مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11865
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : ذُكِرَ الْقَدَرُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أُمَّتِي لَا تَزَالُ مُتَمَسِّكَةً بِدِينِهَا مَا لَمْ يُكَذِّبُوا بِالْقَدَرِ ، فَإِذَا كَذَّبُوا بِالْقَدَرِ فَعِنْدَ ذَلِكَ هَلَاكُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو الْبَكَرَاتِ تَابِعِيٌّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تقدیر کا ذکر کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت مسلسل دین کو مضبوطی سے تھامے رکھے گی ، جب تک وہ لوگ تقدیر کو نہیں جھٹلائیں گے ، جب وہ تقدیر کو جھٹلا دیں گے ، تو ایسے وقت میں اُن کی ہلاکت ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابوبکرات نامی راوی تابعی ہے ، میں اُس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔