مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11856
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ [ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ ] وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ " وَلَا مَنَّانٌ " ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( والدین کا ) نافرمان شخص باقاعدگی سے شراب پینے والا شخص اور تقدیر کو جھٹلانے والا شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اور نہ ہی احسان جتلانے والا شخص ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عتبہ دمشقی ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔