مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11861
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسًا : تَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ وَتَصْدِيقٌ بِالنُّجُومِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مُقْتَصِرًا عَلَى اثْنَتَيْنِ مِنَ الْخَمْسِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں پانچ چیزوں کے حوالے سے اندیشہ ہے ، تقدیر کو جھٹلانا ، ستاروں کی تصدیق کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اسی طرح نقل کی ہے کہ اس میں پانچ چیزوں میں سے دو چیزوں کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن عدی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔