مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11880
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي آخِرِ الزَّمَانِ تَأْتِي الْمَرْأَةُ فَتَجِدُ زَوْجَهَا قَدْ مُسِخَ قِرْدًا لِأَنَّهُ لَا يُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَشَّارُ بْنُ قِيرَاطٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخری زمانے میں کوئی عورت آئے گی اور اپنے شوہر کو پائے گی کہ اسے مسخ کر کے بندر بنا دیا گیا ہو گا ، اس کی وجہ یہ ہو گی کہ وہ شخص تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشار بن قیراط ہے اور وہ ضعیف ہے ۔