مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
حدیث نمبر: 11859
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ [ السَّاعِدِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] قَالَ : " مَا كَانَتْ زَنْدَقَةٌ إِلَّا بَيْنَ يَدَيِ التَّكْذِيبِ بِالْقَدَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بھی زندیقیت ہو ، اُس سے پہلے تقدیر کو جھٹلانا ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اعین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔