مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب القدر— تقدیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ يُكَذِّبُ بِالْقَدَرِ وَمَسَائِلِهِمْ وَالزَّنَادِقَةِ . باب: اس شخص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے ، جو تقدیر کو جھٹلاتا ہے اور اس کے مسائل کا بیان اور زندیقوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يَكُنْ شْرَكٌ مُنْذُ أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ إِلَّا كَانَ بَدْؤُهُ التَّكْذِيبَ بِالْقَدَرِ ، وَمَا أَشْرَكَتْ أُمَّةٌ إِلَّا بِتَكْذِيبٍ بِالْقَدَرِ ، وَإِنَّكُمْ سَتُبْتَلَوْنَ بِهِ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَكُونُوا أَنْتُمْ سَائِلِينَ ، وَلَا تُمَكِّنُوهُمْ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَيُدْخِلُوا عَلَيْكُمُ الشُّبُهَاتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ ، ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ أَحْمَدُ ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو آسمان سے زمین کی طرف نازل کیا ہے ، اس کے بعد شرک صرف اس وقت ہوا ، جب اس سے پہلے تقدیر انکار کیا گیا ، اور کسی بھی امت نے تقدیر کی تکذیب کے ذریعے ہی شرک کیا ، اے امت ! تم لوگ بھی اس کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا ہو گے ، جب تم ایسے لوگوں سے ملو ، تو تم سوال کرنے والے ہونا ، تم انہیں سوالات اُٹھانے کا موقع نہ دینا ، ورنہ وہ تم پر شبہات وارد کر دیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلم بن سالم ہے ، جسے جمہور ائمہ نے ضعیف قرار دیا ہے جیسے امام أحمد ، امام ابن مبارک اور ان کے بعد والے ائمہ ، ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔