مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَلَّكَ تَبْقَى بَعْدِي حَتَّى تُدْرِكَ قَوْمًا يُكَذِّبُونَ بِقَدَرِ اللَّهِ الذُّنُوبَ عَلَى عِبَادِهِ ، اسْتَقُوا كَلَامَهُمْ ذَلِكَ مِنَ النَّصْرَانِيَّةِ ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَابْرَأْ إِلَى اللَّهِ مِنْهُمْ " ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِنْهُمْ كَمَا أَمَرَ نَبِيُّكَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” ہو سکتا ہے کہ تم میرے بعد زندہ رہو ، یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم کے زمانے تک پہنچ جاؤ ، جو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر کو جھٹلاتے ہوں گے ، کہ گناہوں کی نسبت وہ بندوں کی طرف کرتے ہوں گے ، انہوں نے یہ کلام عیسائیوں سے لیا ہو گا ، جب اس طرح کی صورت حال ہو ، تو تم اللہ تعالیٰ کے سامنے اُن لوگوں سے لاتعلق ہونے کا اظہار کرنا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں ہاتھ بلند کر کے یہ کہتے تھے : ” اے اللہ ! میں ان لوگوں سے لاتعلق ہونے کا اظہار کرتا ہوں ، جس طرح تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زیاد بن سمعان ہے اور وہ متروک ہے ۔