مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11860
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي : الِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ ، وَحَيْفُ السُّلْطَانِ ، وَتَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَكَذَّبَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ بَقِيَّةُ الْأَئِمَّةِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے اپنی امت کے بارے تین چیزوں کے حوالے سے اندیشہ ہے ، ستاروں کی وجہ سے بارش کے نزول کا خواہش مند ہونا ، سلطان ( یعنی حکمرانوں ) کا ظلم ، اور تقدیر کو جھٹلانا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم اسدی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام أحمد نے اسے جھوٹا کہا: ہے ، باقی ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔