مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11876
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ : الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللَّهِ ، وَالْمُسْتَحِلُّ لِمَحَارِمِ اللَّهِ ، وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللَّهُ ، وَتَارِكُ السُّنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چھ لوگ ہیں ، جن پر میں نے اور ہر ” مستجاب الدعوات نبی “ نے لعنت کی ہے ، اللہ کی کتاب میں اضافہ کرنے والا شخص ، اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا شخص ، اللہ تعالیٰ کی حرام قرار دی جانے والی چیزوں کو حلال قرار دینے والا شخص ، اور میری عترت کے حوالے سے اُس چیز کو حلال قرار دینے والا شخص ، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ، اور سنت کو ترک کرنے والا شخص ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔