مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11889
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا يَرِدَانِ عَلَيَّ الْحَوْضِ وَلَا يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ : الْقَدَرِيَّةُ وَالْمُرْجِئَةُ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هَارُونَ بْنِ مُوسَى الْفَرْوِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے دو قسم کے لوگ حوض پر میرے پاس نہیں آ سکیں گے ، اور جنت میں داخل نہیں ہوں گے ، مرجئہ اور قدريہ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہارون بن موسیٰ فروی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔