مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ قُعُودًا إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنَّ فُلَانًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ : إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَحْدَثَ حَدَثًا ، فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَلَا تَقْرَأَنَّ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي مَسْخٌ وَقَذْفٌ وَهُوَ فِي أَهْلِ الزَّنْدَقَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤نافع بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: فلاں شخص نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، اس نے اہل شام سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں یہ بات بتائی ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ اس نے نیا مؤقف اختیار کر لیا ہے ، اگر یہ بات ٹھیک ہے ، تو پھر تم اُسے میری طرف سے سلام نہ کہنا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب میری امت میں مسخ کئے جانے اور پتھر مارے جانے ( کا عذاب نازل ہو گا ) اور وہ ( عذاب ) زندیقوں میں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔