مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11864
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي ثَلَاثًا : زَلَّةُ عَالِمٍ ، وَجِدَالُ مُنَافِقٍ بِالْقُرْآنِ ، وَالتَّكْذِيبُ بِالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں تین چیزوں کا اندیشہ ہے ، عالم کی لغزش ، منافق کا قرآن کی بنیاد پر بحث کرنا اور تقدیر کا انکار کیا جانا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔