مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ : ذُكِرَتِ الْقَدَرِيَّةُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ [ عَبْدُ اللَّهِ ] بْنُ عُمَرَ : لُعِنَتِ الْقَدَرِيَّةُ عَلَى لِسَانِ سَبْعِينَ نَبِيًّا وَ [ مُحَمَّدٍ ] نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَجَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ نَادَى مُنَادٍ يُسْمِعُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ : أَيْنَ خُصَمَاءُ اللَّهِ ؟ فَيَقُومُ الْقَدَرِيَّةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى [ فِي الْكَبِيرِ ] بِاخْتِصَارٍ مِنْ رِوَايَةِ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عَمْرٍو ، وَبَقِيَّةُ مُدَلِّسٍ وَحَبِيبٌ : مَجْهُولٌ . ¤محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے قدریہ فرقے کا ذکر کیا گیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ” ستر انبیاء کرام علیہم السلام اور ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی قدریہ فرقے کے لوگوں پر لعنت کی گئی ہے ، جب قیامت کا دن ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا اور پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا ، جسے سب پہلے والے اور بعد والے لوگ سنیں گے ، وہ کہے گا : اللہ تعالیٰ کے مقابل لوگ کہاں ہیں ؟ تو قدریہ فرقے کے لوگ اُٹھ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جو بقیہ بن ولید نے حبیب بن عمرو سے روایت نقل کی ہے بقیہ نامی راوی مدلس ہے اور حبیب نامی راوی مجہول ہے ۔