مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11884
وَفِي رِوَايَةٍ " ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُمْ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا " فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِي الْآخَرِ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے اور وہ متروک ہے اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔