حدیث نمبر: 11869
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ رَجُلًا قَدِمَ عَلَيْنَا يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ ، قَالَ : دُلُّونِي عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ عَمِيَ قَالَ : مَا تَصْنَعُ بِهِ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَئِنِ اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ لَأَعُضَّنَّ أَنْفَهُ حَتَّى أَقْطَعَهُ ، وَلَئِنْ وَقَعَتْ عُنُقُهُ فِي يَدَيَّ لَأَدُقَنَّهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كَأَنِّي بِنِسَاءِ بَنِي فِهْرٍ يَطُفْنَ بِالْخَزْرَجِ ، تَصْطَفِقُ أَلْيَاتُهُنَّ مُشْرِكَاتٍ ، هَذَا أَوَّلُ شِرْكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَنْتَهِيَنَّ بِهِمْ سَوْرَاتُهُمْ حَتَّى يُخْرِجُوا اللَّهَ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ خَيْرًا كَمَا أَخْرَجُوهُ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدَّرَ شَرًّا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَفِيهِمَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَكِّيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَفِي إِحْدَاهُمَا رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَسَمَّاهُ فِي الْأُخْرَى الْعَلَاءَ بْنَ الْحَجَّاجِ ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ وَقَالَ فِي الْمُسْنَدِ : إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُبَيْدٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن عبید ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ” سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ کہا: گیا : ایک شخص ہمارے پاس آیا ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : مجھے اس شخص کے پاس لے کر جاؤ ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ اس وقت نابینا ہو چکے تھے ، ایک شخص نے دریافت کیا : اے ابن عباس ! آپ اس کے ساتھ کیا کریں گے ؟ انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر میں نے اس پر ق ابوپا لیا ، تو میں اس کی ناک کو کاٹ دوں گا اور اگر اس کی گردن تک میرا ہاتھ پہنچ گیا ، تو میں اس کی گردن کو توڑ دوں گا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے نظر آ رہا ہے کہ بنوفہر کی خواتین ، خزرج کا طواف کریں گی ، اور ان کے جسم شرک کرتے ہوئے حرکت کریں گے ، یہ اس امت میں پہلا شرک ہو گا اور اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، ان لوگوں کی رائے کی خرابی انہیں روک دے گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے نکال دیں گے کہ اس نے بھلائی کو پیدا کیا ہے ، جس طرح انہوں نے پہلے اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے نکال دیا ہو گا کہ اس نے برائی کو مقدر کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو حوالوں کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبید مکی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ان دونوں روایات میں سے ایک کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، دوسری سند میں انہوں نے اس کا نام علاء بن حجاج بیان کیا ہے جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ” مسند “ میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : محمد بن عبید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11869
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3055 و 3056)»