کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: تقدیر کے بارے میں بات چیت کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 11848
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : اجْتَمَعَ أَرْبَعُونَ مِنَ الصَّحَابَةِ يَنْظُرُونَ فِي الْقَدَرِ وَالْجَبْرِ ، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَنَزَلَ الرُّوحُ الْأَمِينُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، اخْرُجْ عَلَى أُمَّتِكَ فَقَدْ أَحْدَثُوا ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ فِي مِثْلِهَا ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ ، وَخَرَجَ عَلَيْهِمْ مُتَلَمِّعًا لَوْنُهُ ، مُتَوَرِّدَةً وَجْنَتَاهُ ، كَأَنَّمَا تَفْقَأُ بِحَبِّ الرُّمَّانِ الْحَامِضِ ، فَنَهَضُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاسِرِينَ أَدْرِعَتَهُمْ ، تَرْعَدُ أَكُفُّهُمْ وَأَذْرُعُهُمْ ، فَقَالُوا : تُبْنَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَقَالَ : " أَوْلَى لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ لَتُوجِبُونَ ، أَتَانِي الرُّوحُ الْأَمِينُ فَقَالَ : اخْرُجْ عَلَى أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ فَقَدْ أَحْدَثَتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : چالیس صحابہ کرام اکٹھے ہو کر تقدیر اور مجبور ہونے کے بارے میں غور و فکر کر رہے تھے ، ان میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ، روح الامین سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور بولے : اے سیدنا محمد ! آپ اپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں ، کیونکہ وہ ایک نئی چیز کے بارے میں مبتلا ہو گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے وقت میں اُن کے پاس تشریف لائے ، جس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف نہیں لاتے تھے ، لوگوں کو اس بات پر حیرانگی ہوئی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ کی رنگت تبدیل تھی ، آپ کی کنپٹیاں پھولی ہوئی تھیں ، اور یوں لگ رہا تھا جیسے آپ پر انار کو ڈال دیا گیا ہے ( یعنی آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ) وہ لوگ تیزی سے اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ان کی ہتھیلیاں اور کلائیاں کپکپا رہی تھیں ، ان لوگوں نے عرض کی : ہم اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے لئے مناسب ہی ہوتا ، اگر تم ( اس کو ) واجب کر دیتے ، روح الامین میرے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ! آپ اپنی امت کے پاس تشریف لے جائیں ، کیونکہ انہوں نے نئی چیز پیدا کر دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11848
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1423)»
حدیث نمبر: 11849
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالُوا : كُنَّا فِي مَجْلِسِ أُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ ، وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْقَدَرَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُغْضَبًا ، فَعَبَسَ وَانْتَهَرَ وَقَطَّبَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَهْ ، اتَّقُوا اللَّهَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، وَادِيَانِ عَمِيقَانِ فَغْرَانِ [ مُظْلِمَانِ ] ، لَا تُهَيِّجُوا عَلَيْكُمْ وَهَجَ النَّارِ " ، ثُمَّ أَمَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَقُومُوا ، ثُمَّ قَامَ وَبَسَطَ يَمِينَهُ وَبَسَطَ إِصْبَعَهُ الشِّمَالَ ، ثُمَّ قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ ، وَأُمَّهَاتِهِمْ ، وَعَشَائِرِهِمْ ، فَرَغَ رَبُّكُمْ ، فَرَغَ رَبُّكُمْ ، فَرَغَ رَبُّكُمْ " ، ثُمَّ بَسَطَ شِمَالَهُ ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنْ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، بِأَسْمَاءِ أَهْلِ النَّارِ ، وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ ، وَأُمَّهَاتِهِمْ ، وَعَشَائِرِهِمْ ، فَرَغَ رَبُّكُمْ ، فَرَغَ رَبُّكُمْ ، فَرَغَ رَبُّكُمْ ، أَعْذَرْتُ ؟ أَنْذَرْتُ ؟ اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ بَلَّغْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ آدَمَ ، قَالَ أَحْمَدُ : أَحَادِيثُهُ مَوْضُوعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء ، سیدنا واثلہ بن اسقع ، سیدنا ابوامامہ اور سیدنا انس بن مالک ضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں : ہم لوگ یہودیوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے ساتھ ایک محفل میں موجود تھے اور تقدیر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کے عالم میں تشریف لائے ، آپ نے ماتھے پر بل ڈالے ہوئے تھے اور چہرے سے ناراضگی کا اظہار ہو رہا تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” رک جاؤ ! اے محمد کی امت ! تم اللہ سے ڈرو ! دو گہری ، کھلے منہ والی ، تاریک وادیاں ہیں ، تم اپنے خلاف آگ کی شدت کو نہ بھڑکاؤ ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو حکم دیا کہ وہ اُٹھ جائیں ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، آپ نے اپنا دایاں ہاتھ پھیلایا اور بائیں ہاتھ کو بند رکھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ بڑے مہربان ، نہایت رحم کرنے والے کی طرف سے ایک تحریر ہے ، جو اہل جنت کے ناموں کے بارے میں ، اُن کے آباء و اجداد ، ان کی ماؤں ، اُن کے خاندانوں کے ناموں کے بارے میں ہے ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ۔ “ پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ پھیلایا ، پھر آپ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ رحمان اور رحیم کی طرف سے آنے والا مکتوب ہے ، جس میں اہل جہنم کے نام ہیں ، ان کے آباء و اجداد ، ان کی ماؤں ان کے خاندانوں کے نام ہیں ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ، تمہارا پروردگار فارغ ہو چکا ہے ، کیا میں نے عذر بیان کر دیا ہے ؟ میں نے ڈرا دیا ہے ؟ اے اللہ میں نے تبلیغ کر دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک عبداللہ بن یزید بن آدم ہے ، امام أحمد کہتے ہیں اس کی نقل کردہ حدیث موضوع ہوتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11849
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7660)»
حدیث نمبر: 11850
وَعَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي ، فَأَمْسِكُوا ، وَإِذَا ذُكِرَ النُّجُومُ ، فَأَمْسِكُوا ، وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ ، فَأَمْسِكُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب میرے اصحاب کا ذکر ہو ، تو رک جاؤ ، جب ستاروں کا ذکر ہو ، تو رک جاؤ اور جب تقدیر کا ذکر ہو ، تو رک جاؤ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11850
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1427)»
حدیث نمبر: 11851
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا ، وَإِذَا ذُكِرَ النُّجُومُ فَأَمْسِكُوا ، وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ فَأَمْسِكُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُسْهِرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب میرے اصحاب کا ذکر ہو ، تو رک جاؤ ، جب ستاروں کا ذکر ہو تو رک جاؤ ، جب تقدیر کا ذکر ہو تو رک جاؤ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسہر بن عبدالملک ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11851
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10448)»
حدیث نمبر: 11852
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا الْقَدَرَ فَإِنَّهُ شُعْبَةٌ مِنَ النَّصْرَانِيَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نِزَارُ بْنُ حِبَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تقدیر ( کا انکار کرنے سے ) بچو ! کیونکہ یہ نصرانیت کا ایک شعبہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نزار بن حبان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11852
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11680)»
حدیث نمبر: 11853
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَابِ الْبَيْتِ وَهُوَ يُرِيدُ الْحُجْرَةَ ، فَسَمِعَ قَوْمًا يَتَنَازَعُونَ بَيْنَهُمْ فِي الْقَدَرِ وَهُمْ يَقُولُونَ : أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ إِنَّهُ كَذَا وَكَذَا ؟ أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ آيَةَ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : فَفَتَحَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَابَ الْحُجْرَةِ فَكَأَنَّمَا فُقِئَ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ ، فَقَالَ : " أَبِهَذَا أُمِرْتُمْ ؟ أَوَ بِهَذَا عَنِيتُمْ ؟ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِأَشْبَاهِ هَذَا ، ضَرَبُوا كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ ، أَمَرَكُمُ اللَّهُ بِأَمْرٍ فَاتَّبِعُوهُ ، وَنَهَاكُمْ فَانْتَهُوا " ، قَالَ : فَلَمْ يَسْمَعِ النَّاسُ بَعْدَ ذَلِكَ أَحَدًا يَتَكَلَّمُ ، حَتَّى مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ فَأَخَذَهُ الْحَجَّاجُ فَقَتَلَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے دروازے سے باہر نکلے ، آپ حجرے میں جانا چاہ رہے تھے ، آپ نے کچھ لوگوں کی آواز سنی جو تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ یہ ارشاد نہیں فرمایا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کھولا اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ( غصے کی شدت کی وجہ سے ) جیسے آپ کے چہرے پر انار انڈیل دیا گیا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے ؟ کیا تم سے یہی بات چاہی گئی ہے ؟ تم سے پہلے لوگ اس طرح کی باتوں کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے کے مقابلے میں پیش کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ تمہیں جس بات کا حکم دیتا ہے ، تم اس کی پیروی کرو اور جس چیز سے اس نے تمہیں منع کیا ہے اس سے باز آ جاؤ ! راوی کہتے ہیں اس کے بعد کبھی کوئی شخص تقدیر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے نہیں سنا گیا ، یہاں تک کہ معبد جہنی کا زمانہ آ گیا ( اور اس نے یہ کام شروع کیا ) تو حجاج نے اسے پکڑ کے اسے قتل کروا دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11853
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1321)»
حدیث نمبر: 11854
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ أَمْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مُوَاتِيًا أَوْ مُقَارِبًا - أَوْ كَلِمَةً تُشْبِهُهَا - مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا فِي الْوِلْدَانِ وَالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت کا معاملہ ہمیشہ ٹھیک رہے گا ، جب تک وہ بچوں اور تقدیر کے بارے میں گفتگو نہیں کریں گے ۔ “ ( روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11854
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2180) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12764)»
حدیث نمبر: 11855
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " آخِرُ الْكَلَامِ فِي الْقَدَرِ شِرَارُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ " لَشِرَارُ أُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ " ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ [ فِي أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ] رِجَالُ الصَّحِيحِ [ غَيْرَ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَلِيفَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ ] . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تقدیر کے بارے میں گفتگو کرنے کو اس امت کے برے لوگوں کے لئے مؤخر کیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” آخری زمانے میں میری امت کے برے لوگوں کے لئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ دو اسناد میں سے ایک میں امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمر بن ابوخلیفہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11855
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2179 و 2178)»