حدیث نمبر: 11870
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَذَكَرْنَا الْقَدَرَ ، فَغَضِبَ ابْنُ عَبَّاسٍ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ : لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ فِي الْقَوْمِ أَحَدًا مِنْهُمْ لَأَخَذْتُهُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا قَطُّ ثُمَّ قَبَضَهُ إِلَّا جَعَلَ بَعْدَهُ فَتْرَةً ، وَمَلَأَ مِنْ تِلْكَ الْفَتْرَةِ جَهَنَّمَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَدَقَةَ بْنِ سَابِقٍ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَزَادَ " وَهُمُ الْقَدَرِيَّةُ " . ¤
محمد محی الدین

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : میں ایک حلقے میں موجود تھا ، جس میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے ، ہم نے تقدیر کا ذکر کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما شدید غصے میں آ گئے اور بولے : اگر مجھے پتہ چل جائے کہ لوگوں میں ، اُن میں سے کوئی ایک فرد ہے ( جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں ) تو میں اُسے پکڑ لوں گا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب بھی اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث کیا اور پھر اسے اُٹھا لیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس نبی کے بعد ایک زمانہ ایسا رکھا ، جس میں کوئی نبی نہیں آیا ، اور اس زمانے کے لوگ جہنم میں جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صدقہ بن سابق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ” اور وہ لوگ قدریہ ہیں ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب القدر / حدیث: 11870
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح