مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11863
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَاكُ أُمَّتِي فِي ثَلَاثٍ : فِي الْعَصَبِيَّةِ ، وَالْقَدَرِيَّةِ ، وَالرِّوَايَةِ مِنْ غَيْرِ ثَبْتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، فِيهِ هَارُونُ بْنُ هَارُونَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کی ہلاکت تین چیزوں کی وجہ سے ہو گی ، عصبیت ، تقدیر کا انکار کرنا اور غیر مستند لوگوں سے روایت کرنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہارون بن بارون ہے اور وہ ضعیف ہے ۔