مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11862
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي فِي آخِرِ زَمَانِهَا النُّجُومُ ، وَتَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ ، وَحَيْفُ السُّلْطَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ یہ ہے کہ آخری زمانے میں ستاروں ( کے اثر انداز ہونے ) تقدیر کو جھٹلانے اور حکمران کا ظلم ( اُن میں ہو گا ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ کمزور ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔