر بن سہل ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11887
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ : الْمُرْجِئَةُ وَالْقَدَرِيَّةُ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ حَبِيبٍ التَّمَّارُ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَكَذَلِكَ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے دو قسم کے گروہوں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے ، مرجئہ اور قدریہ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن قاسم بن حبیب تمار ہے اور وہ ضعیف ہے عطیہ عوفی کی حالت بھی اسی طرح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11888
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا يَرِدَانِ عَلَيَّ الْحَوْضِ وَلَا يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ : الْقَدَرِيَّةُ وَالْمُرْجِئَةُ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هَارُونَ بْنِ مُوسَى الْفَرْوِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے دو قسم کے لوگ حوض پر میرے پاس نہیں آ سکیں گے ، اور جنت میں داخل نہیں ہوں گے ، مرجئہ اور قدريہ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہارون بن موسیٰ فروی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11889
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ أُمَّةٍ مَجُوسٌ ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ نَصَارَى ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ يَهُودٌ ، وَإِنَّ مَجُوسَ أُمَّتِي الْقَدَرِيَّةُ ، وَنَصَارَاهُمُ الْحَشَيِيَّةُ ، وَيَهُودُهُمُ الْمُرْجِئَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَابِقٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر امت کے مجوسی ہوتے ہیں اور ہر امت کے نصاریٰ ہوتے ہیں اور ہر اُمت کے یہودی ہوتے ہیں ، میری اُمت کے مجوسی قدریہ ہیں ، اُن کے عیسائی حشییہ ہیں اور ان کے یہودی مرجئہ ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سابق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11890
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَرْضَ بِقَضَاءِ اللَّهِ وَيُؤْمِنْ بِقَدَرِهِ فَلْيَلْتَمِسْ إِلَهًا غَيْرَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ فیصلے سے راضی نہیں ہوتا اور اس کی مقرر کردہ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا اسے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود تلاش کر لینا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور مجحم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سہل بن ابوحزم ہے جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11891
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (902)»
وَعَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى : مَنْ لَمْ يَرْضَ بِقَضَائِي وَيَصْبِرْ عَلَى بَلَائِي فَلْيَلْتَمِسْ رَبًّا سِوَائِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ هِنْدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص میری قضا سے راضی نہیں ہوتا اور میری ( دی ہوئی ) آزمائش پر صبر نہیں کرتا اسے میرے علاوہ کوئی اور پروردگار تلاش کر لینا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زیاد بن ہند ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11892
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (320/22)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ قَوْمٌ يُكَذِّبُونَ بِالرَّجْمِ ، وَبِالدَّجَّالِ ، وَبِالشَّفَاعَةِ ، وَبِعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَبِقَوْمٍ يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا امْتَحَشُوا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ : وَيُكَذِّبُونَ بِطُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور یہ ارشاد فرمایا : ” تم لوگوں کے بعد عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو سنگسار ( کرنے کی سزا حق ہونے ) دجال ، شفاعت اور قبر کے عذاب کو جھٹلائیں گے اور ( اس بات کو جھٹلائیں گے ) کہ کچھ لوگوں کو جہنم سے اُن کے کوئلہ ہو جانے کے بعد نکال دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” وہ لوگ سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے کو جھٹلائیں گے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11893
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (156)»
وَعَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : أَنَا رَأَيْتُ غَيْلَانَ - يَعْنِي الْقَدَرِيَّ - مَصْلُوبًا عَلَى بَابِ دِمَشْقَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن عون بیان کرتے ہیں : میں نے غیلان قدری کو دیکھا کہ اسے باب دمشق کے پاس مصلوب کر دیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11894
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (109/2)»
وَعَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، وَذَكَرَ الْجَهْمِيَّةَ فَقَالَ : إِنَّمَا يُحَاوِلُونَ أَنْ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حماد بن زید کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے جہمیہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا: وہ لوگ اس بات کے درپے ہیں کہ آسمان میں کوئی ( یعنی خدا ) نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11895
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (457/6)»