مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ قَوْمٌ يُكَذِّبُونَ بِالرَّجْمِ ، وَبِالدَّجَّالِ ، وَبِالشَّفَاعَةِ ، وَبِعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَبِقَوْمٍ يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا امْتَحَشُوا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ : وَيُكَذِّبُونَ بِطُلُوعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور یہ ارشاد فرمایا : ” تم لوگوں کے بعد عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو سنگسار ( کرنے کی سزا حق ہونے ) دجال ، شفاعت اور قبر کے عذاب کو جھٹلائیں گے اور ( اس بات کو جھٹلائیں گے ) کہ کچھ لوگوں کو جہنم سے اُن کے کوئلہ ہو جانے کے بعد نکال دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” وہ لوگ سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے کو جھٹلائیں گے ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔