حدیث نمبر: 11867
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَلَكَتْ أُمَّةٌ قَطُّ إِلَّا بِالْأَنْوَاءِ ، وَمَا كَانَ بَدْءُ إِشْرَاكِهَا إِلَّا التَّكْذِيبَ بِالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَا هَلَكَتْ أُمَّةٌ قَطُّ حَتَّى تُشْرِكَ بِاللَّهِ ، وَلَا أَشْرَكَتْ أُمَّةٌ بِاللَّهِ حَتَّى يَكُونَ أَوَّلُ شِرْكِهَا التَّكْذِيبَ بِالْقَدَرِ " . ¤ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ النَّصْرِيُّ مَنْ بَنِي نَصْرٍ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُعْتَبَرُ بِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کوئی بھی امت ستاروں پر یقین رکھنے کی وجہ سے ہی ہلاکت کا شکار ہوئی اور اس کے شرک میں مبتلا ہونے کا آغاز ، ہمیشہ تقدیر کو جھٹلانے کے ذریعے ہوا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” کوئی بھی امت اس وقت تک ہلاکت کا شکار نہیں ہوئی ، جب تک اس نے اللہ کا شریک نہیں ٹھہرایا ، اور کسی بھی اُمت نے اللہ کا شریک اُس وقت تک نہیں ٹھہرایا ، جب تک ان کے شرک کے آغاز میں تقدیر کو جھٹلانا نہیں آیا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن یزید نصری ہے ، جس کا تعلق بن بنو نصر سے ہے ، جسے ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : اس پر اعتبار کیا جائے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11867
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1059)»